ترکی سے تاریخی رشتے
ترکی ادب اور ادیبوں سے ہمارا جو گہرا تعلق انیسویں صدی سے چلا آ رہا ہے آج ہمیں اس کے بارے میں جاننے کی بھی ضرور ت ہے۔
ترک وزیر اعظم نے پاکستان کا رخ کیا اور اس کے ساتھ ہی تجارت، سیاحت، معیشت اور دوسرے معاملات پر تجزیوں اور تبصروں کا ایک سیلاب سا آ گیا۔ اخباری صفحات سے ٹیلی وژن اسکرینوں تک یہی کہا جاتا رہا کہ چین کی طرح ترکی سے بھی ہماری دوستی اٹوٹ ہے اور اس پر کبھی حرف نہیں آ سکتا۔
چند دلچسپ باتیں بھی سامنے آئیں، ان میں سے ایک تحریک ِ خلافت کے حوالے سے تھی۔ اس تحریک کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا لیکن کسی نے یہ کہنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ خلافت کمیٹی کے ڈاکٹر انصاری جب ہندوستانی مسلمانوں اور چند ہندوؤں کے چندے کی رقم اور دونوں فرقوں کی عورتوں کے زیورات اور طبی ساز و سامان کے ساتھ ترکی پہنچے تو انھیں حیرت سے دیکھا گیا۔ ترک قوم کی اکثریت جوش اور ولولے کے ساتھ سلطنت عثمانیہ اور خلافت کے خاتمے کے لیے خونیں جنگ لڑ رہی تھی اور یہاں خلافت عثمانیہ کی بقا کے لیے ہندوستانی مسلمان سجد ے میں گر کر گڑ گڑا رہا تھا۔
ان دنوں مجھے وہ گہرا تعلق بہت یاد آیا جو ترکی اور اردو کے ادب اور ادیبوں کے درمیان تھا۔ یہ رشتہ بیسویں صدی کی ابتداء بلکہ انیسویں صدی کے آخر سے رہا اور آج تک یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ فرق ہوا ہے تو یہ کہ پہلے پنڈت رتن ناتھ سرشار اپنی معرکہ آرا داستان 'فسانہ آزاد' کے ہیرو 'آزاد' کو سلطنت عثمانیہ کی سر بلندی کے لیے شمشیر بہ کف محاذ جنگ پر اپنی دلاوری کے جوہر دکھاتے نظر آتے تھے۔
ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والے پنڈت رتن ناتھ سر شار کی ہزاروں صفحات پر مشتمل داستان 'فسانہ آزاد' کا جائزہ لیجیے تو اس میں عربی محاوروں اور ضرب الامثال جابجا نظر آتے ہیں۔ فارسی اشعار اور غزلیں ہر دو چار صفحے بعد لہریں لیتی ہیں۔ غرض ایک ایسا ہندوستانی سماج ہے جس میں ایک پنڈت قدم قدم پر انشاء اللہ، ماشاء اللہ کہتا دکھائی دیتا ہے۔ رواداری اور وسیع المشربی پر محیط یہ گنگا جمنی تہذیب تاریخ کے نوشتوں میں گم ہو چکی۔ ان نوشتوں کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جائے کہ یہ سب طاقِ نسیاں پر رکھے جا چکے۔
اسی سلسلۂ خیال میں مجھے نیاز فتح پوری یاد آتے ہیں۔ نیاز کا ذوق ابتداء سے ہی شعر و ادب کا تھا۔ ترکی زبان سے متعدد چیزیں اردو میں ترجمہ ہو رہی تھیں اور ترکی کے اردو ادب پر اثرات مرتب ہونے لگے تھے۔ اُسی زمانے میں چند ادیب اور شاعر دوستوں کا اجتماع ہوا۔ گفتگو اس موضوع پر ہوتی رہی کہ ایک علمی اور ادبی پرچہ نکلنا چاہیے جس کی سارے بر صغیر میں دھاک بیٹھ جائے۔
کسی ایسے پرچے کی ادارت نیاز صاحب کی آرزو تھی لیکن گرہ میں دام کہاں تھے کہ یہ شوق پورا کیا جا تا۔ نیاز صاحب نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر بیس دوست' بیس بیس روپے اکٹھے کر لیں اور چار سو روپے کی رقم جمع ہو جائے تو ایسا پرچہ نکا لا جا سکتا ہے۔ چار سو روپے کے ذکر پر حیران نہ ہوں کہ یہ زمانہ 1921ء کا تھا جب 20 روپے کا چندہ بھی صاحبان حیثیت ہی دے سکتے تھے اور چار سو روپے کی رقم خطیر سمجھی جاتی تھی۔
