کراچی کے 29 سال

حکومت کو مذہبی انتہاپسند تنظیموں کے مرکزپر بھی چھاپے مارنےچاہئیں جہاں اسلحے کےذخائر ہیں اور انتہاپسند روپوش ہوتے ہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan March 18, 2015
[email protected]

ساجدہ 1986ء میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی طالبہ تھیں۔کراچی میں اچانک فسادات ہوئے، امتحانات ملتوی ہوگئے، ٹرانسپورٹ غائب ہوگئی اور بازار و دکانیں بند ہوگئیں۔ ساجدہ کی والدہ نے اس وقت زندگی کے بدترین لمحات گزارے جب تک ساجدہ گھر نہ پہنچیں۔ گزشتہ ہفتے ساجدہ کی بیٹی نویں جماعت کا امتحان دینے اسکول گئی۔

ایم کیو ایم کے مرکز 90 پر رینجرزکے چھاپے کے بعد اسکول بند ہوگئے، ٹرانسپورٹ غائب ہوگئی اور بازار کھل نہ سکے۔ ساجدہ کواپنی بیٹی کے گھر آنے تک اسی عذاب سے گزرنا پڑا جس عذاب سے اس کی والدہ گزری تھیں۔ ساجدہ نے اس بات پر خدا کا شکر کیا کہ والدہ زندہ ہوتیں تو ان کو سنبھالنا کتنا مشکل ہوتا۔ یہ محض کراچی کے ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ 29 سال کے دوران کراچی میں آباد ہر خاندان کی آپ بیتی ہے۔

رینجرز حکام کہتے ہیں کہ انھوں نے مجرموں کی موجودگی کی انٹیلی جنس رپورٹوں پر چھاپہ مارا، یوں بدنام مجرم گرفتار ہوئے اور امریکی فوج کا چوری ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ امریکی وزارت خارجہ نے وضاحتی بیان میں کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے نیٹو کی فوج کی سپلائی سینٹرز میں اسلحہ نہیں جاتا تھا۔ انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ جہاں ملزم ہو وہاں چھاپہ مارا جاتا ہے مگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ساتھ مجسٹریٹ کی موجودگی ضروری ہے۔

حکومت کو مذہبی انتہاپسند تنظیموں کے مرکز پر بھی چھاپے مارنے چاہئیں جہاں اسلحے کے ذخائر ہیں اور انتہاپسند روپوش ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی نمایندہ جماعت ہے مگر ایم کیو ایم ایک بند ڈھانچے والی جماعت ہے۔ دنیا بھر میں اٹلی کے مسولینی کی فاشسٹ پارٹی، ہٹلرکی نازی پارٹی، پاکستان کی جماعت اسلامی بھی بند ڈھانچے والی جماعتوں کی فہرست میں آتے ہیں۔

ایسی جماعتوں میں کارکن نظریہ یا شخصیت پرستی کے گرد متحد ہوتے ہیں، یہ جماعتیں انتہائی منظم تو ہوتی ہیں مگر آزاد روش کی روایت نہ ہونے کی بناء پر ایک قسم کی آمریت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ان جیسی جماعتوں کے ساتھ تشدد پسند عناصر منسلک ہوجائیں تو عوامی جماعت ہونے کے باوجود یہ مسائل کا شکار رہتی ہیں۔ ایم کیو ایم اسی طرح کی صورتحال کا شکار ہے اور اس کو مختلف اقسام کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ 29 سال کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بار بار واضح ہوتی ہے کہ مقتدر قوتوں اور دیگر ممالک نے اس صورتحال کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، ایم کیو ایم کے کارکنوں نے قربانیاں دیں ہیں۔ ان کے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کی فہرست بھی خاصی طویل ہے مگر شہر میں سکون جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی ہے۔

بدھ 11 مارچ کو صبح 5بجے ایم کیو ایم کے مرکز پر رینجرزکی کارروائی کے بعد شہر بند ہوا اور دو دن تک شہر کے بیشتر علاقے بند رہے۔ ٹرانسپورٹ بند ہونے، تعلیمی اداروں کی بندش، اسپتال اور بازار بند ہونے سے لاکھوں افراد کو ایک دفعہ پھر ایک ایسے عذاب سے گزرنا پڑا جس کے مداوے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

ایم کیوایم کے کارکن وقاص شاہ کی موت سے نہ صرف ایک خاندان کو لختِ جگر سے محروم کردیا اور ایک ذہین نوجوان کی موت سے کراچی مستقبل کے ایک اچھے پارلیمنٹیرین سے بھی محروم ہوگیا بلکہ ملک کا بین الاقوامی امیج بھی متاثر ہوا ۔ کراچی میں بہت سارے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں انتہاپسند مذہبی عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں مگر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ، اس صورتحال کے نتیجے میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ حاصل ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں آپریشن ایم کیو ایم کی مرضی سے ہورہا ہے مگر حکومتِ سندھ نے نائن زیرو پر رینجرز کی کارروائی کے بارے میں تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کراچی کے واقعات پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ 1986 سے اب تک بہت سے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیے گئے مگر حکومتوں کی عدم دلچسپی اور سیاسی جماعتوں کی مخصوص حکمت عملی کی بناء پر یہ کمیشن کوئی مفید کام انجام نہیں دے سکے۔ دو ماہ قبل ایم کیو ایم کے کارکن سہیل احمد کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنا تھا۔

پہلے حکومت نے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا مگر ایم کیو ایم نے اعتراض کیا کہ ہائی کورٹ کے حاضر جج سے اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں، حکومت نے ایک نیا اعلامیہ جاری کیا اور سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج محمد علی مظہر کو اس عدالتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا مگر حکومت اور متعلقہ فریقوں کی عدم دلچسپی یا اخبارات کے صفحات کی زینت نہ بننے کی وجوہات کی بناء پر تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں ہوسکا۔

بہرحال ملک کی صفِ اول کی جماعتوں میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز پر رینجرز کا چھاپہ سیاسی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ اس واقعے کے سیاسی تاریخ پر دور رس نتائج برآمد ہوںگے۔ اس بناء پر اس معاملے کی تحقیقات کا جلد از جلد مکمل ہونا اس صوبے اور ملک کے سیاسی استحکام کے لیے اشد ضروری ہے۔ مگر اس مجموعی صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے عسکری ونگز خود ختم کریں گی بصورت دیگر ریاستی اداروں کو یہ فریضہ انجام دینا ہوگا۔

بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوج کی نئی قیادت کی پالیسی اب مختلف ہے، وہ ماضی کی طرح پراکسی وار پر یقین نہیں رکھتی اور ملک بھر میں عسکری گروہوں کو مستقل ختم کیا جائے گا۔ یہ بات خوش آیند ہے مگر انسانی حقوق کی پاسداری اور ملکی قوانین پر عمل کر کے ہی اس پالیسی کے مثبت نتائج برآمد ہوںگے۔ سیاسی جماعتوں کو اب اس بارے میں حتمی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ورنہ نہ صرف عوام کا سیاسی جماعتوں پر سے اعتماد ختم ہوجائے گا بلکہ سیاسی نظام بھی کمزور ہوجائے گا ۔

ستمبر میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔ کیا تمام جماعتوں کو ان انتخابات میں حصہ لینے کے یکساں مواقعے حاصل ہوں گے ، پولنگ کے عملے کو انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہدایات تو نہیں ملیں گی اور پولنگ اسٹیشن پر پریشر گروپ قبضہ تو نہیں کریں گے۔ یہ معاملات شفاف آپریشن سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے عوام کے حالاتِ زار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیا 29سال بعد بھی یہ شہر ہر ہفتے بند ہوگا؟