زگ زیگ ایکشن سے بچنے کی ضرورت ہے

برسر اقتدار اکابرین کھلم کھلا یہ فرماتے رہے کہ اس مسئلے کا واحد حل ’’مذاکرات‘‘ ہے


Zaheer Akhter Bedari March 26, 2015
[email protected]

دس سال سے زیادہ عرصے تک پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا لیکن ہمارے حکمران طبقات کو یہ خیال نہ آیا کہ اس عفریت سے نجات حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس دوران دہشت گرد سول اور فوجی ہوائی اڈوں پر بھی حملے کرتے رہے، جی ایچ کیو سمیت کئی اہم سرکاری اداروں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا، کراچی میں کئی دہشت گردی کی کارروائیاں کی گئیں، بلوچستان دہشت گردی کی زد میں رہا۔

خیبرپختونخوا خون میں نہاتا رہا، لاہور کے کئی اہم مقام دہشت گردی کی زد میں آئے اور مجموعی طور پر 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہید کردیے گئے، اس دوران دہشت گردی کے خلاف کسی حکومت نے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے، اس کے برعکس ہوا یہ کہ اس سوال پر بحث ہوتی رہی کہ اس سنگین مسئلے کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جائے یا بات چیت کے ذریعے۔

برسر اقتدار اکابرین کھلم کھلا یہ فرماتے رہے کہ اس مسئلے کا واحد حل ''مذاکرات'' ہے اور اس دوران حکمران طبقات پر یہ الزامات بھی لگتے رہے کہ درون خانہ وہ سیاسی مسائل پر مذہبی انتہا پسندوں سے مدد بھی لیتے رہے ہیں جو لوگ دہشت گردوں کے عزائم کو سمجھتے ہوئے ان کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے تھے، انھیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔

آخرکار ہماری مسلح افواج نے اس حوالے سے مسئلے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے ''ضرب عضب'' کے نام سے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا اور ان علاقوں میں دہشت گردوں کو سخت نقصان پہنچایا، یوں دہشت گردی کے خلاف دس سال بعد عملی اقدامات کا آغاز ہوا۔ کہا یہی جاتا رہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

اب وہ کسی بڑی کارروائی کے اہل نہیں رہے لیکن پشاور میں آرمی پبلک اسکول، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتیں کرکے دہشت گردوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ ابھی بھی متحرک اور منظم ہیں اور جہاں چاہے دہشت گردی کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ اپنے اس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے انھوں نے پنجاب کے دارالحکومت میں یوحنا آباد عیسائیوں کی بستی کے چرچ پر خودکش حملہ کیا جس میں 18 بے گناہ عیسائی جو چرچ میں عبادت کررہے تھے ہلاک ہوگئے اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔

قوم اس صدمے سے ابھی نکل بھی نہیں پائی تھی کہ 20 مارچ بروز جمعہ کراچی کے علاقے آرام باغ کی برہانی مسجد کے ساتھ بارودی دھماکا کردیا جس کے نتیجے میں نماز کے بعد مسجد سے باہر آنے والے نمازیوں میں سے دو نمازی شہید اور چار زخمی ہوئے۔ اسی رات کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے قلندریہ چوک پر ایک رینجرز کی گاڑی کو نشانہ بنایاگیا جس میں دو رینجرز اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

20 مارچ کو ہونے والے ان دھماکوں کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اب بھی متحرک اور فعال ہیں اور ملک کے معاشی ہب میں بھی جب چاہیں دہشت گردی کی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ کراچی میں ہونے والے دونوں دھماکے موٹر سائیکلوں پر بارود لگاکر کیے گئے جو دہشت گردوں کا ایک موثر طریقہ ہے۔ ان دھماکوں کے بعد شہر میں ایک بار پھر خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا مرکز رہا ہے اس لیے اس علاقے میں آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی طاقت توڑنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے، لیکن اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردوں نے اپنی کمین گاہیں بنالی ہیں اور کراچی جیسے شہر کے ہر علاقے خاص طور پر مضافاتی بستیوں میں اس طرح پھیل گئے ہیں کہ انھیں تلاش کرنا اور انھیں دہشت گردی سے روکنا ایک مشکل مسئلہ بن گیا ہے۔

افغانستان سے غیر قانونی طور پر کراچی میں لاکھوں افغان آباد ہوگئے ہیں اور بھاری رشوت دے کر شناختی کارڈ پی آر سی پاسپورٹ اور دوسری قانونی دستاویزات بھی بنوالی ہیں اور قیمتی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو خرید کر مختلف کاروبار دھڑلے سے کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی مصروف ہیں، کیا حکومت ان غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کررہی ہے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں؟

حکومت نے ملک کے شہری علاقوں میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قومی ایکشن پلان کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف ایک فورم بنایا ہے، چونکہ فوج کا دائرہ کار شمالی وزیرستان تک محدود ہے اور فوج کو شہری علاقوں میں استعمال نہیں کیا جاسکتا لہٰذا قومی ایکشن پلان کے ذریعے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے یہ فورم بہت ضروری تھا۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس فورم کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے؟ استعمال کیا بھی جارہا ہے یا نہیں؟ یہ سوال شہریوں کے ذہنوں میں اس لیے پیدا ہورہا ہے کہ اس فورم کی کارکردگی عموماً پکڑ دھکڑ تک محدود ہے اور اس پکڑ دھکڑ میں زیادہ تعداد ان جرائم پیشہ افراد کی نظر آتی ہے جن کا تعلق دہشت گردی سے نہیں بلکہ سماجی جرائم سے ہے۔

بھتہ، چندہ، اغوا برائے تاوان، بڑی بڑی ڈکیتیوں نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے اور ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے لیکن جب تک اہم قومی مسائل کی ترجیحات کا تعین نہیں کیا جاتا اور اس کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا دہشت گردی کے خلاف مہم ابہام کا شکار رہے گی اور اس میں نہ یکسوئی ہوگی نہ وہ اہداف حاصل ہوں گے جو ہمارے سامنے ہیں۔

دہشت گردوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہمارے حکمرانوں نے سزا یافتہ دہشت گردوں کو لٹکانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ یقیناً دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتا تھا لیکن یہ منطق عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ سزائے موت عموماً ان مجرموں کو دی جارہی ہے ۔

جن کا دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں وہ انفرادی حیثیت میں قتل کے مرتکب ہوئے ہیں یا گروہی شکل میں قتل کا ارتکاب کیے ہیں، کیا ان لوگوں کو دھڑادھڑ تختہ دار پر لٹکانے سے دہشت گردی پر کوئی مثبت اثر پڑے گا؟ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت اپنی ساری توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز رکھنی چاہیے، اگر زگ زیگ کی راہ اپنائی گئی تو نتیجہ حوصلہ شکن ہی نکلے گا۔

مقبول خبریں