واہگہ سےتمام اشیا کی تجارت کی اجازت دے جائےبھارتی ہائی کمشنر

کھوکھراپار مونا باؤ سے لین دین پرفریٹ چارجز میں کمی آئے گی، ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان


Business Reporter March 13, 2015
بھارتی ہائی کمشنرکو ٹی ڈیپ چیف ایس ایم منیر اور کراچی چیمبر کے صدر افتخار وہرہ شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی

بھارتی ہائی کمشنرڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے کہا ہے کہ افغانستان خودمختارملک ہے جسے اس کے نصیب پر چھوڑدیا جائے، پاکستان کی جانب سے واہگہ سرحد کے ذریعے ہرقسم کی تجارتی اشیا کے لیے اجازت دے دی جائے تودوطرفہ تعلقات میں بہتری کا یہ پہلا قدم ہوگا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری رونما ہوگی۔

کراچی چیمبر آف کامرس اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تاجروں وصنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تجارتی لین دین مشرقی اور مغربی پنجاب کے علاوہ کھوکھراپار موناباؤ زمینی راستے سے کیے جانے سے فریٹ چارجز میں کمی واقع ہوگی، پاکستان اوربھارت کے مابین تجارتی لین دین میں خسارے کے بجائے تجارت کوبڑھانے پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ بھارت اور چین کے درمیان مابین جاری تجارتی لین دین کے عمل میں بھارت کو تقریباً 30 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کاسامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجودچین کے ساتھ بھارت کا تجارتی لین دین جاری ہے، دونوں ممالک کی تاجربرادری کو ہرسطح پرسہولتوں کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ٹریڈ انفرااسٹرکچر میں بہتری اور سرحد پر زیادہ سے زیادہ تجارتی راہداریاں کھولنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بالخصوص کھوکھراپار مونا باؤ سرحد کو متحرک کرکے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکتی ہے۔

بھارتی ہائی کمشنر نے تجارت کے فروغ اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کے حوالے سے کراچی چیمبر کے فرنٹ لائن کردار کوسراہتے ہوئے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی تاجروں کوویزے سے متعلق شکایات کاازالہ کیا جائے گا اورکراچی چیمبرکی تجویز پرویڈیوکانفرنسنگ کی جائے گی تاکہ ویزوں کے اجرا کو تیز رفتاربنایا جاسکے۔ انہوںنے پاکستانی تاجروں کو مشورہ دیا کہ بھارت کا دورہ کرنے کے خواہش مند تاجر مطلوبہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے ملٹی پل انٹری ویزے کے لیے درخواست دیا کریں جو کئی شہروں کے لیے کارآمد ہے جس سے ان کی ویزے سے متعلق شکایات کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اوربھارتی وزیراعظم دونوں ممالک کی معیشت کو فاسٹ ٹریک پر جاری رکھنے کی خواہش کااظہارکرچکے ہیں، اب ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ پاک بھارت رشتوں کی اخبارات میں سرخیاں گیس پائپ لائن اور دیگر اہم منصوبوں کی زینت بنیں۔