ضرور ہم ہی غلط ہوں گے
اسکولوں کے اساتذہ کو مسلح کرنے کا موضوع اچھا خاصا دل چسپ بھی ہے
KARACHI:
اسکولوں کے اساتذہ کو مسلح کرنے کا موضوع اچھا خاصا دل چسپ بھی ہے اور دل دوز بھی، لیکن بڑا ہی لطیفہ خیز اور کارٹون ساز موضوع بھی ہے۔
اس سلسلے میں جو کچھ اخبارات میں آتا رہتا ہے، اس سے ہمیں اپنی ایک کمی بہت زیادہ کھلنے لگتی ہے اور آج کل تو ہمیں اپنے اندر اس کمی کا احساس بڑا ہی شدید ہو رہا ہے ۔ کاش ہمیں کارٹون بنانا آتا، تو علم اور طالب علم بلکہ ''علم اور قلم'' کی حفاظت کے اس موضوع پر کارٹونوں کے ڈھیر لگا دیتے۔
بہت زمانہ ہوا ہے شہتوت کے سائے تلے ایک بوڑھے شخص نے ایک بات کہی تھی اور آج رہ رہ کر ہمیں وہ بات یاد آرہی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ یوسف لودھی جو نہ صرف ایک صحافی تھے بلکہ اچھے لیکھکھ اور کارٹون ساز بھی تھے۔
ان کی کارٹونوں کی ایک کتاب بھی چھپی تھی۔ ایک اور کتاب بھی تھی جس میں ''کلیلہ منہ'' کی طرز پر پاکستانی سیاست کا خاکہ کھینچا گیا تھا لیکن ان دونوں کا نام ہمیں اب یاد نہیں آرہا ہے البتہ اس کے ہفتہ روزے کا نام شاید پشاور ٹائم یا فرنٹیئر ٹائم تھا، ہمارے دوست تھے، ایک دن بولے مجھے اپنے مجلے کے لیے باچا خان کا انٹرویو چاہیے۔
یہ بات انھوں نے قلندر مومند مرحوم سے کہی تھی اور چاہتے تھے کہ قلندر صاحب باچا خان سے ان کے لیے وقت لے لیں، باچا خان ایک طویل خود اختیار کردہ جلاوطنی سے تازہ تازہ واپس لوٹے تھے، قلندر صاحب نے کہا اس میں وقت لینے کی کیا بات ہے ابھی چل سکتے ہو، یوسف لودھی تو تیار بیٹھے تھے۔
اسی وقت ان کی گاڑی میں بیٹھے اور چل پڑے، ہم بھی ساتھ ہی چل پڑے، باچا خان کے گھر صمد ناڑی پہنچے تو وہ ایک شہتوت کے پیڑ تلے گھنے سائے میں ایک چارپائی پر بیٹھے تھے اور انھی کے جیسے چند ہم عمر خدائی خدمت گار بھی تھے۔ ہم پہنچے، علیک سلیک ہوئی، قلندر صاحب نے یوسف لودھی کا تعارف کرا کے مدعا عرض کیا تو بولے، بسم اللہ۔ لودھی صاحب نے ساتھ لایا ہوا ٹیپ ریکارڈ آن کیا اور پہلا سوال داغا، آپ اتنے عرصے بعد وطن لوٹے ہیں تو کیا تبدیلی محسوس کر رہے ہیں؟
اس مرد ضعیف نے ایک لمبی سانس کھینچی اور بولے، بہت برا ۔۔۔
ہمارا خیال تھا کہ اب وہ سیاست پر بولیں گے لیکن انھوں نے بات کی بھی تو کیا ۔۔۔۔ ؟ بولے، مجھے اس بات سے بڑا دکھ پہنچا ہے کہ بازار میں رکشوں پر بندوقوں پستولوں اور کلاشن کوفوں ، بموں کی تصویریں نظر آرہی ہیں۔ ان دنوں تازہ تازہ پشتو فلمیں شروع ہوئی تھیں۔ بدرمنیر ٹاپ کا ہیرو تھا اور ان کی بے شمار تصویریں رکشوں اور دوسرے مقامات پر لگی ہوتی تھیں اور ہر تصویر میں کوئی نہ کوئی ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا، انٹرویو میں تو جو کچھ ہوا وہ عام سی سیاسی باتیں تھیں لیکن باچا خان رہ رہ کر اسی ایک موضوع پر لوٹ آتے تھے کہ اسلحے اور ہتھیاروں کی یہ فخریہ نمائش بہت ہی خطرناک ہے۔
ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کرتے کہ بچوں کے کھلونوں تک میں اسلحہ ہی اسلحہ ہے جو جو بھی ہتھیار دنیا میں ایجاد ہوتے ہیں ان کے کھلونے بازار میں ڈھیروں ڈھیر بکنے لگتے ہیں، اس وقت ان کی یہ بات ہمیں کوئی خاص بات نہیں لگی بلکہ ایک گو نہ مایوسی بھی ہوئی کہ ایک اتنا بڑا لیڈر بڑی بڑی سیاسی باتیں اور انکشافات کرنے کے بجائے رکشوں اور بچوں کے کھلونوں کی باتیں کر رہے ہیں، نہ صرف باتیں کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اسے مستقبل کے لیے بہت بڑا خطرہ بھی بتا رہے تھے۔
ان دنوں پشاور میں بدرمنیر کی اسلحہ پوش تصاویر رکشوں بسوں اور دکانوں پر اسلحہ جات کی تصویر کشی اور بازار میں اسلحے کے کھلونے کوئی بری بات تو نہیں بلکہ یہ تو اچھی بات ہے تاکہ قوم میں بہادری کا جذبہ پیدا ہوتا رہے۔ پشاور تک پہنچتے پہنچتے ہم تینوں اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ باچا خان خود تو تھے لیکن پوری دنیا کو بھی بزدل بنانا چاہتے ہیں۔ ہم تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے قائل ہیں ۔
کیوں نہ ہوں گے ہدف ناوک بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لائے ہیں جو تیر خطا ہوتا ہے
لیکن آج سوچ رہے ہیں کہ کتنا بڑا خطرہ اس وقت معاشرے میں پنپ رہا تھا اور ہم اس سے بے خبر تھے بلکہ بڑھاوا دے رہے تھے، شادی بیاہ میں ہوائی فائرنگ اور نشانہ بازی کے مقابلوں کو بہادری کی تربیت کہہ رہے تھے، بچوں کے ہاتھ کھلونا پستول کھلونا کلاشن کوف، کھلونا ٹینک اور کھلونا توپ دے کر خوش ہو رہے تھے۔ پشتو اور پنجابی فلموں میں بدرمنیر اور سلطان راہی کی بہادریوں پر عش عش کر رہے تھے لیکن وہ مرد دانا جسے ہمیشہ لوگوں نے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا، اس خطرے کو بھانپ چکے تھے جو آج ہمارے سروں پر موت بن کر منڈلا رہا ہے۔
منڈلانا کیا جو ہم پر مسلط ہو چکا ہے، نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہم طالب علموں کے ہاتھ میں قلم سے پہلے پستول پکڑا رہے ہیں، زندہ باد اسلحہ کے سوداگر، اپنا مال بیچنا کوئی ان سے سیکھے۔۔ اپنی فیکٹریوں کو چالو رکھنے کا کمال اسے کہتے ہیں کہ آج ہم قریب قریب کھانا بھی ہاتھ اور چمچے کے بجائے خنجر اور پستول سے کھا رہے ہیں۔ گھر جیبیں دکانیں اور اب تعلیم گاہیں بھی اسلحے سے بھری ہوئی ہیں، ظاہر ہے کہ یہ ''سیلاب بلا'' کسی اور کے نہیں انسان ہی کے گھر جائے گا۔
ہمارے اپنے گھر آئے گا اور آچکا ہے، رہ رہ کر ہمیں شہتوت کے سائے میں بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے کی باتیں یاد آرہی ہیں جو بہت دور دیکھ رہا تھا، ایسا لگتا ہے جیسے ہم بھی بوڑھے اور بزدل ہوتے جارہے ہیں، ٹھیک یہی بات ہو گی، آخر یہ سارے لوگ سارے لیڈر سارے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس خاص طور پر اسلحہ ساز اور ہتھیاری کھلونے بیچنے والے سب کے سب تو غلط نہیں ہو سکتے، ضرور ہم ہی غلط ہوں گے۔