طیش کا ہدف سیاستدان اور کھلاڑی

معلوم تاریخ کے مطابق کھیلوں کے باقاعدہ مقابلے کا آغاز یونان میں 776 قبل مسیح میں ہوا۔


Zahida Hina March 01, 2015
[email protected]

وہ تصویریں آپ کی نظر سے بھی گزری ہوں گی جن میں کرکٹ کے کچھ شیدائی ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کے کراچی ائیر پورٹ سے 'بہ خیریت' نکل جانے پر طیش میں مبتلا ہیں۔

ان کا غم و غصہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ جن انڈوں کو لے کر معین کے 'استقبال' کے لیے گئے تھے، انھیں اپنے سروں پر توڑ رہے ہیں۔ اس سے ہمارے جذباتی رویوں کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مہذب دنیا میں کھیلوں کے مقابلے اس لیے نہیں ہوتے کہ جنون، غصے اور نفرت کو بڑھا یا جائے۔ آج سے نہیں ہمیشہ سے ان کا مقصد صبر، رواداری اور برداشت کو بڑھاوا دینا اور کھیلوں کے معیار کو بلند کرنا ہوتا ہے۔

کھیل کوئی سا ہو اور دنیا کے کسی گوشے میں کھیلا جائے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسان جدال و قتال سے تھک گئے اور پھر بھی لوگوں کے دلوں سے فتح کی اور فاتح کہلوانے کی ہوس نہ گئی تو دانا و بینا انسانوں نے کھیلوں کے مقابلوں کا آغاز کیا۔

یہ مقابلے اس بات کا اعلان تھے کہ انسان ، انسانوں کو قتل کیے بغیر، شہروں کو آگ لگائے اور کسی بستی کی تمام آباد ی کو تہ تیغ کیے بغیر بھی فاتح ہو سکتے ہیں اور یہ کہ صرف شہروں اور ملکوں کے صرف فاتح ہی شان و شکوہ سے اپنے شہروں میں داخلے کے حق دار نہیں' فاتح کھلاڑیوں کا بھی شہری اسی طرح استقبال کریں گے۔

معلوم تاریخ کے مطابق کھیلوں کے باقاعدہ مقابلے کا آغاز یونان میں 776 قبل مسیح میں ہوا۔ ان کھیلوں میں شرکت کرنے والے کے لیے لازم تھا کہ وہ مقابلے کے دوران ضبط نفس' رواداری اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ان سے کسی اوچھے اور ہلکے رویے کی توقع نہیں کی جاتی تھی اور ان مقابلوں کو ''صاف ستھرا'' رکھنے کے لیے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ ان کے اہل خانہ اور منصفین سے بھی اس بات کا عہد لیا جا تا تھا کہ وہ مقابلے میں کسی قسم کی بے ایمانی نہیں کریں گے۔

ان مقابلوں کو ہوا و ہوس سے محفوظ رکھنے کے لیے اس بات کا بھی خیال رکھا جا تا تھا کہ ان میں شریک ہونے والوں کو کسی قسم کا مالی فائدہ نہ ہو اور جس طرح جنگ و جدال کے بعد سپاہی مال ِ غنیمت کی گٹھریاں گھوڑوں کی پشت سے باندھ کر گھروں کو جاتے ہیں' اسی طرح سیم و زر کی تھیلیاں کھیل کے میدان سے کھلاڑیوں کے گھروں کو نہ جائیں۔

ان میں شرکت کے لیے عوام و خواص کو ایک ہی صف میں کھڑا ہونا پڑتا تھا اور دونوں پر ایک جیسے قوانین کا اطلاق ہو تا تھا۔ ان مقابلوں کے فاتحین کو زیتون کے پیڑ کی ایک شاخ ملتی تھی جو کہ سب سے بڑا اعزاز تھی۔ جیتنے والے کھلاڑی اسی شاخ کو سر پر تاج کی طرح سجا کر اپنے شہر میں داخل ہوتے اور شہر والے ان کا استقبال اس جوش جذبے سے کرتے تھے کہ ان کے سامنے شہنشاہوں کے جلوس ماند پڑ جاتے تھے۔

