بھٹو کی جدوجہد

ملکی قوانین کے تحت قتل کے مقدمات پہلے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں چلائے جاتے ہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan April 04, 2015
[email protected]

QUETTA: 4 اپریل 1979ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے حکم پر ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو اسی دن رات کے آخری پہر راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی، بھٹو تو دنیا سے رخصت ہوئے مگر سیاسی میدان بھٹوکے حامیوں اور مخالفین میں بٹ گیا۔

جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977ء کو پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی 90 دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا، پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ساتھیوں اور پاکستان قومی اتحاد PNA کے سربراہ مفتی محمود، نصراﷲ خان، اصغر خان وغیرہ کو رہا کر دیا گیا، بھٹو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی دفعہ لاہور پہنچے تو لاہور ریلوے اسٹیشن پر لاکھوں افراد امنڈ آئے۔

جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو سیاست سے دور کرنے اور ملک سے باہر جانے کی ترغیب دی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے انتخابات سے پہلے احتساب اور پھر اسلامی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پیپلزپارٹی کے سابق رہنما احمد رضا قصوری کے والد محمد احمد خان قصوری کے قتل کے حکم دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

ملکی قوانین کے تحت قتل کے مقدمات پہلے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں چلائے جاتے ہیں۔ اور سیشن جج کے فیصلے کے خلاف پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کی جاتی ہے مگر اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے یہ مقدمہ اپنی عدالت میں چلایا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو آزادانہ طور پر اپنا موْقف بیان کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ بھٹو کو کوٹ لکھپت جیل لاہور کی ایک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔

ان کی بیرکس کی پشت پر پاگل قیدیوں کو جمع کیا گیا جن کے شور اور بے ھنگم آوازوں سے ان کے اعصاب کو شکستہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے قیادت بیگم نصرت بھٹو نے سنبھالی۔ بینظیر بھٹو اس جدوجہد میں ان کی ہمرکاب تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو لاہور کے کر کٹ اسٹیڈیم گئیں تو پولیس والوں نے لاٹھیوں سے سر زخمی کر دیا۔ بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں، شاعروں، فنکاروں، صحافیوں، خواتین، مزدوروں اور کسانوں نے تاریخی جدوجہد کی۔ بھٹو صاحب کو لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت دی۔ بھٹو کے وکیل یحییٰ بختیار نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

سپریم کورٹ نے چار تین کے فیصلے کے تحت لاہور ہا ئی کورٹ کی سزائے موت کی تو ثیق کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے اہل خانہ نے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کیا مگر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت 70 سے زائد سربراہان مملکت نے جنرل ضیاء الحق سے بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کے خاتمے کے لیے اپیلیں کیں۔ پاکستان میں قانون سے متعلق روایت کے تحت سپریم کورٹ کی فل بنچ میں سزائے موت کے بارے میں اختلا ف رائے کی صورت میں سزا پر عملدرآمد نہیں ہوتا مگر ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دیدی گئی۔

ان کی گرفتاری کے وقت ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور صاحبزادی بے نظیر بھٹو نظر بند تھیں۔ پھانسی سے دو دن قبل بے نظیر بھٹو کی اپنے والد سے آخری ملاقات کرائی گئی جو انتہائی مختصر تھی۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کو پھانسی کی تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کی میت ایکc-130 فوجی طیارے میں صبح ہونے سے پہلے لاڑکانہ پہنچا دی گئی۔ لاڑکانہ، رتو ڈیرو اور گڑھی خدا بخش کے لوگوں کو نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس دراب پٹیل، جسٹس حلیم اور جسٹس غلام صفدر شاہ نے سزائے موت دینے کی مخالفت کی تھی۔ جسٹس غلام صفدر شاہ پر سرٹیفکیٹ جھوٹا ہونے کا الزام لگا کر برطرف کر دیا گیا۔ وہ افغانستان گئے اور وہاں سے برطانیہ چلے گئے اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنے رہنما کی جان بچانے کے لیے خود کو نذر آتش کیا، ہزاروں کارکنوں نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں کوڑے کھائے اور قید و بند کی صوبتیں برداشت کیں۔