لیجیے صاحب' چند دنوں میں اتنی رقم تو اکٹھا نہ ہو سکی لیکن پھر بھی خاصے روپے جمع ہو گئے۔ یہ طے تھا کہ اس پرچے کی ادارت نیاز صاحب کریں گے چنانچہ ان سے کہا گیا کہ اب پرچے کا نام بھی تجویز کریں۔ ان دنوں نیاز صاحب ایک ترک شاعرہ ''نگار بنت عثمان'' کے تراجم پڑھتے تھے اور سر دھنتے تھے۔ انھوں نے اسی شیفتگی کے سبب پرچے کا نام ''نگار'' تجویز کیا تو دوستوں نے اس پر صاد کیا۔ قدامت پرستوں کی نظر میں ''نگار'' کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے جس کا ذکر بھوپال کی پرنسس عابدہ سلطان نے اپنی تحریر میں کیا ہے۔
اپنی کم سنی میں پرنسس عابدہ کو صرف دو پرچے پڑھنے کی اجازت تھی جن میں سے ایک ''ہمایوں'' اور دوسرا ''نگار'' تھا۔ پرنسس نے نیاز صاحب کو دیکھا بھی نہیں تھا لیکن ان کی تحریروں کے سبب انھیں نیاز صاحب سے اتنی عقیدت ہو گئی تھی کہ جب ان کے صاحبزادے پرنس شہریار کے لیے کسی اتالیق کی تقرری کا مسئلہ در پیش ہوا تو پرنسس عابدہ سلطان نے نیاز صاحب کا نام تجویز کیا لیکن جن وزیر صاحب کو اتالیق کی تقررّی کا پروانہ جاری کرنا تھا وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔
جب عابدہ کی طرف سے اصرار بڑھا تو انھوں نے ''نیاز'' اور ''نگار'' دونوں کے بارے میں بے حد نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور اس بات پر حیرت ظاہر کی پرنسس ''نگار'' کے بارے میں کیسے جانتی ہیں؟ پرنسس نے انھیں بتایا کہ وہ تو بچپن سے اس رسالے کا مطالعہ کرتی آ رہی ہیں۔ وزیر موصوف نے حیرت سے پوچھا کہ لیکن ''نگار'' آپ تک پہنچتا کیسے ہے؟ پرنسس نے جواب دیا ''ڈاک سے'' وزیر موصوف نے بھڑک کر کہا ''میں دیکھتا ہوں آج کے بعد ''نگار'' کیسے ریاست بھوپال میں داخل ہوتا ہے''۔
شہزادی نے برہمی کا اظہار کیا اور بقول ان کے ''میں نے کہا جو آپ سے ہو سکے وہ ضرور کیجیے۔ اگر ''نگار'' بھوپال آنا بند ہو گیا تو میں موٹر پر جا کر دوسرے شہر سے لایا کروں گی لیکن خیر نہ ''نگار'' ڈاک سے آنا بند ہوا اور نہ مجھے اس کے لیے دوسرے شہر جا نا پڑا اور اسی ضد پر نیاز صاحب کو میں نے بطور مہمان بلا کے اپنے پاس رکھا تا کہ بھوپال میں ان کا داخلہ بند ہونے کی بھی آزمائش کر لی جائے''۔
یاد رہے کہ شہزادی عابدہ سلطان' والیٔ بھوپال ہزہائی نس نواب حمید اللہ خاں کی صاحبزادی تھیں اور انھیں نیاز صاحب کے باب میں اپنے وزیر سے اس قدر بحث و مباحثہ کرنا پڑا تھا تو سوچئے کہ عام گھروں میں نئے خیالات رکھنے والے نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی کیسی ناراضی مول لینی پڑتی ہو گی۔ یوں1921ء میں روشن خیالی اور خرد افروزی پر مبنی اردو کے ایک بے مثال جریدے 'نگار' کا اجرا ہوا۔ جس کی خریداری اس وقت کے ہندوستان میں ہر پڑھے لکھے گھر کے لیے لازم ہو گئی۔ یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی روشن خیال تعلیم یافتہ گھرانہ اس رسالے سے محروم رہے۔
