ہولی پیپلز پارٹی کو مبارکباد
بہار قدم بہ قدم ہماری طرف آرہی ہے اور فضا میں اس کی آمد کی خوشبو گھل گئی ہے۔
بہار قدم بہ قدم ہماری طرف آرہی ہے اور فضا میں اس کی آمد کی خوشبو گھل گئی ہے۔ ہمارے کسانوں کے لیے یہ خوشیاں منانے کے دن ہیں۔ یہ موسم جو بسنت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور لڑکیاں بالیاں گنگناتی ہیں... آیا بسنت ری سکھی... برہا کا انت ری سکھی۔ بسنت کے تہوار کو ہمارے کچھ لوگوں نے غیر اسلامی تصور کرتے ہوئے، اس سے نجات چاہی لیکن جب شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں دیہاتوں سے بھی احتجاج کی صدا اٹھی اور اسے ایک عوامی تہوار کہا گیا تو دھاتی ڈورسے اس کا گلا کاٹ دیا گیا۔
ہم بھی کمال لوگ ہیں، بجائے اس کے دھاتی ڈور بنانے اور اسے بازار میں لانے والوں پر گرفت کرتے، گوداموں پر چھاپے مار کر دھاتی ڈور ضبط کرتے، ہم نے عوامی خوشیوں پر ڈاکا ڈالا۔ بسنت پر پابندی لگی اور کچھ لوگ بہت خوش ہوئے کہ اس موسمی تہوار کی بندش نے ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے ہیں۔
یہی وہ دن ہیں جب پاکستان اور بطور خاص سندھ میں رہنے والی ہماری ہندو برادری ہولی مناتی ہے اور بہت سے مسلمان بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، دادو، بدین، گھوٹکی، مٹھی اور تھر کے مختلف قصبوں اور دیہاتوں میں لوگ رنگوں میں نہا جاتے ہیں۔ ان میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ ان کے مسلمان پڑوسی اور دوست بھی ہوتے ہیں۔ لڑکے، لڑکیاں، بوڑھے، جوان، بچے سب ہی ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں، مٹھائیاں کھاتے اور کھلاتے ہیں۔
گزرے ہوئے سال کی ناخوشگوار یادوں کی بنا پر اس بار بھی لوگ سہمے ہوئے تھے۔ انھیں یاد تھا کہ پچھلے برس کئی مندروں پر حملے ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ بہت سے مسلمانوں نے طے کرلیا تھا کہ وہ اس طرح کی غنڈہ گردی نہیں ہونے دیں گے۔ اسی لیے کراچی کے شری سوامی نرائن مندر کے پیچھے ایک بڑے میدان میں جب کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں اور دیہاتوں سے آئے ہوئے لوگ ہولی منارہے تھے تو بہت سے مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر مندر کے گرد انسانی زنجیر بنائی۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اس مرتبہ کسی کو بھی مندر میں گھسنے اور اس کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ یہ اسلامی تعلیمات کے قطعاً برعکس ہے۔
مغل بادشاہت کے خاتمے سے پہلے ہندو اکثریت پر مسلمان بادشاہوں کی حکمرانی رہی ہے جو اقلیت میں تھے۔ انھوں نے جن روایات اور جن ثقافتی رویوں کو پروان چڑھایا، ان میں ہندو اکثریت کے تہواروں، میلوں، ٹھیلوں میں شرکت کو ایک لازمی امر تصور کیا جاتا تھا۔ ہولی کا تہوار آتا تو مغل ہندوستان عبیر و گلال سے لالوں لال ہوجاتا۔ اکبر اعظم مختلف رنگوں کے تالابوں میں ڈبکی لگا کر ہولی مناتے، ہمیں جہانگیر اپنی 'تزک جہانگیری' میں 'محفلِ ہولی' کا ذکر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ گووردھن اور راسک کے بنائے ہوئے مرقعوں میں ہمیں بادشاہ جہانگیر اپنی ملکہ نورجہاں کے ساتھ ہولی کھیلتا نظر آتا ہے۔ شاہ جہاں کے عہد میں ہولی 'عید گلابی' کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔
فیروز بخت احمد نے اپنے ایک مضمون میں ہولی کے تہوار کے بارے میں بہت سی تاریخی باتیں یکجا کردی ہیں۔ منشی ذکاء اللہ 'تاریخ ہندوستان' میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کون کہتا ہے کہ ہولی صرف ہندوؤں کا تہوار ہے۔
اس 'عید گلابی' میں کیا امیر اور کیا فقیر، کیا شاہ اور کیا گدا سب ہی رنگ میں شرابور ہوتے ہیں۔ 1844 میں اردو کے ایک اخبار 'جامِ جہاں نما' میں وقایع نگار لکھتا ہے کہ بادشاہ، شہزادے اور امرا غریب غربا کو رقم فراہم کرتے کہ وہ دل کھول کر رنگوں کا یہ جشن مناسکیں۔ زرد، سرخ اور عنابی رنگوں کی پچکاریوں سے سب ایک دوسرے کو رنگ دیتے۔
'تہذیب الاخلاق' کی 1855 کی اشاعت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ شاہ بہادر شاہ ظفر کی پیشانی کس طرح عبیر و گلال سے رنگی گئی۔ اسی دور میں دلی کے خوش باش، بادشاہ کی لکھی ہوئی یہ ہولی گلیوں میں گاتے پھرتے کہ، کیوں مو پہ ماری رنگ کی پچکاری... دیکھو کنور جی دوں گی گاری۔
مشہور فارسی اور اردو شعرا نے ہولی کے گیت لکھے۔ قتیل کی 'ہفت تماشہ' کو ہولی پر لکھا جانے والا سب سے دل پسند فارسی کلام کہا جاتا ہے۔ دکنی اردو میں شاعری کرنے والے قلی قطب شاہ کی لکھی ہوئی ہولی، ہماری ادبی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ہولی کے بارے میں میر تقی میر، خواجہ آتش، انشاء اللہ خان انشا، فائز، حاتم، امانت لکھنوی کا کلام بھی پڑھنے کی چیز ہیں۔
