پاکستان بدل رہا ہے
یہ مشکل فیصلے اگر ہم نے بہت پہلے کرلیے ہوتے تو آج ہم حالات کے اس گرداب میں نہ ہوتے
انسانوں کی طرح ملکوں کو بھی مشکل فیصلے کرنے میں عموماً بہت وقت لگتا ہے۔ ہم بھی ان ہی ملکوں میں سے ایک ہیں۔ یہ مشکل فیصلے اگر ہم نے بہت پہلے کرلیے ہوتے تو آج ہم حالات کے اس گرداب میں نہ ہوتے جس نے ہمیں اپنی بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس مرحلے پر یاد آتا ہے کہ جس طرح 9/11 نے امریکا کو بدل دیا تھا۔
اسی طرح پشاور میں ہونے والے سانحے 16/12 نے پاکستانی عوام سے کہیں زیادہ مقتدر اشرافیہ کو بدل کر رکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ 13 برس کے فاصلے سے ہونے والے ان دونوں سانحوں میں ہزاروں میل کی دوری تھی اس کے باوجود دونوں حملہ آور کسی نہ کسی اعتبار سے ایک دوسرے کے نظریاتی حلیف تھے۔
تیسری دنیا کے بیشتر ملکوں میں امریکا کے بارے میں عمومی طور سے اچھی رائے نہیں پائی جاتی،اسی لیے امریکی مفادات کو اگر کوئی نقصان پہنچے تو غریب ملکوں کے عوام کو خوشی ضرور محسوس ہوتی ہے۔
تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کا امریکا سے گہرا مفاد وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکا کسی بحران سے دوچار ہوا ہے تو اس کے معاشی اثرات ساری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ ماضی قریب میں امریکا کے مالی بحران نے صرف اسے ہی نہیں، ساری دنیا کے مالیاتی نظام کو متاثر کیا۔
اپنی ناپسندیدگی کے سبب عموماً لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ امریکا اس وقت کرۂ ارض کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور مضبوط معیشت ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ملک سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور دیگر کئی شعبوں میں یورپ سے 50 برس اور ایشیا سے کم از کم 100 برس آگے ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 73 ٹریلین ڈالر ہے جس میں سے امریکی حصہ 18 ٹریلین ڈالر کا ہے۔
اس کے بعد 8 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر آتا ہے، یعنی اس کی جی ڈی پی امریکا سے نصف کم ہے۔ یورپ، چین، جاپان، ہندوستان غرض ہر ملک کی پائیدار ترقی کے لیے لازم ہے کہ امریکا میں سیاسی اور معاشی استحکام برقرار رہے۔ یہ بات ہمارے بہت سے نظریاتی دوستوں کو اچھی نہیں لگے گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے بیشتر ملک امریکا کو کسی بحران میں دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتے۔
ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد دراصل اس امر کو اجاگر کرنا ہے کہ 9/11 کے دہشت گرد حملے فی الحقیقت امریکا پر ہوئے تھے لیکن ان کے اثرات ساری دنیا میں محسوس کیے گئے۔ دنیا پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے، اسے ایک طرف رکھتے ہوئے، یہاں یہ بات کہنی ہے کہ 9/11 نے امریکا کو بدل کر رکھ دیا۔ دراصل قوموں اور ملکوں کو اپنی پرانی روش ترک کرنے اور خود کو بدلنے کے لیے عموماً کسی الم ناک سانحے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسا ہی امریکا کے ساتھ بھی ہوا۔ اس سانحے کے بعد امریکی دانشوروں اور مدبروں کو اس بات کا احساس ہوا کہ انھوں نے جن مذہبی عناصر کو کمیونزم کے خلاف یکجا اور مستحکم کیا تھا، اب انھیں ختم کرنا بھی ان کی ذمے داری ہے۔ سوویت بلاک کو شکست ہوچکی تھی، سرد جنگ کے دوران جس مذہبی شدت پسندی کو امریکی انتظامیہ فروغ دے چکی تھی۔
اس کا خاتمہ کرنا بھی امریکا کا فرض تھا لیکن امریکا نے اپنے تیار کیے ہوئے ''مجاہدین'' کو افغانستان جیسے جنگ سے تباہ حال ملک میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور خود کوچ کرگیا۔ کہاں تو یہ عالم تھا کہ ان ''مجاہدین'' کے ناز نخرے اٹھائے جاتے تھے، انھیں بے شمار ڈالر اور جدید ترین ہتھیار دیے جاتے تھے اور کہاںاب وہی ''مجاہدین'' کسمپرسی کے عالم میں تھے۔ ''مجاہدین'' اس صورت حال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔آخر کار انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے''مربی'' اور ''محسن''کو دن میں تارے دکھادیں گے۔
امریکا پر 9/11 کا حملہ دراصل ماضی کے دو حلیفوں کے درمیان ایک بھیانک جنگ اور دشمنی کا نقطہ آغاز تھا۔ امریکا نے اس جنگ میں اپنا سب کچھ جھونک دیا جس سے صرف اس کا نہیں ساری دنیا کا نقصان ہوا۔ امریکا جیسی مقتدر طاقت کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔
امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جو عالمی جنگ چھیڑی اس کا مرکز افغانستان تھا۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ملتی تھیں چنانچہ پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا جس سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی تھا۔ اسے ہماری بدنصیبی کے سوا اور کیا کہا جائے کہ جب 9/11 رونما ہوا تو پاکستان میں ایک فوجی آمر برسر اقتدار تھا۔ اس نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا تھا۔ ملک کے اندر اس کی سیاسی مخالفت میں شدت پیدا ہو رہی تھی۔
دنیا سرد جنگ کے اثرات سے باہر آچکی تھی، اسی لیے عالمی سطح پر بھی اسے پذیرائی نہیں ملی تھی۔ 9/11 اس کے لیے خوش بختی ثابت ہوا۔ امریکا کو افغانستان پر حملے اور اسے فتح کرنے کے لیے پاکستان کی ضرورت تھی۔ ہمارے فوجی آمر نے اپنی سیاسی اور معاشی مدد اور حمایت کے عوض امریکیوں کو بھرپور اور غیر مشروط تعاون کا یقین دلایا، یوں اس جنگ میں پاکستان پہلے دن سے ہی براہ راست ملوث ہوگیا۔
آمریت کا عذاب یہی ہے کہ اس میں تمام فیصلے فرد واحد اور اس کے حامیوں کو برسراقتدار رکھنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اپنی آمرانہ حکومت کو دوام دینے کے لیے دہشت گردی کی اس امریکی جنگ میں نیم دلی سے شمولیت اختیار کی گئی۔ ہمارے فوجی آمر کی حکمت عملی یہ تھی کہ امریکا مخالف شدت پسند اور جنگ جو عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی نہ کی جائے تاکہ ان کی طاقت برقرار رہے اور امریکا باآسانی افغانستان سے باہر نہ نکل سکے۔
یہ حکمت عملی اس لیے اختیار کی گئی کہ گوریلا جنگ کی اس دلدل میں پھنسا ہوا امریکا ، پاکستان کے فوجی آمر کی حمایت کرنے اور اسے بھاری رقوم دینے پر مجبور رہے۔ یہ سلسلہ کئی برس تک چلتا رہا یہاں تک کہ امریکا کو یقین آگیا کہ اس کے ساتھ دہرا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ایک طرف امریکیوں کو بھرپور حمایت کا یقین دلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف القاعدہ اور اس کے حامیوں کی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔
اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد ہی امریکیوں نے اسامہ بن لادن کی تلاش پاکستان کے اندر شروع کی اور اس کا ڈراپ سین ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر ہوا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس کے بعد امریکیوں اور پاکستانی حکومت کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ اس کا سب سے بھیانک خمیازہ پاکستانی عوام اور اس کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے بھگتا۔ ''دہرے کھیل'' کی اس حکمت عملی سے جہاں امریکیوں کا ہم پر سے اعتبار اٹھ گیا، وہیں شدت پسند عناصر پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئے۔
پاکستان کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل کر ہمارے فوجی آمر رخصت ہوئے اور اس خطرناک جنگ کا سارا ملبہ آنے والی جمہوری حکومتوں اور عسکری قیادت پر گر گیا۔ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان بہترین ہم آہنگی اور اہم عالمی طاقتوں کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے عفریت سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔اس نوعیت کی ہم آہنگی کے لیے بعض اہم تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ جب یہ تبدیلیاں عمل میں آگئیں تو اس کے بعد آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا۔
اس کے باوجود کچھ حلقوں میں اس آپریشن کے حوالے سے نیم دلی پائی جاتی تھی۔ افسوس کہ یہ نیم دلی اس وقت ختم ہوئی جب 16/12کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وہ الم ناک سانحہ ہوا جس نے پاکستان کے عوام، اداروں اور سیاسی اور عسکری قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔
اب سب کے سامنے یہی سوال تھا کہ کیا ماضی کی تلخیوں اور ہر طرح کی چپقلش کو بھلا کر یک ذہن اور یک دل ہونے کا وقت نہیں آگیا؟ یہ سوال پوچھا جانے لگا کہ اگر ریاست کے تمام ادارے، جمہوری اور سیاسی قوتیں اور عوام متحد نہ ہوئے تو کیا اس کے نتیجے میں ریاست ان شدت پسندوں کے قبضے میں نہیں چلی جائے گی جن کے ہاتھوں اس ملک کے 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ اور معصوم افراد اور 5 ہزار سے زیادہ فوجی قتل کیے جاچکے ہیں اور جن کا تازہ شکار ہمارے معصوم بچے بنے ہیں۔
یہ ایک اندوہ ناک بات ہے کہ جس طرح امریکا کو 9/11 نے بدل دیا تھا، اسی طرح ہمارے ارباب اختیار کو بھی کسی سانحے کی ضرورت تھی جو پاکستان کو بدل سکے۔بہرحال جو ہونا تھا، سوہوگیا۔
اب آگے بڑھنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب چھوٹے چھوٹے سیاسی، طبقاتی، مسلکی اور ادارہ جاتی مفادات سے بالاتر ہوکر یکسو ہونے کا وقت آپہنچا ہے، اسی کے بعد پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشتگردی سے آزاد کر کے ایک مہذب اور جمہوری ریاست کی داغ بیل ڈالی جا سکے گی۔