سچ یہ بھی ہے کہ ہم جو کہتے اور سوچتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ کرکٹ پر کیا موقوف، ہر شعبۂ حیات میں ہمارا یہی وتیرہ اور انداز ہے۔ کرکٹ عالمی کپ مقابلوں میں ہم نے اپنی ٹیم اور اس کے کھلاڑیوں کی جو درگت بنائی ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کھیلوں کے مقابلے ہمارے اندر صبر اور برداشت کی بجائے طیش اور نفرت کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔ 15 فروری سے آج تک ہر طرف سے ہم اپنے کھلاڑیوں پر سنگ باری کر رہے ہیں۔ انھیں کیا نہیں کہا گیا اور ان کی کتنی تذلیل اور تضحیک نہیں کی گئی۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ میچ ہار گئے تھے۔

ورلڈ کپ کے ان مقابلوں میں روزانہ ایک ٹیم ہارتی ہے اور دوسری فتح یاب ہوتی ہے لیکن دنیا میں کہیں پاکستان کی طرح غدر برپا نہیں ہو تا۔ یہ سوچنا تو ہو گا کہ ہم اگر کسی کام میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو ہم پر ایک ہیجانی کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے اور ہم اپنا جذباتی توازن کیوں کھو دیتے ہیں؟ یہ سامنے کی بات ہے کہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان درجہ بندی کے اعتبار سے 7 ویں درجے پر ہے۔

اس وقت 14 ملک ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں لہٰذا ایک دو نہیں بلکہ چھ ٹیمیں ہم سے مجموعی کارکردگی کے سابقہ ریکارڈ کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ ہر ٹیم کامیابی کا عزم لیے میدان میں اترتی ہے، اکثر غیر متوقع نتائج بھی سامنے آتے ہیں لیکن عموماً بہتردرجہ بندی والی ٹیمیں ہی آخری مرحلے تک پہنچ کر فائنل کھیلنے کا اعزاز پاتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک ٹیم عالمی چیمپین کا اعزاز حاصل کرتی ہے۔

اس پس منظر میں ہم نے یہ کیوں فرض کر لیا تھا کہ ہماری ٹیم ہر ٹیم کو شکست فاش دیتی ہوئی آخری مقابلے تک نا قابلِ تسخیر ٹھہرے گی؟ ہماری ٹیم جو درجہ بندی میں ساتویں درجے پر ہے تو ہمیں اس کی وجوہ پر بھی غور کرنا چاہیے۔ عرصہ دراز سے ملک کے اندر کوئی بین الاقوامی مقابلہ نہیں ہوا، غیر ملکی کھلاڑی دہشتگردی کے امکان سے ہمارے یہاں آنے پر آمادہ نہیں اور ہم کہیں جاتے نہیں۔ ہر مرض کا علاج ہمارے یہاں دبئی ہے' لہٰذا اس میدان میں ہمارے لڑکوں کو جو تجربہ ملتا ہے وہ انتہائی نا کافی ہے۔

ان میں موسم اور آب و ہوا کی تبدیلی سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ بڑے مقابلوں میں دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت۔ ایک ایسی ٹیم کے بارے میں یہ فرض کر لیا جا تا ہے کہ اُسے ورلڈ کپ جیت کر ہی پاکستان آنا چاہیے۔ ایک ڈری سہمی ٹیم پر اتنا بھاری بوجھ ڈال کر ہم فارغ ہو جاتے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز ہوتا ہے اور ہم تمام کام سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ سرکاری ملازم ہیں تو دفتر نہ جانے کا کوئی ڈر نہیں، نجی شعبے میں کام کرتے ہیں تو دفتروں میں ٹی وی لگے ہوئے ہیں۔

مالک، افسر اور ماتحت سب کی نظریں ٹی وی اسکرین پر ہیں۔ گھروں میں کھانا پہلے سے پکا لیا گیا ہے یا پھر پکوان گھروں اور ہوٹلوں سے من پسند ڈشیں منگائی جا رہی ہیں۔ عام لوگوں کے لیے چوراہوں پر دیو قامت اسکرینیں نصب کر دی گئی ہیں تا کہ وہ ''یقینی جیت'' کے نادر لمحات سے لطف اندوز ہو سکیں۔ غرض یہ کہ اب ٹی وی ہے، اس کے دھواں دھار پروگرام ہیں، ہم ہیں اور ہم سب کے نشانے پر ہماری ٹیم کے گیارہ کھلاڑی ہیں۔ چوکا لگائیں تو تالی، کیچ چھوڑیں تو گالی، رن بنائیں تو واہ اور رن آؤٹ ہوں تو آہ۔ میچ جیت گئے تو کھلاڑی عظمت کے آسمان پر اور ہار گئے تو ذلت کے پاتال میں۔

