چکر ۔۔۔ اور چکر چلانے والے

سب کچھ سرکل میں چلتا ہے تو پاکستان کا سرمایہ کیوں نہ چلے


Saad Ulllah Jaan Baraq March 14, 2015
[email protected]

ہمیں نہایت ہی شدید اور سخت بلکہ پتھریلا اور فولادی پچھتاوا ہو رہا ہے اللہ ہمیں معاف کرے' جب کھانے بیٹھتے ہیں تو اس پچھتاوے پریشانی اور ٹینشن میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم کتنا کھا گئے ہیں، بعض اوقات تو کھاتے کھاتے آٹھ دس روٹیاں تک کھا لیتے ہیں بلکہ کھاتے کھاتے تھک جاتے تو وہیں پر لیٹ کر سو جاتے ہیں اتنا سوتے ہیں کہ سوتے سوتے بھوک لگ جاتی ہے اور اٹھتے ہی کھانے لگتے ہیں :یعنی تیرے بیمار کو نیند نہیں آتی اور شب بیداری میں خواب دیکھتا رہا ہے۔

چنانچہ ہم نے گھر میں کہہ دیا ہے کہ دس سے زیادہ روٹیاں ہمارے آگے نہ رکھی جائیں ' آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر کتنا بڑا گناہ اور کیسا شدید گناہ ہم سے سرزد ہو گیا ہے تو وہ بتائے دیتے ہیں کہ ہم پاکستانی لیڈروں، پارٹی رہنماؤں اور رہبروں یعنی قوم کے خادموں کو قطعی غلط سمجھے ہوئے تھے عمر بھر بے چاروں کی نیت پر شک کرتے رہے، جب کہ ہم سراسر غلط تھے اس بڑے اور مسلسل گناہ عظیم کا کفارہ تو اب ممکن نہیں ہے کیوں کہ

جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے دکھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

اور اپنی اس شدید بلکہ طویل و قدیم غلطی کا احساس ہمیں سینیٹ کے حالیہ الیکشن نے دلایا ہے اس الیکشن کی ہلکی سی بازگشت آپ نے بھی سنی ہو گی جس میں کروڑوں کے ہندسے بھی یہاں وہاں اڑتے رہے تھے ' اگر کچھ لوگوں نے کروڑوں دے کر سینیٹ کی نشست خریدی وہ بھی قابل تعریف ہیں اور جنہوں نے یہ سیٹیں بیچیں کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ فی زمانہ ان لوگوں سے زیادہ نیک اور زیادہ خادمان قوم اور کوئی نہیں ہے، پاکستانی قوم خوش نصیب ہے کہ خدا نے ان کو لیڈروں کی صورت میں اتنی بے بہا نعمت عطا کر رکھی ہے

ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ

یہ بیچنے اور خریدنے والے دونوں قابل صد آفرین ہیں کہ کہتے ہیں کوئی شخص صحرا میں درختوں کے ایک جھنڈ میں آرام کرنے لگا تو اس نے گھوڑے کو باندھنے کے لیے ایک کیل ٹھونکی ۔۔۔۔ جاتے وقت جب گھوڑا کھولا تو یہ سوچ کر کیل کو رہنے دیا کہ ہو سکتا ہے یہ کسی اور مسافر کے کام آئے، کچھ دنوں بعد ایک پیدل شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اسے اس کیل سے ٹھوکر لگی۔

اس نے یہ سوچ کر کیل اکھاڑ پھینکی کہ کہیں کوئی دوسرا ٹھوکر نہ کھائے، علماء کہتے ہیں کہ یہ دونوں ہی ثواب کے حق دار ٹھہرتے ہیں حالانکہ دونوں کا فعل ایک دوسرے سے قطعی متضاد تھا، سینیٹ کے الیکشن کو بھی آپ ایسا ہی سمجھ لیجیے یعنی الاعمال بالنیات بلکہ اب تو ہمارا یہ خیال بلکہ یقین ہے کہ ہم جو اپنے معصوم پاک دامن لیڈروں کی نیتوں پر شک کرتے ہیں ان کو برا بھلا کہتے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری زندگیاں اجیرن ہو رہی ہیں۔

مہنگائیاں بڑھ رہی ہیں، بجلی کم ہو رہی ہے، لوگوں کے بال وقت سے پہلے سفید ہو رہے ہیں، بچپن سے بینائیاں ختم ہو رہی ہیں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے بڑھ رہے ہیں، بارشیں کم یا زیادہ ہو رہی ہیں گرمیاں شدید گرم اور سردیاں شدید سرد ہو رہی ہیں، سڑکیں دوسرے دن اکھڑ رہی ہیں پل تیسرے دن گر رہے ہیں، ٹریفک جام ہو رہی ہے۔

گاڑیاں دھواں دے رہی ہیں، ٹائر پنکچر ہو رہے ہیں، لڑکے امتحانات میں فیل ہو رہے ہیں، برڈ فلو ڈینگی فلو اور نہ جانے کیا کیا فلو ہو رہے ہیں حتیٰ کہ بال پوائنٹ پن رک جاتے ہیں ورق تمام ہو جاتے ہیں اور مدح باقی رہ جاتی ہے، یہ سب ہمارے یعنی عوام کالانعام کی وہ بری نیتیں اور شک و شبے ہیں جو معصوم خادمان قوم کی نیتوں پر کیے جاتے ہیں۔

لیکن جب سے ہم پر اصل راز کھلا ہے ہم ان ٹکٹ فروشندگان و فروختگان کی نیک نیتوں، صادق جذبوں اور جذبہ خدمت پر عش عش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ افسوس پچھتاوا اور پشیمانی بھی ہو رہی ہے کہ اتنا عرصہ ہم نے ان نیک لوگوں کے نیک جذبوں اور نیک اعمال پر پیڑے پیڑے شک کیے۔

