عوام کو تحفظ دینے کا موجودہ نظام ناکام ہوچکا سپریم کورٹ

مجرم پکڑنے کیلیےجدید ٹیکنالوجی کاسہارالیاجائے،وفاق اورصوبوں سے جرائم،مجرمانہ ذہنیت کے خاتمے کیلیے اقدام کی تفصیلات طلب


Numainda Express February 21, 2015
ٹائی اور سوٹ درآمد کرسکتے ہیں توانسداد دہشت گردی کی ٹیکنالوجی کیوں نہیں؟جسٹس اعجاز، 1992میں دائر مقدمے کی23 سال بعد سماعت کے دوران ریمارکس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جرائم اور معاشرے کے اندر مجرمانہ ذہنیت کے خاتمے کیلیے کیے گئے اقدام کی تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک مجرمانہ ذہنیت تبدیل نہیںکی جاتی جرائم کو ختم کرنے کی کوششیں بے سود ہوں گی۔ یہ ریمارکس جسٹس اعجاز افضل خان نے موجودہ ایم این اے عبدالستار بچانی کی جانب سے کراچی میں اغوا کے واقعات کیخلاف1992میں دائرکی گئی آئینی پٹیشن کی23 سال بعد سماعت کے موقع پر دیے۔ سپریم کورٹ کا ڈویژن بینچ یہ کیس سن رہا ہے۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ عوام کو تحفظ دینے کا موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے، پولیس سیاست زدہ ہوچکی ہے، سیاسی بنیادوں پر پولیس اہلکاروں کے تقرر و تبادلے ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ ہر طرف سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے سے جرائم ختم نہیں ہوںگے، مجرم پکڑنے کیلیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے، ملک میں آج تک فنگر پرنٹس ٹیکنالوجی پر سنجیدگی سے نہیں سوچا گیا، اگر ہم ٹائی اور سوٹ درآمد کرسکتے ہیں تو دہشت گردی کے خاتمے کیلیے ٹیکنالوجی کیوں نہیں؟ فاضل جج نے کہاکہ بدقسمتی سے ہم ایک سنہری دور سے گزر رہے تھے کہ ہمیں دہشت گردی اور جرائم کے عفریت نے جکڑ لیا۔

مقدمے کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشن ملیر نے اعداد وشمار پیش کیے۔ انھوں نے بتایا 2013 میں78افراد اغوا ہوئے اور تمام بازیاب ہوئے، اس عرصے میں80اغوا کاروں کو گرفتار اور 26 کو ہلاک کیا گیا، 2014 میں 110افراد اغوا، 107 بازیاب، 100 اغوا کارگرفتار اور 20 ہلاک کیے گئے۔2015 میں اب تک 6افراد اغوا ہوئے جو بازیاب ہوچکے، 3 اغوا کار اب تک گرفتار کیے جا چکے ہیں۔