کمیونسٹ ’ ڈاکٹر‘ لکھنے والی
اردو میں ترقی پسند فکر کا آغاز جن 3 افراد کے نام اور کام سے ہوتا ہے، ان میں سے ایک رشیدہ آپا تھیں۔
بچپن میں ایک ٹھیلے والے کو 'جرمن کا گولہ ہو رہی ہے پیاز' کی ہانک لگاتے سنا تھا۔ وہ گلی میں آتا تو امی کہتیں 'نگوڑ مارے کو ابھی تک یہ خبر نہ ہوئی کہ جنگ کبھی کی ختم ہوچکی اور ہٹلر خودکشی کرچکا' ۔
یہی وجہ تھی کہ جب پہلی مرتبہ 'رشید جہاں انگارے والی' کا نام سنا تو آنکھوں میں ایک ایسی عورت کی شبیہ ابھری جو ٹھیلے پر انگارے بیچتی تھی لیکن جلد ہی ڈاکٹر رشید جہاں کی کہانیاں پڑھیں اور یہ سمجھ میں آگیا کہ وہ 'انگارے والی' کیوں کہلاتی تھیں۔
ان تمام یادوں نے مجھ پر اس وقت ہجوم کیا جب کراچی لٹریچر فیسٹول میں ایک سہ پہر ڈاکٹر رشید جہاں کی زندگی اور ان کی تحریروں کے لیے ایک محفل مخصوص کی گئی۔ دلی میں رہنے والی اور انگریزی میں اردو ادب اور ادیبوں پر کام کرنے والی ڈاکٹر رخشندہ جلیل کی کتاب 'اے ریبل اینڈ ہر کاز' (ایک باغی اور ان کا مقصد حیات) پر گفتگو کے لیے 30 منٹ رکھے گئے۔
بولنے والوں میں ریتو مینن، کوثر سعید خان، ڈاکٹر کامران ازدر علی کے علاوہ میں بھی شامل تھی۔ رخشندہ ایک ادارے 'ہندوستانی آواز' کی بنیاد گزار بھی ہیں۔ مجھے قدرے حیرت بھی ہوئی کہ رخشندہ جلیل کا میرے سوا کسی نے ذکر نہیں کیا، شاید وقت اتنا کم تھا کہ سب لوگ جلدی جلدی اپنی بات کہہ دینا چاہتے تھے۔
سچ تو یہی ہے کہ 30 منٹ میں ایک ایسی عورت کے بارے میں بات کیسے کی جاسکتی تھی جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر، ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی رکن، ترقی پسند مصنفین کی بنیاد گزاروں میں سے ایک، 'انگارے' جیسے ہنگامہ خیز افسانوی مجموعے کی شریک مصنف، جس کے نام پر منبر و محراب سے دشنام طرازی کی گئی۔
یہ عورت فاشزم اور امپریل ازم کے خلاف تھی، اس دور میں فیمینزیم، نیشنل ازم، سوشلزم اور صنفی انصاف کی بات کرتی تھی، جس نے 1933 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت اس وقت اختیار کی تھی جب بہت سے پڑھے لکھے اور سیاسی شعور رکھنے والے مردوں کو اس خیال سے ہی پسینہ آجاتا تھا۔
وہ رشیدہ آپا کے نام سے مشہور ہوئیں، انھوں نے رومانوی شاعری کرنے والے فیض کا رشتہ انقلاب اور ترقی پسند تحریک سے جوڑا، ان کے بعد آنے والی عصمت چغتائی نے بارہا یہ کہا کہ اگر رشیدہ آپا نہ ہوتیں تو ان کے بعد آنے والیاں اپنی تحریروں میں اس جرأت اور روشن خیالی کا مظاہرہ نہ کرسکتی تھیں، وہ انھیں اپنا رہبر و رہنما قرار دیتی تھیں۔
الہٰ آباد یونیورسٹی سے ڈاکٹر رشید جہاں پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والی ڈاکٹر شاہدہ بانو نے ان کے بھائی محسن عبد اللہ، سید سبط حسن اور کیفی اعظمی سے انٹرویو کیے اور پھر رشیدہ آپا کے بارے میں لکھا کہ 'انگارے میں ان کی تخلیقات کی شمولیت، ان کے اندر عورتوں پر ظلم ہونے کے خلاف جو جذبہ لہریں مار رہا تھا اس کا تو اظہار کرتا ہی ہے، ساتھ ہی ان کی بے خوفی اور بے باکی کا بھی اظہار کرتا ہے۔
