پانی کے بحران کا خد شہ ارسا کا جنگی بنیادوں پر آبی ذخائر بنانے کا فیصلہ

ترقیاتی پروگرامز 5 سال کیلیے منجمد کرکے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کی جائے، سیکریٹری پانی و بجلی کوخط


INP March 08, 2015
ترقیاتی پروگرامز 5 سال کیلیے منجمد کرکے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کی جائے، سیکریٹری پانی و بجلی کوخط۔ فوٹو: فائل

شدید موسمیاتی حالات کے نتیجے میں پانی کے بحران کے خدشات کے ساتھ انڈس ریورسسٹم اتھارٹی(ارسا) نے حکومت سے تمام ترقیاتی پروگرامز (پی ایس ڈی پی) 5 سال کے لیے منجمد کرنے اور جنگی بنیادوں پربڑے آبی ذخائرکی تعمیرکے لیے ان فنڈزکا استعمال قومی ترجیح قراردینے کا مطالبہ کیاہے۔

چاروں صوبوں کے آب پاشی اور انجینئرنگ ماہرین پر مشتمل ارسانے اہم آبی ذخائرکانام تو نہیں لیا مگر یہ ضرورکہاہے کہ کم ازکم 22 ملین ایکڑفٹ (ایم اے ایف) ذخیرے کی صلاحیت جلداز جلد حاصل کی جانی چاہیے۔ ارسا کے چیئرمین رقیب خان نے سیکریٹری پانی و بجلی کے نام لکھے مراسلے میں کہاکہ پی ایس ڈی پی کو5 سال کے لیے منجمدکردیاجانا چاہیے اورفنڈز کا رخ میگا ذخائرکی تعمیرکے لیے ترجیحی بنیاد پرموڑ دیا جانا چاہیے۔

ارسانے کہاکہ30 ایم اے ایف سے زیادہ پانی سمندرمیںجا رہاہے حالانکہ ماحولیاتی وجوہ کے لیے کوٹری ڈائون اسٹریم میں8 سے 10 ایم اے ایف پانی کی ہی ضرورت ہے۔ ادارے نے کہاکہ مختلف آبی منصوبوں پر اتفاق کی بحث درحقیقت غیرسنجیدگی کو چھپانے کی کوشش ہے۔