پنڈت رتن ناتھ سرشار کے فوراً بعد اردو میں ترکی زبان کے ادب کو اصل فروغ سجاد حیدر یلدرم نے دیا۔ یلدرم نے اردو میں متعدد ترکی افسانے اور ڈرامے ترجمہ کیے جن میں سے احمد حکمت کا ناول 'زہرا' 'آسیب ِ الفت' اور نامق کمال بے کا ڈراما 'جلال الدین خوار زم شاہ' بطور خاص اردو قارئین میں بہت پسند کیے گئے۔
ایک آشفتہ سر ترکی ادیب خالدہ ادیب خانم جب ہندوستان آئیں تو ان کا بے مثال استقبال ہوا۔ اردو اور ترکی کے درمیان یہ ربط ضبط آج بھی قائم ہے۔ ان میں خاص طور سے ترکی زبان کے ملک الشعرا، ناظم حکمت کی نظمیں جو فیض صاحب نے ترجمہ کیں، انھوں نے 60ء کی دہائی میں اردو پڑھنے والوں کو اس لیے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ہمارے سیاسی حالات پر ناظم حکمت کی نظمیں پوری اترتی تھیں۔
اب کچھ دنوں سے ترک ناول نگار الف شفیق کا بہت شہرہ ہے۔ جنہوں نے لگ بھگ ایک درجن ناول لکھے جو ترکی اور کئی دوسری زبانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ ان میں سے کچھ ہمارے یہاں بھی پہنچے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے ترک ناول نگار اورحان پامک کی راہ میں ہمارے یہاں اور ہندوستان میں آنکھیں بچھائی جاتی ہیں اورحان پامک کو 2006 ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
اس وقت سے وہ شہرت کی بلندیوں پر ہیں۔ میں نے ہندوستان کے شہروں دلی اور جے پور میں ان کی پذیرائی کا وہ عالم دیکھا ہے جو نا قابل یقین کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں ان کے ایک ناول 'مائی نیم از ریڈ' کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا مشکل ناول ہے کہ جسے ترجمہ کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ ان کے ناول 'اسنو' پر ترکی میں بنیاد پرستوں کی جانب سے بہت سے اعتراضات ہوئے۔
گزشتہ دہائیوں سے ترکی بدل رہا ہے۔ یہ وہ ترکی نہیں جسے کمال اتاترک اور اس کے ساتھیوں نے سیاسی، ثقافتی اور ادبی پہلو سے مستحکم بنیادوں پر تعمیر کیا تھا۔ آج کے ترکی میں قدیم ترک رسم الخط کے احیا کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ چند ہفتوں پہلے پامک نے ایک فرانسیسی صحافی سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری ترجیح یہ ہے کہ مجھے ایک ناول نگار سمجھا جائے۔
میں صدر اوردگان کے ایک ایسے حریف کے طور پر پہچانا جانا پسند نہیں کرتا جس کی ترجیحات سکیولر ترکی کی قدریں ہیں۔ میرے نوبل انعام نے میری زندگی آسان نہیں کی ہے لیکن میں خوش ہوں کہ میں ان تمام مشکلات سے محفوظ رہا جن کا سامنا مجھ سے پہلے کے ادیبوں نے کیا۔ وہ جیل گئے، انھیں جلا وطن کیا گیا اور بعض قتل بھی کر دیے گئے۔ اس حوالے سے دیکھتا ہوں تو میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں''۔
ترکی ادب اور ادیبوں سے ہمارا جو گہرا تعلق انیسویں صدی سے چلا آ رہا ہے آج ہمیں اس کے بارے میں جاننے کی بھی ضرور ت ہے۔