اس بے خوفی نے انھیں اس وقت مزید امتحان میں ڈالا جب 'انگارے' میں شامل مرد افسانہ نگاروں کے خلاف کم، رشید جہاں کے خلاف زیادہ آگ اگلی گئی۔'
رشید جہاں انگارے والی کے خلاف جس طرح مسلمانوں میں چرچے تھے اور جس طرح ان کو ناک کان کاٹنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں، عام عورت ہوتی تو خوف سے معافی مانگ لیتی یا گوشہ نشین ہوجاتی، پر وہ تو رشید جہاں تھیں جو محض ستائیس سال کی عمر میں جرأت، ہمت، صبر و استقلال بے خوفی اور بے باکی کا پیکر بن کر ایک تجربہ کار اور نڈر عورت کی طرح اس طوفان کو ہنستے ہوئے جھیل گئیں۔
اس مسکراہٹ کے پس پردہ ان کے ذہن میں اس وقت کے معاشرے کی کمزوریاں، جہالت، توہم پرستی وغیرہ کام کررہی تھیں، اسی لیے وہ پورے اعتماد سے اپنے ساتھیوں سے کہتیں کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 'انگارے' پر ہونے والے ہنگامے نے ان کے نظریات اور خیالات کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کو بھی مضبوط کیا، اور مریضوں اور عام انسانوں کے ساتھ ساتھ اپنے رفیقوں میں بھی وہ وقار اور احترام کی نظروں سے دیکھی جانے لگیں۔
اردو میں ترقی پسند فکر کا آغاز جن 3 افراد کے نام اور کام سے ہوتا ہے، ان میں سے ایک رشیدہ آپا تھیں۔ رخشندہ جلیل کی کتاب کا ابتدائیہ سلمان حیدر نے لکھا ہے جو ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ رہ چکے ہیں۔ رشیدہ آپا ان کی والدہ کی سب سے بڑی بہن تھیں۔ انھوں نے ذاتی اور سماجی حوالے سے اپنی اس بڑی خالہ کو یاد کیا ہے اور لکھا ہے کہ برطانوی حکومت نے بہت خوب کیا کہ 'انگارے' پر پابندی عائد کردی اور اس طرح یہ کتاب اس دور کے اردو ادب میں ایک مستقل مقام حاصل کرگئی۔
سلمان حیدر کی تحریر سے ہی ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ڈاکٹر رشید جہاں، آج بھی مسلم سماج میں کس طرح گردن زدنی ہیں کہ جب 2005میں کچھ لوگوں نے ان کی صدی منانے کی تجویز پیش کی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر نے ان کی صدی تقریبات پر پابندی عائد کردی۔
انھیں خوف تھا کہ اس نڈر اور متنازعہ شخصیت کی یاد منانے پر ہنگامہ مچ جائے گا اور احتجاج شروع ہوجائے گا۔ 2015 میں عصمت چغتائی کی صدی شروع ہوچکی۔ ان دونوں کی پیدائش کے درمیان دس برس کا فرق تھا لیکن سچ یہ ہے کہ عصمت آپا نے انھیں اپنا مرشد مان کر ان کا راستہ اس شان سے اختیار کیا کہ حق ادا کردیا۔
رشید جہاں ایک ایسا نام ہیں جن سے اردو میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ ان میں سے ہیں کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے تاسیسی اجلاس میں وہ تمام انتظام و انصرام کرتی نظر آتی ہیں۔ لاہور سے وہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو انجمن کے جلسے میں شریک ہونے پر رضامند کرلیتی ہیں۔
لکھنو سے چوہدری محمد علی ردولوی کے علاوہ مولوی عبدالحق، دیانرائن نگم اور منشی پریم چند جیسا مشہور لکھنے والا ان کی مدلل گفتگو کے زیر اثر انجمن کے مقاصد سے متفق ہوجاتا ہے اور انجمن کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کی ان کی دعوت قبول کرلیتا ہے۔
