پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیےاقدامات کریں گےامریکی قونصل جنرل

دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے سے باہمی روابط کو فروغ ملے گا، ایف پی سی سی آئی کا دورہ


Business Reporter April 03, 2015
امریکا توانائی بحران کے حل میں مدد دے، میاں ادریس، آٹوودیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے، وسیم وہرا۔ فوٹو: فائل

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان کے صدر میاں محمد ادریس نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان طویل دورانیے کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری ہے اور دونوں ملکوں میں دوستانہ سفارتی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے فیڈریشن ہاؤس کا دورہ کرنے والے امریکی قونصل جنرل کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے سینئرنائب صدر عبدلرحیم جانو، نائب صدور وسیم وہرا، اکرام راجپوت، شاہ نواز اشتیاق و دیگر بھی موجود تھے۔ میاں ادریس نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان کا دیرینہ خودمختار اور غیرمنافع بخش ادارہ ہے جو 1950 میں تجارتی سرگرمیوں کے تیز رفتار فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا، فیڈریشن کا نیٹ ورک وسیع ہے جو ملک کے چاروں صوبوں اور سمندر پار بھی ہے جبکہ ملکی سطح پر 60 چیمبرز جن میں 8 چھوٹے چیمبرز اور 110 رجسٹرڈ تجارتی انجمنیں ہیں، ایف پی سی سی آئی میں نجی شعبے کی درآمدی و برآمدی سرگرمیوں اورمعیشت کی بھرپورانداز میں نمائندگی اور فروغ کی کاوشیں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی طور پر غیریقینی حالات، امن وامان اور دیگرمسائل کے باوجود پاکستان اور امریکی تعلقات قائم ودائم ہیں اور دوسرے ممالک کی نسبت بہتر ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ امریکا پا کستان کا کلیدی اقتصادی پارٹنر ہے وہ پاکستان کو توانائی بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور تعلیم، ٹیکسٹائل، سائنس اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی بہتر مواقع استعمال کر سکتا ہے۔ میاں ادریس نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی سارے پاکستان میں ممبران کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اسی پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں ملکوں میں تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جو وفود بھیج کر اور بی ٹو بی میٹنگ میں شرکت کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر نائب صدر وسیم وہرا نے تجویز دی کہ امریکی سرمایہ کار پاکستان کے آٹو موبائل، آئی ٹی، کول مائننگ، ٹیکسٹائل، تعلیم اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ فیڈریشن کے مختلف عہداران کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے امریکی قونصل جنرل نے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے محدود دستیاب مارکیٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے قدامات کیے جائیں گے جن سے خواتین کو زائد اختیارات مل سکیں، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی وفود کا تبادلہ ہو گا تا کہ لوگوں کی سطح پر تعلقات قائم ہو سکیں جو دوطرفہ، اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