دینی مدارس کو خود ہی کچھ کرنا ہو گا
اب دینی مدارس کی بات چھڑ ہی گئی ہے تو کیوں نہ اس موضوع کو ذرا اچھی طرح ادھیڑ لیں۔
اب دینی مدارس کی بات چھڑ ہی گئی ہے تو کیوں نہ اس موضوع کو ذرا اچھی طرح ادھیڑ لیں۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ سے چل رہا ہے کہ جب بھی ''طالبان'' کی طرف سے کوئی بڑی کارروائی ہوتی ہے تو ''دینی مدارس'' پر سوال اٹھایا جاتا ہے کیونکہ بدقسمتی یا بدنیتی سے سیاست مداران عالم نے ''طالبان'' کا نام اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کرنا شروع کیا تھا حالانکہ اس نام سے جو ''چیز'' لانچ کی گئی تھی۔
اس میں طالبان کے بجائے اجڈ جاہل ان پڑھ یا صرف برائے نام دینی طالب علم شامل تھے جو اپنی تعلیم کبھی مکمل نہیں کر پائے تھے یا ویسے ہی چند مخصوص الفاظ سیکھ کر داڑھی رکھ کر اور پگڑیاں پہن کر طالب بن گئے تھے یا بنا دیے گئے تھے اور طالبان کا تعلق چونکہ دینی مدارس سے ہوتا ہے اس لیے جب بھی اس نام کا کسی واقعے میں سامنے آتا ہے دینی مدارس کی طرف نگاہ اٹھنا ایک فطری امر ہے۔
اس میں کافی بڑا قصور ان لوگوں کا اور پھر خاص طور پر چند سیاسی + دینی جماعتوں کا بھی ہے کہ جب تک طالبان نیک نام رہے یہ لوگ بڑے فخر سے ان کے ساتھ اپنے تعلق کے ڈھنڈورے پیٹتے رہے اور کسی نہ کسی شکل میںان سے اپنا تعلق جوڑنے کی کوشش کرتے رہے، نام لینے کی ضرورت نہیں لیکن ایک طرف اگر نصیر اللہ بابر اور بے نظیر طالبان کی تعمیر کو اپنا کارنامہ بتاتے تھے اور دوسری طرف کچھ ادارے اور کچھ جرنیل بھی اس کارنامے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب پانسہ پلٹ گیا، بڑے آقا کی طرف سے طالبان کی نیک نامی کو بدنامی میں بدل دیا گیا تو ہر کوئی اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر ان سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرنے لگا۔
خیر سیاست ہے اسی پنترہ بازی کا نام لیکن بیچ میں بدنامی کا سارا ملبہ دینی مدارس پر ڈالا جانے لگا کیونکہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ لیکن جو انتہائی خطرناک بات ہوئی وہ یہ کہ دینی مدارس کی نیک نامی نے بے شمار سوداگروں، نوسر بازوں اور جعل سازوں کو اس طرف مائل کیا، چونکہ اس کام بلکہ دینی علم کی خرید و فروخت میں ضیاء الحق کی گرانٹوں، امریکا کے ڈالروں، سعودی عرب کے ریالوں اور کویت وغیرہ کے درم و دینار کی بے تحاشا آمد تھی، اس لیے گلی گلی میں ایک ''دارالعلوم'' کھل گیا جن کے مہتمم اکثر جاہل تھے۔ ہم نے ایک ایسے مدرسے کو بچشم خود دیکھا ہے ۔
ایسے بھی مدرسے ہیں جن میں چار پانچ ''طالب علم'' ہوتے ہیں اور مہتم صاحب خود رسید بک لے کر امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور عرب ممالک میں چندہ بٹوری کے لیے سال کے بارہ مہینے ابراڈ رہتے ہیں، ظاہر ہے کہ نام تو مدارس اور طالب ہی کا خراب ہوتا ہے لیکن اب جو سب سے بڑی پرابلم ہے کہ ان لوگوں کو اگر ذرا بھی چھیڑا جاتا ہے یا چھان بین ہوتی ہے تو ملک بھر کے سارے دینی رہنما اور پارٹیاں پورے ملک کو سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ مدارس کے خلاف کارروائی کی مزاحمت کی جائے گی۔