اللہ معافی دے، کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ یہ لوگ کتنے پاک دامن ہیں اور ہم کیسی کیسی کیچڑ ان کے اجلے جامے پر اچھالتے ہیں ساتھ ہی ساتھ سمجھ میں یہ بھی آ رہا ہے کہ آخر ہمارے برے دن اچھے دنوں میں اچھے دنوں میں بدل کیوں نہیں رہے ہیں نجومیوں کا بتایا ہوا وقت بھی گزر چکا ہے لیکن دن ہیں کہ پھرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں لیکن اب سب کچھ سمجھ میں آ چکا ہے کہ ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا، دیکھیں آپ خود سوچیں کہ ایک شخص اپنے گھر سے اپنا کمایا ہوا مال بریف کیس میں بھرتا ہے سارے کام کاج چھوڑ کر ''خدمت'' پر کمر بستہ ہوتا ہے صرف اس لیے کہ اس کا کمایا ہوا دھن عوام تک پہنچے۔

ان کے پاس آخر کس چیز کی کمی ہے سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے مثلاً بے چارے ماچس بیچ کر ''حق حلال'' کماتے ہیں تمباکو سگریٹ بیچ کر کروڑوں جمع کرتے ہیں ان کو آخر کیا پڑی ہے کہ خاندان کے اراکین کو ایک ایک کر کے عوام کی خدمت میں لگاتے ہیں اس سے بھی تسلی نہیں تو خود بھی میدان خدمت میں کود پڑتے ہیں وہ بھی خالی ہاتھ نہیں بلکہ کروڑوں کا دھن دولت لے کر، کسی نے سوچا نہیں ہے ورنہ بات سیدھی دو اور دو چار والی ہے۔

اب یہ سینیٹ کے الیکشن میں یہ جو کروڑوں روپے ادھر ادھر ہوئے چاہے کسی نے گھوڑے بیچے ہوں یا طبیلے، کہاں جائیں گے ... کہاں سے آئے ... یہ بات چھوڑیئے کیونکہ پاکستان میں یہ سوال آئینی قانونی اخلاقی ہر لحاظ سے معیوب ہے کہ کہاں سے آئے بس آ گئے اور جب آ گئے تو بس آ گئے جو آ
گے بڑھ کر تھام لے مینا اسی کی ہے
مے ہے اسی کی، نام پہ جس کے ابل پڑے

مطلب یہ کہ کسی نے ماچس سگریٹ بیچ کر کمائے، گھوڑے گدھے بیچ کر بٹورے چلیے چوری کی لیکن چور تو وہ ہوتا ہے جو پکڑا جائے، مطلب یہ کہ کہیں سے بھی آئے ہوں یہ بات اہم نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ کہاں جا رہے ہیں، سو سیدھی سی بات ہے جنہوں نے لیے وہ کل پھر الیکشن لڑیں گے اور جب الیکشن لڑیں گے تو ذرا سوچیے کہ کہاں کہاں تک نہیں بانٹیں گے بینر بورڈ اور ہورڈنگز والوں کو، نعرے لگانے والوں کو، گلی گلی پھرنے والوں کو، ٹرانسپورٹ کو، ہوٹلوں کو، دیگیں پکانے والوں کو اور نہ جانے کیا کیا کرنے والوں کو حصہ بقدر جثہ اپنا اپنا حصہ بانٹا جائے گا۔

پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ کنویں کی مٹی کنویں ہی میں لگ جاتی ہے، مطلب یہ کہ آج یہ جو کروڑوں آ رہے ہیں تو کل یہ کروڑوں جائیں گے بھی، اور جب جائیں گے تو پھر آئیں گے بھی، طبیعات کا اصول ہے کہ اس پوری کائنات میں ہر چیز ایک دائرے ایک سرکل میں ایک چکر میں چلتی ہے سمندر سے بھاپ اٹھتی ہے بادل بن کر برستی ہے، پانی کچھ برسر زمین چلتا ہے کچھ زیر زمین جو چشموں، کنوؤں، ٹیوب ویلوں کے ذریعے باہر آتا ہے انسانوں حیوانوں اور نباتات کی بڑھوتری ہوتی ہے ایک مقررہ عرصہ گزار کر یہ سب مر جاتے ہیں اور پانی نچڑ کر زمین میں جذب ہو جاتا ہے یہ سب پانی مختلف راستوں سے نالوں پھر دریاؤں اور پھر سمندروں میں پہنچتا ہے اور وہاں اپنی ساری غلاظت چھوڑ کر بھاپ کی صورت میں پھر اپنے سفر پر روانہ ہوتا ہے ایک بیچ پھوٹتا ہے پودا درخت بنتا ہے پھل اور سایہ دے کر پھر بیج کی صورت اختیار کرتا ہے۔

سب کچھ سرکل میں چلتا ہے تو پاکستان کا سرمایہ کیوں نہ چلے ۔۔۔۔ چلتا ہے اور ایسا ہی چلتا ہے بلکہ چل رہا ہے جیسا کہ الیکشنوں میں ہوتا ہے، نہ پانی کہیں سے آتا ہے نہ بیج کہیں جاتا ہے اور نہ سرمایہ کہیں سے آتا ہے یا جاتا ہے، ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں ۔۔۔ ایسے میں ان سوداگروں خادمان قوم اور خرید و فروخت کے ذریعے سرمائے کو چکر میں چلانے والوں کو جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے چاہے وہ سگریٹ ماچس بیچ رہے ہوں یا ووٹ اور نوٹ۔