سر سے فٹ بال نہ کھیلی جائے
بہت سے عالموں کی زندگی جلاوطنی میں یا زندان میں گزر رہی ہے اور کچھ پر ارتداد کا الزام لگا کر انھیں قتل کیا جا رہا ہے
ISLAMABAD:
کتابوں کے ہجوم میں کسی ایک کتاب کا گم ہو جانا حیرت کی بات نہیں' لیکن کبھی کبھی یہ صورت حال بے حد شرمسارکرتی ہے۔ اسلام آباد ماڈل کالج کے ڈاکٹر رفعت اقبال کا 12مئی 2013 کا خط میرے سامنے ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے عدیم الفرصتی آپ کو یہ کتاب جلد نہ پڑھنے دے، یا ہوسکتا ہے پڑھنے ہی نہ دے، یہ خط انھوںنے اپنی کتاب ،خرد افروزی اور روشن خیالی' کے درمیان رکھ کر بھیجا تھا۔ اس پر لکھنے کا ارادہ حتمی تھا لیکن پھر کتابوں کے ہجوم میں یہ کتاب کھو گئی اور ان کا خط کتاب کے درمیان سوتا رہا۔
21 مہینوں بعد یہ خط اورکتاب نظر سے گزری تو میری شرمندگی بے پا یاں ہوئی۔ اسے مقتدرہ قومی زبان نے شایع کیا اور یہ ایک ایسے اہم موضوع پر ہے جس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ہماری اس وقت کی ضرورت ہے۔
ہم ذہنی زوال کی ڈھلان پر پھسل رہے ہیں ، اس نے ہمیں زمینی حقائق سے بیگانہ کر دیا ہے صدیوں پر اپنے ماضی کے کچھ حقیقی اور کچھ فرضی کارناموں کی گردان ایک خاص نقطہ نظر رکھنے والا گروہ اس تسلسل سے کرتا رہا ہے جس نے ہمارے ناخواندہ اور کم خواندہ افراد کے ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی اپنا اسیر کر لیا ہے جو تعلیم یافتہ ہیں۔
ان تعلیم یافتہ لوگوں کی اس اسیری کا سبب بنیادی طور پر اس موقف پر جم جانا ہے جس کے مطابق مغرب نے ہمیں ہماری عظمت سے محروم کر دیا ہے اور اب اس عظیم تشخص کی بحالی کے لیے لازم ہے کہ ہم پولیوکے ٹیکوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے، اپنی نئی نسل کے معذور ہوجانے کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیں۔اسی طرح اپنی عورتوں کے حقوق کی ہر ممکن حد تک نفی کریں اس لیے کہ عورتوں کے مختلف حقوق کی بات کرنا مغرب کے شیطانی ایجنڈے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا ہے جو اس نے ہمارے گھروں کے اندر نقب لگانے کے لیے بنا یا ہے۔
ڈاکٹر رفعت اقبال خان کی کتاب'خرد افروزی اور روشن خیالی'ہمارے اس ذہنی بحران کا تفصیل سے جائزہ لیتی ہے۔ ذکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد نے صرف ایک جملے میں اس کتاب کی اہمیت کو سمیٹتے ہوئے بجا کہا ہے کہ یہ کتاب تیزی سے تاریکی کی طرف مائل بہ سفر معاشرے میں فکر کا ایک چراغ جلانے کی سعی ہے۔
اس کتاب میں روشن خیالی اور خرد افروزی کے تاریخی پس منظر کو مغربی اور مشرقی حوالوں سے پیش کیا ہے اور مختلف حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس لفظ'خرد افروزی 'کا استعمال اردو میں پہلی مرتبہ 1803 میں فورٹ ولیم کالج میں ہوا جہاں ابوالفضل بن مبارک کی حکایاتی داستان''عیار دانش''کا ترجمہ''خرد افروز'' کے عنوان سے ہوا ۔
وہ ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ کتاب عرصے تک نصاب میں شامل رہی اور یہ لفظ ہندوستان کے پڑھے لکھے طبقے میں چلن اختیارکرگیا۔ وہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کی ہوئی قومی انگریزی اردو لغت کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس کے مطابق ''روشن خیالی یورپ میں سترہویں اور اٹھارویں صدی کی فلسفیانہ اور ثقافتی تحریک تھی۔...جس میں عقل کے آزادانہ استعمال پر زور دیا گیا، سائنسی تجربیت کو فروغ دیا گیا اور جس میں انسانی وقار اور فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا گیا۔''
