اقلیتوں کے لیے سبق
سانحہ یوحنا آباد پاکستانی معاشرے کا المناک واقعہ ہے۔ دہشت گردوں نے یوحنا آباد کے چرچ پر خود کش حملہ کیا۔
سانحہ یوحنا آباد پاکستانی معاشرے کا المناک واقعہ ہے۔ دہشت گردوں نے یوحنا آباد کے چرچ پر خود کش حملہ کیا۔ اس حملے میں 7مسلمانوں سمیت21 افراد جاں بحق ہوئے، مشتعل ہجوم نے دو نوجوانوں کو زندہ جلادیا پھر دو دن تک لاہور کے علاقے فیروزپورروڈ پر بلوائی ہنگامہ آرائی کرتے رہے ان ہنگاموں کی زد میں ایک خاتون اپنی گاڑی سمیت آگئیں ، ہجوم نے گاڑی کو نقصان پہنچایا ، تو خاتون نے گاڑی تیزرفتاری سے بھگائی اور اس کی زد میں آکر مزید دو افراد ہلاک ہوئے ، افواہیں پھیلنے سے قریبی علاقے کے لوگوں میں اشتعال پھیلا، رینجرز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑے تصادم کا خطرہ ٹل گیا مگر عدم برداشت کے مظاہرے نے معاشرے کے مستقبل کے بارے میں خدشات گہرے کردیے ۔
یہ حقیقت ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے اقلیتوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، پنجاب میں عیسائی ، سندھ اور بلوچستان میں ہندو اور خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سکھ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گزشتہ صدی کی آخری دھائی میں اقلیتی فرقے کے افراد کے خلاف متنازعہ مقدمات قائم ہوئے ، ان مقدمات میں متعدد افراد کو سزائے موت ہوئی۔جو رہا ہوئے وہ قتل ہوگئے یا جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ گئے۔ پیپلزپارٹی کے دوسرے دورِ حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بھٹی کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا، ایک وقت وہ بھی آیا جب فیصل آباد کے ایک بشپ نے احتجاجاً خود کشی کرلی ، اس کے باوجود حکمرانوں نے معاملات کے حل کے لیے کوششیں نہیں کیں۔
نائن الیون کے بعد طالبان نے اقلیتوں پر حملے کیے اورمسلمان روشن خیال لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی ۔ پہلی دفعہ مری میں قائم چرچ پرخود کش حملہ ہوا پھر کوئٹہ میں امام بارگاہ کونشانہ بنایا گیا ، پشاور اور قبائلی علاقوں میں ان مساجد پر خود کش حملے ہوئے جن کے پیش اماموں نے طالبان کے نظریات کو باطل قرار دیا تھا، ان انتہا پسندوں نے ڈاکٹر فاروق اور سرفراز نعیمی جیسے عالموں کو نشانہ بنایا ۔ داتا دربار اور عبداللہ شاہ غازی کے مزارکو خودکش بمباروں نے تباہ کرنے کی کوشش کی۔
طالبان نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے،کامرہ اور رسالپور کے فوجی ہوائی اڈوں پر حملہ ہوا ، راولپنڈی میں جی ایچ کیو کو نشانہ بنایا گیا ، معاملہ یہاں تک پہنچا بلکہ اسکولوں کو نشانہ بنایا جانے گا ۔ پشاور کے پبلک اسکول پر حملہ اس کی بدترین مثال تھی ۔ جب کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر پے در پے حملے ہوئے اور سیکڑوں افراد حملوں میںجاں بحق ہوئے تو شیعہ برادری نے پورے ملک میں دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس صورتحال کے جواز میں انتہاپسند مذہبی تنظیموں نے مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔ فروری 2013میں حملے کے بعد کراچی، لاہور ، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں کو محصورکیا گیا۔
یوحنا آباد میں دو گرجاگھروں میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنا کر مذہبی انتہاپسندوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے خودکش حملہ آوروں کو استعمال کیا۔ ان نوجوانوں سے جنت میں حوروں کے ساتھ زندگی گزارنے اور لواحقین کو بھاری رقوم دینے کے وعدے ہوئے مگر انتہاپسند عناصر کبھی بھی خودکش دھماکوں کے بعد تماشہ دیکھنے کا انتظار نہیں کرتے۔ مگرمشتعل ہجوم نے دو معصوم نوجوانوں کو زندہ جلا کر کوٹ رادھا کشن میں عیسائی جوڑے کو زندہ جلانے کے واقعے کی یاد تازہ کردی۔
مشتعل ہجوم نے فیروز پور روڈ پر دو دن تک ہنگامہ آرائی کی جس کی بناء پر انتہاپسندوں کو افواہیں پھیلانے کا موقع ملا جس کے نتیجے میں مذہبی فسادات کا خطرہ پیدا ہوا۔ اگر پولیس اور رینجرز مداخلت نہیں کرتے تو ایسی صورتحال پیدا ہوتی کہ یوحنا آباد کا سانحہ پس منظر میں چلا جاتا۔ انتہاپسندوں کو طاقت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ دہشت گردی کے ماہرین کہتے ہیں کہ انتہا پسند دہشت گرد مختصر ہوتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت دہشت گردی کی سوچ کی حامی نہیں ہوتی مگر حالات انھیں طاقت دیتے ہیں۔ پوری دنیا میں سیاسی ماہرین ایسے مواقعے پر ایسی حکمت عملی کی تجویز پیش کرتے ہیں کہ یہ انتہا پسند تنہا ہوجائیں ۔
انتہا پسندوں کو تنہا کرنے کے لیے سیاسی قوتوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سیاسی قوتیں جب متحد ہوکر دہشت گردی اور ان سے منسلک دوسرے مسائل کے خلاف جدوجہد کرتی ہیں تو عوام متحرک ہوتے ہیں اور عوام کا متحرک ہونا انتہا پسند دہشت گردوں کی موت ہوتا ہے ۔ سیاسی قوتیں جب سیکولر انداز میں جدوجہد کرتی ہیں تو دہشت گردوں کے سامنے نظر آنے والے اسباب کے علاوہ حقیقی اسباب کے خاتمے کی جدوجہد کرتی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میںجب متنازعہ قوانین نافذ ہوئے تو ایک مسلک کے مذہبی رہنمائوں نے فرقہ وارانہ بنیاد پر جدوجہد کی بنیاد ڈالی ۔ اگرچہ وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل ہوئی مگر دوسری فرقہ وارانہ تنظیمیں قائم ہوئی اور انھیں دوسرے ممالک سے امداد ملنے لگی یوں ایک ایسی پراکسی جنگ شروع ہوئی جو ختم لینے کا نام نہیں لیتی ۔ اب عیسائی برادری کے انتہا پسندوں نے پھر فرقہ وارانہ رویہ اختیار کیا ہے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس صورتحال سے انتہاپسندی کو تقویت ملے گی۔ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ ذہنوں کی تبدیلی بھی انتہائی ضروری ہے۔ ذہنوں کی تبدیلی کے لیے تشدد کسی صورت راستہ نہیں ہے، اس لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