کتنے فون ٹیپ ہو رہے ہیں اور کن اداروں کو اختیار ہے سپریم کورٹ نے جواب مانگ لیا

کوئی بھی ادارہ خواہ وہ سول ہو یا کوئی دوسرا کس قانون کے تحت فون ٹیپ کر سکتا ہے؟، جسٹس ثاقب نثار


Numainda Express March 19, 2015
مقدمہ کی سماعت آگے بڑھنے کی صورت میں اسپیشل پولیس ودیگر اداروں سے بھی تفصیلات طلب کی جائیںگی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے غیرقانونی طور پر ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے معاملے میں وفاقی حکومت سے جامع جواب طلب کرلیا۔

جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے غیر قانونی طور پر ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے بارے میں18سال پرانے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کوہدایت کی ہے کہ وہ بتائے کہ ریاست کے کون سے اداروں کو کس قانون کے تحت فون ٹیپ کرنے کا اختیار حاصل ہے اوراس وقت کتنے فون ٹیپ کیے جارہے ہیں،سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے 1996ء میں حکومت اور عدالت کے درمیان محاذ آرائی کے دوران اپنے چیمبر میں بگنگ ڈیوائسز نصب کرنے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ بدھ کوطویل التوا کے بعد سماعت ہوئی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہاکوئی بھی ادارہ خواہ وہ سول ہو یا کوئی دوسرا کس قانون کے تحت فون ٹیپ کر سکتا ہے؟، یہ بہت اہم معاملہ ہے،1996ء میں بینظیر بھٹوکی حکومت کو اسی اہم معاملے پر جانا پڑا تھا۔فاضل جج کا کہنا تھا کہ مقدمہ 1996ء سے زیر التوا رہ گیا لیکن اب سماعت کے لیے لگادیا گیا ہے، ہم اس معاملے کو تمام پہلوؤں سے دیکھیںگے،ڈپٹی اٹارنی جنرل بتائیںکہ فون ٹیپ کرنے کا قانون کیا ہے،اس سلسلے میں وہ وفاق ،آئی بی اورآئی ایس آئی سے بھی رابطہ کریں اور یہ بتائیں کہ اس وقت کتنے فون ٹیپ کیے جارہے ہیں،ان کی تعداد عدالت کوفراہم کی جائے اور یہ بھی بتائیں اس معاملے میں کون سے انٹیلی جنس ادارے ملوث ہیں۔

مقدمہ کی سماعت آگے بڑھنے کی صورت میں اسپیشل پولیس ودیگر اداروں سے بھی تفصیلات طلب کی جائیںگی، سماعت تین ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں اسٹون کرشنگ کی اجازت دینے کے معاملے پرچیف کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر معدنیات کو وضاحت کے لیے آج طلب کرلیا ہے۔سی ڈی اے کے وکیل حافظ ایس اے رحمان نے رپورٹ نے پیش کی اور بتایا کہ اسٹون کرشنگ کی اجازت دینے کی تمام ذمے داری اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا سی ڈی اے نے آپریشن کرکے کرشنگ رکوادی ہے اور مشینیں تحویل میں لے لی ہیں، علاقے میںکام کرنے والی سیمنٹ فیکٹری کونوٹس بھی جاری کردیے ہیں۔سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کرشننگ کا اجازت نامہ ڈائریکٹر مائنزدیتا ہے۔

آن لائن کے مطابق عدالت نے کہا یہ فوجداری نوعیت کا معاملہ ہے، مناسب جواب نہ ملا تو چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے حج کرپشن کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے مقدمے میں کہا ہے کہ کام نہ کرنے کی ریت کو اب بدلنا ہوگا،تفتیشی ادارے اور ٹیمیں اپنا کام نہیںکرتیں اور بدنام عدالتوں کو کیا جاتا ہے، جب تک دو چارکو سزا نہیں ہوتی، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔فاضل جج نے تفتیش میں غفلت برتنے پر ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کو شوکاز نوٹس کا 2ہفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے نیٹوکنٹینرز غائب ہونے سے متعلق مقدمہ میں نیب سے احتساب عدالتوں میں اس حوالے سے دائر مقدمات کی تفصیلی رپورٹ مانگ لی ہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب فوزی ظفر نے بتایا کہ کل11980کنٹینر غائب ہوئے جن میں سے 7918کنٹینرز سے متعلق44 ریفرنس دائر کردیے گئے ہیں جبکہ627 دیگرکنٹینرزکے ایف بی آرکی طرف سے بنائے گئے13 ریفرنس بھی دائر ہوچکے ہیں۔دونوں قسم کے ریفرنس اس وقت کراچی کی احتساب عدالت نمبر تین میں زیر سماعت ہیں ۔عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کیلیے ملتوی کردی ۔عدالت نے کراچی میں شیرشاہ پل کی ناقص تعمیر کے مبینہ ذمے دار انجینئرز نوید مرزا، ظہیر مرزا اور خالد مرزا کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