وہ ڈاکٹر تھیں، ان کے پیشے نے انھیں ہندوستانی عورت کے دکھ درد کو سمجھنے، اس کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف قلم اٹھانے پر اکسایا۔ کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہونے کے سبب انھوں نے جیل کاٹی، غریب بستیوں میں کام کرنے کو اپنا فرض جانا، پارٹی کے اخبار 'چنگاری' کے لیے کمر کس کر لکھتی رہیں، جھونپڑپٹی کے بچوں کو سمیٹ کر انھیں پڑھنا لکھنا سکھاتی رہیں۔
انھوں نے 47 برس کی عمر پائی لیکن ان کی انسان دوستی، ان کے خلوص اور ان کی باوقار شخصیت کے سامنے اس دور کے مشہور اور بڑے نام بھی سر جھکاتے تھے۔ ان کے بارے میں آل احمد سرور نے لکھا ہے کہ ''میں نے جوش کو رندی میں رشید جہاں کے سامنے ہوشیار اور با ادب پایا اور جگر کی زبان سے بارہا ان کی تعریف سنی ہے۔
مذہب، ملت اور ذات پات سے بلند اس پیکر مہر و وفا کے لیے میں نے مذہب کے اماموں اور دہریت کے پرستاروں کو متفقہ طور پر ثناخواں پایا، جو ان سے سخت اختلاف رکھتے تھے وہ ان کے احترام پر مجبور ہوتے تھے''۔
کینسر نے انھیں جیل میں شکار کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کے پاس مہلت زندگی کم ہے، اس کے باوجود جیل سے باہر آکر بھی انھوں نے اپنی زندگی کی طرف کم ہی توجہ دی۔ آخری سانسیں انھوں نے ماسکو کے ایک اسپتال میں لیں، وہیں کے ایک قبرستان میں دفن ہوئیں، جہاں ان کے لوح مزار پر کندہ ہے۔ 'کمیونسٹ، ڈاکٹر، لکھنے والی'۔
ان کا انتقال ہوا تو فیض جیل میں تھے۔ رشید جہاں کی باتیں ان کا جہان بدل گئی تھیں۔ اگر ان کی ملاقات رشید جہاں سے نہ ہوتی تو شاید اردو ادب ایک انقلابی شاعر کے وجود سے محروم رہتا۔ فیض نے جیل سے ایلس کو لکھا: ''رشیدہ کے ماسکو میں مرنے کی خبر کل پڑھی۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو شاید زاروقطار روتا لیکن اب تو رونے کو آنسو ہی باقی نہیں رہے۔
اس حادثے کا سن کر رونے دھونے کے بجائے دل پر عجیب مردنی سی چھائی رہی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب کے موت رات کے رہزن کی طرح اچانک اور بے اطلاع نہیں آئی تھی یا شاید اپنے لاشعور میں یہ خیال بھی ہو کہ مرنے والی کی بہادر روح بیکار اور بزدلانہ غم و اندوہ کو پسند نہیں کرے گی۔
جب سے ان کی مہلک بیماری کا سنا تھا دل میں بہت شدت سے تمنا تھی کہ کاش وہ ہمارے باہر آنے تک زندہ رہیں اور ہم سب ساتھ ان سے ملنے کے لیے جاسکیں۔ انھیں بچوں سے بہت پیار تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ہمارے بچوں کو دیکھیں گی تو کتنا خوش ہوں گی۔ افسوس کہ موت کے خلاف ان کی طویل جنگ اتنی جلد ختم ہوگئی۔ ان کے جانے سے ہمارے برصغیر سے نیکی اور انسان دوستی کی بہت بڑی دولت چھن گئی اور ان کے دوستوں کی محرومی کا کیا کہیے جن کی زندگیاں ان کے ایثار و مروت سے اس قدر آسودہ اور مزین ہوئیں''۔
رشیدہ آپا کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ 'خوش درخشید، ولے شعلۂ مستعجل بود'۔ ڈاکٹر رخشندہ جلیل نے اسی 'شعلۂ مستعجل' کی لپک ہمیں دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