صرف مدارس ہی میں یہ کالی بھیڑیں نہیں ہیں بلکہ ان کے مقابل انگریزی میڈیم اسکولوں اور کالجوں کا بھی یہی حال ہے بلکہ ہیلتھ کلینکوں اور اسپتالوں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔کسی نے جہاں بھی موقع ہاتھ لگا، ایک انگریزی ماڈل اسکول کھولا ہوا ہے کیونکہ انگریزی میڈیم اسکولوں کی شہرت بھی یہ ہے کہ ملک میں افسر اور بڑے بڑے عہدے دار صرف انگریزی اسکولوں میں پڑھنے والے ہوتے ہیں، اس لیے لوگ استطاعت نہ ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنی اولاد کو ان ''ماڈل'' اسکولوں میں گھساتے ہیں، بغیر یہ دیکھے ہوئے کہ ان کا معیار کیا ہے۔
اسکول یا درس گاہ ہے بھی یا نہیں اسکول ہے یا تعلیم فروشی کی دکان یا کیبن یا ریڑھے ہیں، چنانچہ آج کل پورے ملک کو ان دونوں نیک نام چیزوں یعنی دینی مدارس اور ماڈل اسکولوں نے اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ ایک کو دنیا سنوارنے کا دعویٰ ہے دوسرے کو آخرت سنوارنے کا دعویٰ ہے اور دونوں میں جعل سازوں کی اتنی بھرمار ہو چکی ہے کہ اصل اور حقیقی ادارے دکھائی ہی نہیں دے رہے ہیں، چاروں طرف صرف دکانیں ہی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان دکانداروں سے قوم کو کیسے بچایا جائے اور اصلی دینی مدارس اور حقیقی ماڈل اسکولوں کو ان رسوائیوں اور بدنامیوں سے کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ حکومت تو یہ کام کر ہی نہیں سکتی کیونکہ حکومتوں میں بیٹھے ہوئے بااختیار لوگوں نے تو چند ٹکوں کی خاطر بے تحاشا اجازت نامے جاری کر رکھے ہیں، بغیر کسی چھان بین یا معیار کے ان سب کو ''رجسٹرڈ'' کیا جا چکا ہے، چنانچہ قانونی طور پر تو ایک اعلیٰ درجے کا بے مثال دینی مدرسہ اور کسی مسجد یا گھر کے ایک کمرے پر مشتمل مدرسہ دونوں ہی رجسٹرڈ مدارس ہیں۔
حکومت اگر اس قسم کے لوگوں کے خلاف کارروائی کا صرف سوچتی بھی ہے تو ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، مزاحمت کی جائے مقابلہ کیا جائے گا خطرناک ''نتائج'' بھگتنا ہوں گے وغیرہ وغیرہ ۔ بات کو گھما پھرا کر اس نازک مقام پر لا کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ حکومت دینی مدارس بلکہ دین کو ختم کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہے، بات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکا اور دین مخالف قوتوں کی اسلام دشمنی سے بھی جوڑ دیا جاتا ہے۔
یوں بات لٹکی کی لٹکی رہ جاتی ہے اور ایک عرصے سے لٹکی چلی آرہی ہے جب کہ کسی کو یہ اندازہ ہے ہی نہیں کہ جعلی دینی مدارس اور ماڈل اسکولوں نے قوم کا کیا حشر کیا ہوا ہے اور آیندہ اس کے کتنے خطرناک نتائج نکلنے والے ہیں، اس وقت پاکستان میں اٹھارہ ہزار سے کچھ اوپر ''دینی مدارس'' قائم ہیں اور اگر فی مدرسہ بیس طالب علم بھی فرض کریں تو چھتیس لاکھ ہوئے، مان لیا کہ یہ لوگ طالبان نہیں بنتے لیکن پھر بھی یہ کسی بھی دنیاوی یا روزی روٹی سے متعلق کوئی پیشہ اختیار نہیں کر سکتے اکثر تو آگے خود مدرسہ کھولتے ہیں یا مساجد میں بیٹھ کر اختلافی مسائل پیدا کرتے ہیں، پالتے ہیں اور پوستے ہیں، گویا ہر سال ملک میں ایک کثیر تعداد میں بیروزگار بلکہ بے ہنر مند پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ بڑے سے بڑے علامہ کے لیے بھی تو روزی روٹی کا کوئی وسیلہ درکار ہوتا ہے اور چونکہ یہ لوگ بہت بڑے عالم سہی لیکن کمانے کے معاملے میں بیکار محض ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں جائیں گے کھیتوں میں کام کرنے، گارا مٹی اٹھانے یا کوئی دوسرا کام کرنے کے بجائے سیدھے جا کر دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس معاملے میں حکومت نہ تو کچھ کر سکتی ہے اور نہ حکومت مسائل حل کیا کرتی ہے، اس کا تو فائدہ اسی میں ہے کہ مسائل کے انڈے پیدا کرے اور پھر اسے مرغی کے نیچے رکھ کر مزید مرغیاں اور انڈے پیدا کرنے کا کام کرے، اس لیے جو کچھ بھی کرنا ہے اس ملک کے حقیقی مدارس اور حقیقی علماء کو کرنا ہے کیونکہ بدنامی ان کی ہو رہی ہے۔
بازار میں کسی بھی جعلی چیز کا اثر اصل چیز پر ہی پڑتا ہے، لہٰذا ان حقیقی اور صحیح معنی میں اسلام پھیلانے والے مدارس کو کوئی ایسا طریقہ وضع کرنا چاہیے جس سے جعلی اور تجارتی مدارس کا راستہ روکا جا سکے اور حقیقی مدارس پر سے شکوک و شبہات کے بادل ہٹ جائیں تاکہ ایک صحیح چیز اپنے صحیح فوائد کے ساتھ اطمینان سے اپنا کام جاری رکھ سکے اور دین کے نام پر دکانداریاں کرنے والے اور اس ملک میں بے کار و بیروزگار جوانوں کا اضافہ کرنے والے اور دہشت گردی کے لیے بالواسطہ خام مال تیار کرنے والے درمیان میں سے نکل جائیں، یہ کوئی معمولی خطرہ نہیں بلکہ بہت بڑا خطرہ ہے۔
اس ملک میں ویسے بھی بیروزگاری کا عفریت بہت سارے نوجوانوں کو نگل رہا ہے جو تنگ آکر مجبوراً غلط سلط راستوں پر نکل جاتے ہیں کیونکہ انسان کتنا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو جائے، ایک پیٹ بھی رکھتا ہے اور اس پیٹ کو روزی روٹی درکار ہوتی ہے اور روزی روٹی کے لیے کام کرنا پڑتا ہے اور اگر ''کام'' اچھا نہ ملے تو تنگ آکر ''برے کام'' بھی کرنے لگتا ہے، ایک اور ضروری اور نہایت ہی اہم بات یہ ہے کہ دینی مدارس کچھ ایسا نظام وضع کریں اور یہ ان کے لیے مشکل نہیں ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ طلباء کو کوئی پیشہ سکھانے کا بندوبست بھی کریں ۔
دارالعلوم دیوبند میں ایسا ہی ہوتا تھا کہ دینی علم کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو کوئی پیشہ اور کوئی ہنر سکھایا جاتا ہے، درزی، ترکھان، لوہار، موچی، معمار اور اس طرح کے دیگر بہت سارے کام سکھائے جاتے تھے، ایسا طالب علم جو علم کی روشنی سے بھی منور ہو اور روزی روٹی کے لیے کسی کا محتاج بھی نہ ہو۔
معاشرے کا ایک بہترین رکن ہوتا ہے، وہ بغیر کسی لالچ یا مجبوری کے دین کے شعائر کو رائج کر سکتا ہے لیکن اگر اس کے پاس اپنی روزی روٹی کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو یا تو وہ دہشت گردوں کا شکار ہو جائے گا یا کسی مسجد میں بیٹھ کر مصلحت آمیز دین رائج کرے گا اور یا کاسئہ گدائی لے کر بھیک مانگے گا اور یا ویسے ہی ایک اور علم کی دکان کھولے گا، ان تمام مسائل کا واحد اور دینی مدارس کی حقیقی شان اور پہچان قائم کرنے کا حل یہ ہے کہ دینی مدارس خود سامنے آئیں اور اپنی صفوں میں سے کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں۔