استعمال شدہ کاروں کی درآمد آٹو صنعت کی ترقی میں رکاوٹ

نئی سرمایہ کاری پر پانچ سال تک 10فیصد درآمدی ڈیوٹی پر سی کے ڈی کی درآمد کی سہولت بھی زیر غور ہے


Business Reporter March 16, 2015
آٹو پالیسی میں پاکستان میں کارمینوفیکچرنگ کا نیا پلانٹ لگانے والی کمپنیوں کو پلانٹ مشینری کی درآمد پر بھی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ دی جائیگی، ذرائع۔ فوٹو: فائل

استعمال شدہ کاروں کی درآمد پاکستانی آٹو انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے۔

انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاسپورٹ کا غلط استعمال نہ روکا گیا تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے اپنی پیداواری استعداد میں اضافہ اور نئی سرمایہ کاری مشکل ہوگی۔ وفاقی حکومت نے آٹو پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا اعلان رواں ماہ متوقع ہے پاکستانی کار مینوفیکچررز کے ساتھ پرزہ جات بنانے والی صنعت نے بھی آئندہ پالیسی میں استعمال شدہ کاروں کی درآمد کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق آنے والی پالیسی میں نئی سرمایہ کاری پر خصوصی مراعتی پیکج دیا جائے گا جس میں ٹیکسوں کی چھوٹ اور نئی سرمایہ کاری پر سی کے ڈی گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی میں خصوصی رعایت شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹو پالیسی میں پاکستان میں کارمینوفیکچرنگ کا نیا پلانٹ لگانے والی کمپنیوں کو پلانٹ مشینری کی درآمد پر بھی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ دی جائیگی۔

نئی سرمایہ کاری پر پانچ سال تک 10فیصد درآمدی ڈیوٹی پر سی کے ڈی کی درآمد کی سہولت بھی زیر غور ہے۔آٹو پالیسی میں پہلے سے موجود آٹو مینوفیکچرررز کو بھی سہولت فراہم کی جائیگی تاکہ موجودہ کمپنیوں کی پیداواری لاگت کو کم کیا جاسکے جس کیلیے سی کے ڈی کی درآمدی ڈیوٹی 32.5فیصد کی موجودہ سطح سے 25 فیصد کی سطح پر لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح مکمل گاڑیوں بالخصوص 1800سی سی سے زائد طاقت کی سی بی یو گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی میں بھی کمی کی جاسکتی ہے۔

پاکستانی آٹو انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آٹو انڈسٹری معیشت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس صنعت سے 3لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے پرزہ جات کی تیاری اور گاڑیوں کی خریدوفروخت، مرمت، سروس کے کاموں سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انڈسٹری کی لاگت میں کمی کیلیے بڑے والیوم تک جانا ضروری ہے تاہم اس کیلیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کیلیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اسکیم کا غلط استعمال روکنا ہوگا۔ پاکستان میں بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ محدود کیے جانے سے بھی گاڑیوں کی مقامی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے اس لیے آٹو فنانسنگ کیلیے خصوصی کنزیومر فنانسنگ ریگولیشنز کی ضرورت ہے۔