1980ء میں پیپلز پارٹی، تحریک استقلال، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، قومی محاذ، آزاد مزدور کسان پارٹی، عوامی تحریک اور مسلم لیگ وغیرہ نے مل کر تحریک بحالی جمہوریت (MRD) تشکیل دی۔ ایم آر ڈی نے 1983ء میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف تاریخی تحریک چلائی۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں اندرون سندھ جدوجہد کے نئے مناظر دیکھنے میں آئے اور عوام نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں تمام جماعتوں کے قائدین اور سیاسی کارکنوں نے 9 ماہ تک گرفتاریاں دیں۔

جنرل ضیاء الحق جمہوریت کی بحالی پر تیار ہوئے۔ پہلے ایک ریفرنڈم کے ذریعے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ عوام اسلامی نظام کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں تو اس میں ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر انھوں نے خود کو 5 سال کے لیے منتخب صدر قرار دیا۔ سیاسی محققین کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے اس ریفرنڈم میں فرشتوں نے ووٹ ڈالے۔ غیر جماعتی بنیادوں پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرائے گئے۔ مسلم لیگ کے رہنما محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ محمد خان جونیجو نے 1973ء کا آئین بحال کیا، سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا۔

اگست 1988ء میں بہاولپور سے اڑنے والے ایک طیارے کے حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت ہو گئی۔ 1988ء میں عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ ان انتخابات میں بھٹو کی شخصیت اور ان کا تیار کردہ منشور جس کی بنیاد روٹی، کپڑا اور مکان تھے کے تحت بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے اکثریتی نشستیں حاصل کیں۔ عوام بے نظیر بھٹو کی تصویر کے نعرے پر پیپلز پارٹی کی حمایت کر رہی تھی مگر اب پیپلز پارٹی نے اپنے بانی چیئرمین کی روایات سے انحراف کرنا شروع کر دیا۔

پرانے کارکنوں اور رہنماؤں کو نظرانداز کر کے غیر سیاسی ماضی رکھنے والے اور جنرل ضیاء الحق کی حکومت سے تعاون کرنے والوں کو عہدے دیے گئے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کو میرٹ پر فراہم کرنے کے بجائے فروخت کرنے کی اپروچ کو بنیاد بنایا گیا۔ صنعتوں کو نجی تحویل میں دینے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مارکیٹ کے سپرد کرنے کی پالیسی کی حمایت کی جانے لگی۔

ایک وقت وہ آیا کہ بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ ان کے والد کو پھانسی دینے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا، بھٹو نے عوام کی ریاست پر بالادستی کے جس اصول کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو منظم کیا تھا اس اصول کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں پیپلز پارٹی اور عوام میں فاصلے بڑھتے چلے گئے۔

بے نظیر بھٹو 1977ء میں ملک سے چلی گئیں، ان کے شوہر آصف زرداری مسلسل جیل میں رہے۔ بے نظیر بھٹو18 اکتوبر2007ء میں ملک واپس آئیں تو لاکھوں افراد نے بے نظیر بھٹو کو خوش آمدید کہا، 27 دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انھیں شہید کر دیاگیا۔ آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور وہ ملک کے صدر بن گئے مگر پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے آدرش سے دور چلی گئی۔ اب یہ عوامی جماعت صرف اندرون سندھ تک محدود ہے۔ سیاسیات کے طالب علم پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں فرق محسوس نہیں کرتے۔

4 اپریل کو بھٹو کی برسی پر بڑا جلسہ ہو رہا ہے اور آصف زرداری خطاب کریں گے مگر بھٹو کا ویژن ان کی تقریروں میں نظر نہیں آتا۔ معروف صحافی اے ٹی چوہدری نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ بھٹو کی موت آیندہ آنے والی نسلوں پر اثر انداز ہو گی۔ تاریخ نے چوہدری صاحب کی پیشگوئی کو درست ثابت کیا۔ بھٹو کی پھانسی نے عوام کو فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کا راستہ دکھایا اور انھوں نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی مگر پیپلز پارٹی آج سیاسی جدوجہد کے فلسفے سے محروم ہے اور ملک میں قیادت کا بحران ہے۔