صنعتی علاقوں کا انفرااسٹرکچر رینجرز کے حوالے کرنیکا مطالبہ

سندھ حکومت مکمل ناکام، مزدور بے حال، وزرا مزے کررہے ہیں، کراچی نام کا میٹروپولیٹن ہے، جاوید علی


Business Reporter March 20, 2015
سندھ حکومت مکمل ناکام، مزدور بے حال، وزرا مزے کررہے ہیں، کراچی نام کا میٹروپولیٹن ہے، جاوید علی فوٹو: فائل

کراچی کے 6 صنعتی علاقوں کی نمائندہ تنظیموں نے صنعتی علاقوں کی تباہ حال انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے انتظام رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری کے صدر جاوید علی غوری، فائیٹ کے چیف ایگزیکٹو ریحان ذیشان، سائیٹ ایسوسی ایشن اورکراچی انڈسٹریل فورم کے ترجمان جاوید بلوانی، نارتھ کراچی ٹریڈاینڈانڈسٹری کے صدر عبدالرشید فوڈر والا، صدر سائٹ سپر ہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نثار احمد خان، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے زین بشیراور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری کے صدرراشد احمد صدیقی نے جمعرات کومشترکہ پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ حکومت سندھ صنعتی علاقوں کے مسائل حل کرانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے لہٰذا صنعتوں کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ تمام صنعتی علاقوں کا انتظام ونگرانی رینجرز کے حوالے کردیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن صرف جھاڑوں لگاکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کراچی میں بلدیاتی نظام نہیں ہے۔ فباٹی کے صدر جاوید علی غوری نے کہا کہ کراچی میں صنعتیں موجودہ انفرااسٹرکچر، امن وامان کی ناقص صورتحال، پانی، بجلی، گیس کی عدم فراہمی کے باعث بند ہورہی ہیں لیکن حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں کام کرنے والا مزدورطبقہ موجودہ صورتحال کے باعث بے حال ہے جبکہ صوبائی وزرا مزے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تمام 7ایسوسی ایشنز نے مل کرکراچی انڈسٹریل فورم تشکیل دیاتاکہ ناقص، غیرمعیاری اورناکافی انفرااسٹرکچر، امن وامان کی ناگفتہ صورتحال، پانی کی شدید قلت، سڑکوں کی خستہ حالی،گیس اوربجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرسکیں مگر اب تک ارباب اختیار کو ہوش نہیں آیاہے اور شاید ان کو ان مسائل کی طرف توجہ دینے کا خیال نہیں آیا، جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کراچی پاکستان کاسب سے بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے اور ہمارایہ شہر معیشت کی شہ رگ ہے۔

ہمارا یہ شہر قومی خزانے کومجموعی ٹیکس ریونیو54فیصد اداکرتاہے اورلاکھوں افراد کو روزگارفراہم کرنے کے ساتھ تقریبا 50 فیصد برآمدات میں حصہ لیتاہے، مگربدقسمتی سے اس شہر کو وہ بنیادی سہولتیں میسرنہیں آرہی ہیں جوکہ شہر کاحق ہے۔ گزشتہ عشروں سے کراچی کی تمام صنعتی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر میں کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی، نہ ہی ان علاقوں میں مطلوبہ مقدارمیں پانی فراہم کیاجارہاہے۔ گیس اور بجلی کی لوڈشیدنگ کی جارہی ہے، اسٹریٹ لائٹ نہ ہونے کے برابر ہے، امن وامان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے اورانڈسٹریل ایریاکی سڑکیں شکستہ حالی اوربری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، مگرکراچی محض نام کا میٹروپولیٹن شہر ہے جس میں دنیا کے دیگرمیٹروپولیٹن شہروں کی طرح مطلوبہ سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ نیزیہ کہ اگرکوئی غیرملکی خریدارجومال لینے کیلیے کراچی آتے ہیں وہ انڈسٹریل علاقوں کی حالت زار دیکھ کر اپنے ملک اچھاتاثرنہیں لے جاتے، جس کے سبب کراچی کا امیج دنیابھرمیں منفی اندازمیں پیش کیا جاتا ہے۔

کراچی کے ساتوں صنعتی علاقوں کا ماحول قطعی غیردوستانہ ہے، شہرمیں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے آئے دن حادثات میں اضافہ ہورہا ہے، امن وامان کی صورتحال اتنی سنگین ہے۔گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے اور اور جب گیس آتی بھی ہے تواکثر پریشرمیں انتہائی کمی کے ساتھ سپلائی ہوتی ہے، واٹربورڈ کی پائپ لائنوںمیں پانی دستیاب نہیں ہوتا، غیرقانونی ہائیڈرینٹس سے ہم اپنے ہی حصے کاپانی خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں خاطرخواہ اضافہ رونما ہوتا ہے۔

اس تناظرمیں کراچی کی بہت سی صنعتیں زبوں حالی کاشکارہیں اور لاکھوں مزدوروں کے بیروزگارہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صنعتی علاقوں کے پولیس اسٹیشنز افسران کی تقرری اور تبادلوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی بھی صنعتی ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس وصول کرتی ہے توانفرااسڑکچرکی بہتری بھی اس کی ذمے داری ہے، اگر حکومت انفرااسٹرکچر کومدنظررکھتے ہوئے بہتری پیدانہیں کرسکتی توٹیکس وصولی کا اختیاربھی تمام ایسوسی ایشنز کے سپرکردے تاکہ روشنیوں کے اس شہر کو پھر سے ایک مرتبہ چارچاند لگادیں۔ حال ہی میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے ایک نیا مطالبہ کیا ہے کہ اسٹریٹ لائٹس کی بلنگ وہ انڈسٹریز کو کر رہی ہے جو سراسر زیادتی ہے، یہ تو ٹاؤن کی ذمے داری ہے کہ وہ کے الیکٹرک کو اس کے بلز کی ادائیگی کرے کیونکہ وہ صنعتوں سے اس مد میں ٹیکس وصول کرتی ہے۔