نظیراکبر آبادی جن کا دربار اور سرکار سے کوئی تعلق نہ تھا اور جو اردو کے عظیم عوامی شاعر تھے، انھوں نے یوں تو دیوالی، جنم اشٹمی، دسہرا اور دوسرے ہندوستانی تہواروں کے بارے میں نظمیں لکھیں لیکن ان کی لکھی ہوئی ہولی آج بھی ہندوستان میں بے حد مقبول ہے: وہ لکھتے ہیں:
''جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی... اور دف کے شور کھڑکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی... پریوں کے رنگ دمکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی... خم، شیشۂ جام چھلکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی... محبوب نشے میں چھکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی۔''
''گلزار کھلے ہوں پریوں کے اور جلسے کی تیاری ہو... کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو... منہ لال، گلابی آنکھیں ہوں اور ہاتھوں میں پچکاری ہو''
یہ تمام شاعر، بادشاہ اور شاہ زادے مسلمان تھے، نمازیں پڑھتے تھے، عید بقر عید مناتے، محرم آتا تو مجلس و ماتم میں حصہ لیتے، مسجدیں، مکتب اور سرائے تعمیر کراتے، حاجیوں کے جہاز پر جہاز بھجواتے لیکن ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں کوئی سوال نہیں کر تا تھا اور اگر ایک مخصوص طبقے کی طرف سے اعتراض ہوتا تو اسے نظر انداز کردیا جاتا تھا۔
وارث مظہری نے تاریخی اور ثقافتی حوالے سے رواداری کی کئی تاریخی مثالیں پیش کی ہیں۔ انھوں نے مختلف مستند کتابوں کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ ''غیر مسلم تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت صرف ہندوستان ہی سے خاص نہیں ہے، عہد عباسی اور اس کے بعد کے زمانے میں بکثرت مسلمان... عیسائیوں اور یہودیوں کے تہواروں میں شریک ہوتے تھے۔
ایسٹر کے دن مسلمان عیسائیوں کے ساتھ ''دیر اسمالو'' جو مشرقی بغداد میں تھا، جاتے تھے۔ ایسٹر کی طرح عید صلیب میں بھی مسلمان شریک ہوتے تھے اور اسے عام فرصت کا دن سمجھا جا تا تھا۔ جو تقریبات عیسائی گرجوں میں ہوتی تھیں وہ بھی مسلمانوں کی طرف سے ان میں شرکت کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ چنانچہ دیر ثعالب میں جو بغداد کے مغربی حصے میں واقع تھا، ان میں منائی جانے والی تقریب میں شرکت سے کوئی بھی عیسائی اور مسلمان پیچھے نہیں رہتا تھا۔
اسی طرح مصر میں طولونی عہد کے خلفاء قبطیوں کے مذہبی تہواروں میں شریک ہوتے تھے اور اس کا مقصد ان سے قربت اور ان کی دل جوئی تھی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہندو تہواروں میں شرکت اور انھیں منانے کا جو طرز عمل مسلم بادشاہوں، امرا اور ان کی تقلید میں عوام نے اختیار کیا تھا ان میں بہت سی چیزیں یقیناً اسلامی شریعت کے مزاج سے ہٹی ہوئی تھیں، اسلامی احکامات کی روشنی میں ان کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔
اسے مسلم حکمرانوں کے سیاسی مصلحت پر مبنی احکام کی شکل میں دیکھنا چاہیے، لیکن اس تعلق سے جہاں گنجائش تھی، وقت کے علما نے ان بادشاہوں کو اس کے اختیار سے نہیں روکا۔ ان حکمرانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف تھے کہ ان کا عمل پوری طرح شرعی اصولوں کے مطابق نہیں لیکن انھوں نے اسے مشترکہ سماج اور غیر مسلم اکثریت پر مسلم اقلیت کی حکمرانی کی نزاکتوں کے پیش نظر ایسا کیا۔
ان ادبی اور تاریخی حوالوں کو نظر میں رکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کثیر المشربی کی اپنی شاندار روایات سے ناتا توڑ کر ہم سراسر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی عمومی طور سے اور سندھ پیپلز پارٹی خصوصاً مبارک باد کی مستحق ہے کہ ہولی کے موقع پر اس کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف زرداری، بلاول بھٹو، سید قائم علی شاہ کی تصویروں سے سجے ہوئے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور گیان چند ایسرانی کی جانب سے پاکستان بھر کے لوگوں اور بطور خاص سندھ میں رہنے والی ہندو برادری کو مبارک باد کے پیغامات دیے گئے جو اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات میں شایع ہوئے۔
اس مرتبہ سرکاری طور پر اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ہولی کے تہوار میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام بنادی جائے اور ایکتا کی فضا کو پروان چڑھانے کی سندھی روایت کو برقرار رکھا جائے۔ رواداری کی یہ فضا سندھ اور پاکستان کی خوش حالی اور خوشی کے لیے بہت ضروری ہے۔