نیپرانے ایران سے ایک ہزارمیگاواٹ بجلی خریدنے کی منظوری دیدی

بجلی کوئٹہ میں نیشنل گرڈمیں شامل ہوگی، ایرانی کمپنی طاوانیر 30سال تک فراہمی کی پابند ہوگی


Numainda Express March 11, 2015
بجلی کوئٹہ میں نیشنل گرڈمیں شامل ہوگی، ایرانی کمپنی طاوانیر 30سال تک فراہمی کی پابند ہوگی۔ فوٹو: فائل

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) نے ایران سے1ہزارمیگاواٹ بجلی خریدنے کی اصولی منظوری دیدی۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی)کی درخواست پرسماعت چیئرمین نیپراطارق سدو زئی کی سربراہی میں ہوئی۔ ایرانی کمپنی طاوانیرسے خریدی جانے والی بجلی 500 کے وی ایچ وی ڈی سی بائی پولرٹرانسمیشن لائن سسٹم کے ذریعے کوئٹہ میں نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ اس نوعیت کی ٹرانسمیشن لائن پہلی مرتبہ پاکستان میں تعمیرکی جائے گی۔

اس ٹرانسمیشن سسٹم کے استعمال سے بجلی کی ترسیل پراوسط لاسز 2فیصد کم ہوں گے جبکہ ایک لائن کی بندش کی صورت میںدوسری لائن سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی جاری رہے گی۔ ایرانی کمپنی 30سال تک بجلی فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ بارڈر سے کوئٹہ تک ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر پر 58کروڑ ڈالرلاگت آئے گی۔

ایران نے ٹرانسمیشن لائن کی تعمیرکے لیے 70فیصد فنانسنگ کی پیشکش بھی کی ہے۔اس موقع پر ممبرٹیرف خواجہ نعیم نے کہاکہ این ٹی ڈی سی نے ایران کے ساتھ معاہدے کی عمدہ شرائط طے کیں جوقابل ستائش ہے۔

این ٹی ڈی سی کے ڈپٹی جنرل منیجرفنانس نے بتایاکہ ایران سے خریدی جانے والی بجلی 8سے 11 روپے فی یونٹ ہوگی۔ اتھارٹی کوبتایا گیاکہ ایران 70ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرتا ہے اور ہرسال پیداوارمیں 5ہزار میگاواٹ اضافہ کر رہاہے۔ ایران ترکی، عراق، افغانستان، آذربائیجان اور ترکمانستان کوبھی بجلی فراہم کررہاہے۔

ایران سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے لیے بھی 74میگاواٹ بجلی خریدی جارہی ہے۔ ایران نے ایک ہزارمیگاواٹ کے منصوبے کے علاوہ مزید 3ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