ڈہرکی میں قبائلی تصادم سے ہلاکتوں کے بعد خواتین نے ہتھیار اٹھالیے

اسکول اورمساجد ویران جبکہ علاقے کے سیکڑوں بچوں کا مستقبل تباہ ہونے لگا


Numainda Express February 22, 2015
ڈہرکی: شر اور لوند قبائل کی لڑائی میں خواتین بھی ہتھیار اٹھائے شریک ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

معمولی رقم کے معاملے پرشروع ہونے والے شراور لوندبرادریوں کے تنازع میں 5سال کے دوران 22افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، شر برادری کے ایک ہی خاندان کے تمام مرد گروہی تنازع میں ہلاک ہونے کے باعث بدلہ لینے کے لیے اب خواتین نے ہتھیار اٹھالیے، متاثرہ علاقہ گزشتہ 5سال سے نوگو ایریاہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈہرکی کے نواحی علاقے کھینجو میں 5سال قبل 5سو روپے کے معاملے پرشر اور لوندبرادریوں کے درمیان شروع ہونیوالے تنازع میں اب تک مجموعی طورپر فریقین کے 22 افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس دوران کبھی کسی مقامی وڈیرے، سردار، منتخب نمائندوں یاپولیس نے تنازع ختم کرانے کی کوشش نہیں کی۔ اس سلسلے میں جب میڈیاکی ٹیم متاثرہ علاقے پہنچی تووہاں مردوں کے بجائے مسلح خواتین سے سامناہوا۔

جب ان سے مردوں کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے بتایاکہ مذکورہ تنازع میں ان کے خاندان کے تمام مردہلاک ہوچکے ہیں اوروہ مجبوراً اپنی اوراپنے بچوں کی حفاظت کیلیے ہتھیاراٹھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ خونریز تنازع کے اصل ذمے دار منتخب نمائندے اور مقامی پولیس ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ دونوں برادریوں میں صلح ہو۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے 12 نوجوان تنازع کانشانہ بن چکے ہیں اورہمارے گھرمیں چھوٹے بچوں کے علاوہ کوئی مردنہیں۔