ہفتہ رفتہ روئی کی قیمتیں 100 روپے من اضافے سے 5250 تک پہنچ گئیں

امریکا میں کپاس کی پیداوارتخمینوں سے کم ہونے کی رپورٹس اثرانداز ہوئیں، اسپاٹ ریٹ 50روپے بڑھ کر 4950 ہوگئے


Ehtisham Mufti February 23, 2015
ٹیکسٹائل ملز کو توانائی کی مکمل فراہمی اور بھارتی دھاگے پر ڈیوٹی بڑھادی جائے تو بھاؤ تیز ہوسکتے ہیں، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

TORONTO: امریکی کاٹن برآمدات بڑھنے اور سال 2015-16 کے دوران امریکا میںکپاس کی مجموعی پیداوارابتدائی تخمینوں کی نسبت 10 تا15 فیصد کم ہونے کی رپورٹس نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی سطح پرروئی کی قیمتوں میں تیزی پیدا کردی اور اس کے اثرات پاکستانی کاٹن مارکیٹس پر بھی مرتب ہوئے جہاں گزشتہ ہفتے کاٹن مارکیٹس میں تیزی کا رجحان غالب رہا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی جزوی بحالی کی گئی تاہم ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس و بجلی کی مکمل فراہمی اور بھارت سے سوتی دھاگے اور روئی کی درآمد پر اگر فوری طور پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا جائے تو اس سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی سامنے آنے سے کپاس کی کاشت میں بھی تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 12 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 85 ہزار 500 بیلز کی شپمنٹ کی گئی جو کہ امریکا سے مسلسل 5 ہفتوں کے دوران 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد بیلز شپمنٹ ہونے کا ایک نیا ریکارڈ ہے تاہم مذکورہ ہفتے کے دوران امریکا کو 71ہزار بیلز کے نئے برآمدی آرڈرز موصول ہوئے جبکہ کینسل ہونے والے آرڈر 1 لاکھ 41 ہزار بیلز تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 200 سے 250 روپے تک مستحکم رہیں جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.50 سینٹ فی پاؤنڈ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 71.05 سینٹ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1.97 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 64.67 سینٹ فی پاؤنڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 551 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 30 ہزار 960 روپے فی کینڈی چین میں 55 یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 13 ہزار 110 یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50 روپے فی من اضافے کے ساتھ 4 ہزار 950 روپے فی من تک پہنچ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈرل کاٹن کمیٹی (ایف سی سی) نے 2015-16 کیلیے پاکستان میں کپاس کا پیداواری ہدف 1 کروڑ 54 لاکھ 80 ہزار بیلز (170 کلو گرام) مختص کیا ہے جو کہ سال 2014-15 کے مقابلے میں 3 لاکھ 78 ہزار 500 بیلز کم ہیں جبکہ ایف سی سی نے کپاس کی کاشت کا ہدف 77 لاکھ 60 ہزار ایکڑ مختص کیا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 33 ہزار ایکڑ سے کم ہیںتاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں سال فروری، مارچ کے دوران درجہ حرارت پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہونے کے باعث پاکستان بھر میں کپاس کی کاشت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔

ایف سی سی کی جانب سے مختص ہونے والے پیداواری اہداف کے مطابق 2015-16 کے دوران پنجاب میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 5 لاکھ بیلز، سندھ میں 44 لاکھ بیلز، بلوچستان میں 6 لاکھ بیلز جبکہ خیبرپختونخواہ میں 15 ہزار بیلز مختص کیے گئے ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال بھارت میں پیدا ہونے والی کپاس کے معیار پر بھی اب سوالات اٹھنے لگے ہیں اور اطلاعات کے مطابق کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) نے کسانوں سے خریدی جانے والی تقریباً 75 لاکھ بیلز کی ادائیگی بھی معیار سے مشروط کر دی ہے۔

سی سی آئی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق مذکورہ کپاس میں نمی کی شرح زیادہ سے زیادہ 8 فیصد جبکہ ریشے کی لمبائی 27.5 ایم ایم سے 30.5 ایم ایم ہونی چاہیے۔ اعلامیے کے مطابق کسانوں سے خریدی گئی پھٹی کا معیار مذکورہ معیار سے کم ہونے کی صورت میں کٹوتی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 15 فروری تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 46 لاکھ بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10.21 فیصد زائد ہے جبکہ صوبہ پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں پہنچنے والی پھٹی پچھلے سال کے مقابلے میں 12 فیصد جبکہ سندھ میں 6 فیصد زائد ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2014-15 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 1 کروڑ 48 لاکھ بیلز (160 کلو گرام) ہونے کے امکانات ہیں۔

مقبول خبریں