افغانستان میں فورسز کے آپریشن میں 54 طالبان ہلاک

ہلمندمیں آپریشن کے دوران 5جنگجو ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے جب کہ آپریشن کے دوران 2 افغان فوجی بھی مارے گئے،


News Agencies March 16, 2015
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ افغان سفارت کار کی رہائی کیلیے سی آئی اے نے القاعدہ کو 50 لاکھ ڈالر تاوان ادا کیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں54 طالبان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ 18 کو گرفتارکرلیا گیا، صوبے ننگرہار میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 3 بچے جاںبحق اور 4 افراد زخمی ہوگئے۔

افغان انٹیلی جنس نے کابل میں خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب نامعلوم مسلح افراد نے ہزارہ برادری کے مزید10افرادکو اغوا کرلیا۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق افغان فورسز نے صوبے غزنی، قندھار، لغمان، فریاب اور سرائے پل میں مشترکہ آپریشن کیا جس میں 49 جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ 18 کو گرفتار کرلیا گیا۔

دریں اثنا صوبے ہلمندمیں آپریشن کے دوران 5جنگجو ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے، آپریشن کے دوران 2 افغان فوجی بھی مارے گئے، فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا جبکہ 109دیسی ساختہ بم ڈیوائسزاور بارودی سرنگ ناکارہ بنادی گئیں۔ طالبان کی جانب سے آپریشن کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 3 بچے جاں بحق اور 2 خواتین سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔ افغان انٹیلی جنس نے کابل میں خودکش حملوں کا بڑا منصوبہ ناکام بنا تے ہوئے خودکش بمبار کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا، مشتبہ دہشت گروں کو حقانی نیٹ ورک نے حملے کیلیے بھیجا تھا۔

صوبے غزنی میں نامعلوم مسلح افراد نے ہزارہ برادری کے مزید10افرادکو اغوا کرلیا، طالبان سمیت کسی بھی گروپ نے تاحال واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ علاوہ ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ افغان سفارت کار کی رہائی کیلیے سی آئی اے نے القاعدہ کو 50 لاکھ ڈالر تاوان ادا کیا۔ افغان قونصل عبدالخالق فراحی کو پاکستان سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق عبدالخالق فراحی پشاور میں افغان قونصل جنرل تھے اور طالبان نے انھیں 2010 میں دفتر جاتے ہوئے اغوا کر لیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق طالبان نے افغان قونصل جنرل کو القاعدہ کو فروخت کیا جبکہ القاعدہ نے سفارت کار کی رہائی کے بدلے القاعدہ کے قیدیوں کی رہائی کی کوشش کی، ناکام ہونے پر القاعدہ نے افغان حکومت سے 50 لاکھ ڈالر طلب کیے، اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے سی آئی اے سے ملنے والی رقم سے تاوان ادا کیا، امریکی سی آئی اے یہ رقم صدارتی کمپاؤنڈ میں پھینک دیا کرتی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق افغانستان میں القاعدہ منیجر عطیہ عبدالرحمن نے خط کے ذریعے اسامہ بن لادن کو رقم کے متعلق بتایا۔

مقبول خبریں