حصص مارکیٹ میں بدترین مندی 418 پوائنٹس گر گئے

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت23.29 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ96 لاکھ41 ہزار570 حصص کے سودے ہوئے


Business Reporter March 03, 2015
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت23.29 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ96 لاکھ41 ہزار570 حصص کے سودے ہوئے۔ فوٹو: آن لائن/فائل

بین الاقوامی سطح پر خام تیل اور سیمنٹ کی گھٹتی ہوئی قیمتوں، پی ایس او کے غیراطمینان بخش مالیاتی نتائج جیسے عوامل کراچی اسٹاک ایکس چینج کی نفسیات پر چھائے رہے اور پیر کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 33600،33500، 33400 اور33300 پوائنٹس کی 4 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کے سبب 81.50 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 95 ارب87 کروڑ41 لاکھ85 ہزار502 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ریٹیل اورانسٹی ٹیوشنل کلائنٹس کی جانب سے حصص کی آف لوڈنگ پر رحجان غالب ہونے اور کوئی مثبت اقتصادی خبر نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے متعدد شعبوں کی جانب سے دیکھواور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیزاور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر84 لاکھ10 ہزار319 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر79.12 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے20 لاکھ 96 ہزار451 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے39 لاکھ21 ہزار828 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے23 لاکھ92 ہزار41 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 418.61 پوائنٹس کی کمی سے 33213.58 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس249.29 پوائنٹس کی کمی سے21667.57 اور کے ایم آئی30 انڈیکس750.13 پوائنٹس کی کمی سے52874.17 ہو گیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت23.29 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ96 لاکھ41 ہزار570 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار373 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں54 کے بھاؤ میں اضافہ، 304 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