انھوں نے عراق، مصر، قدیم یونان اور سلطنت روما میں روشن خیالی کی اس تحریک کی تاریخ بیان کی ہے اور جب وہ خرد افروزی کی مسلم روایت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک طرف خردِ افروزی کی یونانی روایات سے خوشہ چینی کا قصہ ہے اور دوسری طرف روشن خیالی کی بات کرنے والے علماء اور مفکرین کے مدرسے اور ان کے کتب خانے خلفائے وقت کے حکم سے جلائے جا رہے ہیں ۔
بہت سے عالموں کی زندگی جلاوطنی میں یا زندان میں گزر رہی ہے اور کچھ پر ارتداد کا الزام لگا کر انھیں قتل کیا جا رہا ہے ۔ مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے اپنے اقتدار کی بنیادوں کو مسلمان علماء اور مفکرین کی ہڈیوں پر استوارکیا ، یوں آہستہ آہستہ مسلمان ریاستوں میں خرد افروزی پسپا ہوئی۔ آزاد خیالی کفر قرار پائی۔ ہزاروں افراد اپنے خیالات کی بناء پر قتل کیے گئے۔ مسلمان بہ حیثیت قوم پسپا ہوتے چلے گئے۔ اس پسپائی میں فرقہ واریت کے ساتھ ساتھ، اقتدار کے لیے ہونے والی کشمکش اور تاتاریوں کی یلغار سب ہی نے اپنا کردار ادا کیا ۔ ادھر مسلم مشرق میں خرد افروزی کا سورج غروب ہو رہا تھا اور دوسری طرف مغرب میں روشن خیالی کی تحریک کی ابتدا ہو رہی تھی۔
مشکل مباحث کا احاطہ کرتی ہوئی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں بہت زیادہ حوالے علامہ نیاز فتح پوری کی کتاب 'من و یزداں' کے ہیں۔ برطانوی حکومت کی عنایت تھی کہ اس پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگی، آج کے دور میں اس کا شایع ہونا ممکن نہ تھا۔ اول تو نیاز صاحب اسے لکھنے کی ہمت نہ کرتے اور اگر لکھتے تو یہ اپنے ناشرکا انتظار کرتی رہتی۔ بٹوارے سے پہلے اس کتاب نے اپنے پڑھنے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جسے اس کے مندرجات سے اختلاف تھا لیکن کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ اسے جلائے یا علامہ صاحب کا گھر اور کتب خانہ پھونک دے۔
نیاز صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ انسان کے لیے اس سے بڑی لعنت کوئی نہیں کہ وہ مذہب کے نام پر کشت و خون کے لیے آمادہ ہو کر عالم انسانی میں تفریق و اختلاف کا سبب بنے۔ ان کاکہنا تھا کہ بہ صورت ِد یگر جمہوریت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ قدیم عقاید ازکار رفتہ ہو کر اپنی کشش کھو دیں گے۔
اردو میں خرد افروزی کے حوالے سے نیاز صاحب کی تحریریں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ آج وہ لوگوں کوکم کم یاد آتے ہیں لیکن ڈاکٹر رفعت اقبال نے اپنی کتاب میں ان کا حق ادا کیا ہے۔ اسی طرح وہ علی عباس جلال پوری کی تصانیف اور ان کے خیالات کا تفصیل سے احاطہ کرتے ہیں۔
جلال پوری صاحب نے اپنی تحریروں کے ذریعے خرد افروزی کے 5 بنیادی عناصر متعین کیے۔ یہ 5عناصر عقلیت پسندی کی ترویج، سائنس اور فلسفے کو عقائد کے چنگل سے نجات دلانے کی کوشش، انقلاب، عقل پسندی اور سائنسی علوم کی روشنی میں معاشرے کی بنیادیں استوار کرنے کی کوشش، مذہبی نفرت اور جنون کے خاتمے کے ساتھ انسان دوستی کا فروغ ہیں۔