یہ صورتحال صرف کرکٹ یا ہاکی کے کھیل تک محدود نہیں ہے۔ زندگی کا کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں ہم اس غیر معمولی اور انتہائی غیر متوازن جذباتی رویوں کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ سوچنا چاہیے کہ یہ عارضہ ہمیں کیوں لاحق ہے؟ سب سے پہلے ہمیں ''فرض'' کر لینے کی عادت سے جان چھڑانی ہو گی۔ ہم بعض غیر معمولی باتوں کو بہت آسانی سے ''فرض'' کر لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اصل اور شفاف مقابلہ صرف وہی ہوتا ہے جس میں ہم کامیاب ہوں لہٰذا جہاں ہار ہوتی ہے وہاں یقیناً ہمارے خلاف کوئی سازش کار فرما ہوتی ہے۔

مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے اور میاں صاحب جوابی دھماکوں کے بارے میں سوچ بچار کر رہے تھے۔ ایسے میں ہر طرف سے آوازیں بلند ہو رہی تھیں کہ دنیا سے نہ ڈرو، دھماکے کرو، گھاس کھائیں گے' ایٹم بم بنائیں گے۔ میاں صاحب نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہم پر عالمی پابندیاں عائد ہو گئیں۔ سرمایہ دار اور سرمایہ باہر جانے لگا، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آٓ گیا۔ ایسے میں زرمبادلہ کے ذخائر کی منتقلی پر پابندی لگائی گئی تو ایک کہرام بپا ہو گیا کہ نواز شریف ہمارے ڈالر کھا گیا۔ جب پابندیوں کے باعث حالات خراب ہوئے تو نواز شریف پر تنقید کے تیر برسنے لگے۔

1999ء کا مارشل لاء لگا۔ منتخب وزیر اعظم کو برطرف اور گرفتار کرنے والے آمر کی خوب واہ واہ ہوئی۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، بھنگڑے ڈالے گئے۔ موصوف کی تعریف میں فصاحت اور بلاغت کے دریا بہا ئے گئے۔ میاں صاحب بکتر بند گاڑیوں میں شہر شہر گھمائے جاتے رہے، انھیں جہاز کی نشست پر باندھ کر کراچی لایا جا تا تھا۔

پھر وہ دن بھی آیا جب انھیں جبری جلاوطنی کا پروانہ تھما دیا گیا۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہم اپنے 'محبوب' ڈکٹیٹر سے بھی بیزار ہو گئے، ان کے خلاف میدان میں نکل کھڑے ہوئے اور انھیں ہر طرح کے خطابات سے نوازا گیا۔

یہاں تک کہ انھیں خود جلا وطن ہو نا پڑا۔ آج وہ پھر ہمارے درمیان موجود ہیں لیکن ان کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ ایسے موقعے پر بے نظیر یاد آتی ہیں۔ وطن آئیں تو لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ شہید کی گئیں تو ہم نے گریہ کیا اور طیش کی ساری حدوں کو عبور کر لیا۔ آج سات برس ہوتے ہیں ان کو انصاف نہیں ملا اور شہید بے نظیر کو انصاف دلانے کے لیے ہم نے چالیس لوگوں کا بھی جلوس نہیں نکالا۔

کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ تم کوئی نئے تو نہیں جو ہماری اس ہیجانی اور جذباتی کیفیت کا نشانہ بنے ہو۔ سیاستدانوں کے بعد صرف تم ہی تو ہو جن پر ہم اپنا غصہ اور جھنجھلاہٹ نکال سکتے ہیں۔ جو ہم آج بھی نکال رہے ہیں اور آئندہ بھی نکالتے رہیں گے۔

مقبول خبریں