قانون سے کوئی ماورا نہیں

بااثرخاندانوں کی اولاد اپنے خاندانی اثر و رسوخ کے باعث خود کو قانون سے ماورا سمجھنے لگی ہے


Editorial April 04, 2015
ملک سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ اور لوگوں میں اس شعور کو اجاگر کرنے کی ازحد ضرورت ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس سے کوئی ماورا نہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

بااثرخاندانوں کی اولاد اپنے خاندانی اثر و رسوخ کے باعث خود کو قانون سے ماورا سمجھنے لگی ہے، یہی سبب ہے کہ ملک میں لگاتار ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جس میں بااثر خاندانوں کے سپوتوں نے غریب انسانوں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

سال گزشتہ کراچی میں شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کا چرچا میڈیا پر عام رہا جس کے بعد ابڑو خاندان کے سلمان ابڑو کے ہاتھوں سلیمان لاشاری کا قتل اور سابق لاہور کمشنر کے بیٹے شان خسرو سے حمزہ کا قتل اور ایسی ہی دیگر خبریں گردش میں رہیں۔ اسی نوعیت کی ایک خبر لاہور میں سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو کے حوالے سے منظر عام پر آئی ہے۔

جس نے یا اس کے گارڈوں نے بدھ کی شب کیولری گراؤنڈ کے قریب 2گاڑیوں کے تصادم کے بعد فائرنگ کر کے 2 افراد کو زخمی کردیا تھا جس میں 15 سالہ نوجوان زین دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ پولیس حکام کے مطابق مصطفیٰ کانجو کو آبائی علاقے کہروڑ پکا سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان میں غریب اور امیر کے درمیان واضح لکیر اور اشرافیہ و فیوڈلز کی امارت و خودنمائی ، شاونزم اور طاقت کے اظہار نے ان خاندانوں کی نئی نسل کی نفسیات میں خود کو برتر اور قانون سے بالاتر ہونے کی سوچ پیدا کی ہے۔ ہائی پروٹوکول کے ساتھ نکلنے والے ان امرا کی گاڑیوں کے آگے پیچھے اسلحہ بردار سیکیورٹی گارڈز کا جتھا اور عوام سے ہتک آمیز رویہ اس فیوڈل نسل میں یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ وہ جس قدر بھی قانون کی پامالی کریں گے ان کی خاندانی دولت انھیں سپورٹ فراہم کرے گی۔

اس وی آئی پی کلچر اور تربیب کے فقدان کے باعث ملک میں وہ ہولناک داستانیں رقم ہورہی ہیں جس کا تذکرہ کرتے زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولاد مزارعوں، مزدوروں اور ملازمین کو بھی اپنی رعایا سمجھتی ہے۔ تعلقہ اوباڑو کے گاؤں میو عمر میں ماں بیٹی کو زیادتی کے بعد جلانے کا انسانیت سوز واقعہ ہو یا امیر گھرانوں کا اپنے ملازمین پر وحشیانہ تشدد ہر واقعے کے پیچھے اسی تربیت کی کجی اور طاقت کا گھمنڈ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔

ملک سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ اور لوگوں میں اس شعور کو اجاگر کرنے کی ازحد ضرورت ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس سے کوئی ماورا نہیں۔