آج ہم فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی جس دلدل میں پھنس رہے ہیں، اس سے نجات کے لیے علی عباس جلال پوری بہت پہلے درج بالا نسخہ تجویز کر چکے ہیں لیکن ہمیں اپنے اکابرین کی توہین سے فرصت ہو تو ہم ان کی تحریروں پر کچھ غور کریں۔
اس کتاب میں سید سبط حسن ایک اہم مفکرکے طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ سبط حسن نے سیکولرازم ،تھیاکریسی، ترقی پسندی اور دوسرے اہم موضوعات پر قلم اٹھایا۔ انھوں نے 'انقلاب ایران' پر جو گراں قدر کتاب لکھی اس کے موضوعات کا بھی اس کتاب میں احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رفعت اقبال نے پاکستان میں زبانوں کے مسئلے پر سبط صاحب کے نقطہ نظر کو بہت صراحت سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہو تا''اردو، سنسکرت سے ہم رشتہ ہے۔
علم لسانیات سے عام آگاہی نہ ہونے کے باعث زبانوں کے متعلق غیر سائنسی، غیر تاریخی نقطہ نظر نے رواج پا کر تہذیبی ترقی کے بجائے پاکستانی تہذیب کو رو بہ زوال کر دیا ہے۔ بنگالی سیاست دانوں کے اردو اشعار پڑھنے کو بنگالی زبان کی بے مائیگی سمجھنے ، تمام پاکستانیوں کو جبراً اردو سکھانے کا ارادہ رکھنے اور اردو نہ جاننے والوں کو غیر محب وطن قرار دینے والے اردو کے نادان دوست ہیں۔ وہ مولوی عبدالحق کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہیں جس میں بنگالی کو ''کافروں کی زبان''کہا گیا۔
سبط حسن کے نزدیک اردو، بنگلہ، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی زبانوں کا متحدہ محاذ بنا کر ہی انگریزی زبان کو 'سرکاری دربار' سے بے دخل کیا جا سکتا ہے جسے ان زبانوں کے بولنے والوں کی باہمی پیکار سے'طبقاتی فائدہ'پہنچا ہے لیکن بطور زبان اور ذریعہ علم کے انگریزی کی بھی نفی نہیں کی جا سکتی ۔ اسی طرح اردو کی ترقی ہونی چاہیے لیکن کسی دوسری پاکستانی زبان کی قیمت پر نہیں۔
خرد افروزی اور روشن خیالی میں ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر منظور احمد، ضمیر نیازی کے خیالات و افکار کا تفصیل سے احاطہ کیاگیا ہے ۔
یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبورکرتی ہے۔ اس کے بعض مندرجات سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اسی طرح مکالمہ جنم لیتا ہے، مختلف مصنفین اور کتابوں کی طرف ہماری توجہ مبذول ہوتی ہے اور ہم وہ راہ اختیار کر سکتے ہیں جس پر چل کر ایک ایسے خرد افروز سماج کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں رواداری ہو۔اختلاف رائے کی بنا پر سر قلم نہ کیے جاتے ہوں۔ انسان کے شانے پر رکھا ہوا سر، اس کے لیے کہکشاؤں کی طرف سفر کے دروازے کھولتا ہے۔
اس کے سر سے اہم بھلا اور کون سی چیز ہوگی جس نے ارتقا کے سفر میں اسے بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔یہ سر اس لیے نہیں کہ اسے شانوں سے اتار کر اس سے فٹ بال کھیلی جائے۔سر'انسان کے لیے وجہ افتخار ہے، ڈاکٹر رفعت اقبال کی یہ کتاب آج کے پُرآشوب زمانے میں کچھ لوگوں کے لیے نسخہ شفا ہے۔ انھیں رواداری اور وسیع المشربی تعلیم کرتی ہے۔ ہمیں ان کا شکر گزار ہو نا چاہیے۔