گوادر کاشغر روٹ کا ’’پرندہ‘‘ اور الوؤں کی تجارت
دینی جماعتیں بھی اسلام کی گائے کو جی بھر کر ’’دوھ‘‘ چکیں
بچپن میں جب ہمیں کوئی نیم جان پرندہ یا پرندے کا بچہ مل جاتا تھا تو اس کے اوپر ٹوپی رکھ کر دونوں ہاتھوں پر چف چف کر کے ٹوپی کے اوپر گھمایا جاتا تھا اکثر تو تازہ مر جانے والے پرندے کے ساتھ بھی یہی کیا جاتا کیوں کہ بچوں کو یقین ہوتا تھا کہ اس عمل سے پرندے میں جان پڑ سکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک بچگانہ کوشش ہوتی تھی لیکن بعض پرندے جو زیادہ نیم جاں نہ ہوتے یا ٹوپی کی گرمی سے ان میں کچھ حرکت پیدا ہو جاتی تو اس کام یابی پر بچے خوشی کا اظہار کرتے کہ ہم نے کر دکھایا ۔۔۔ حالانکہ زیادہ تر پرندے جانبر ہو ہی نہیں پاتے تھے لیکن انسان کو تو آپ جانتے ہیں کہ ایسے مواقع پر قضا، موت یا تقدیر پر سارا ملبہ گرا دیتا ہے جب کہ کامیابی کو جیسے بھی کر کے اپنی جھولی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر آپ کا خیال اس طرف جا رہا ہے کہ آج ہم کوئی ''کلیہ دمنہ'' سنانے والے ہیں تو آپ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں کیوں کہ ہم نے ایک جگہ بہت سارے بچوں کو دیکھا ہے جو ایک تقریباً مردہ پرندے پر ٹوپی رکھ کر چف چف کر رہے ہیں' اس پرندے کا نام بھی بتا ہی دیں تو اچھا یہ ''گوادر کاشغر روٹ'' کا پرندہ ہے اور چف چف کرنے والی ساری پارٹیاں وہ بچے ہیں جو ''سرمایہ داروں'' کے ہاں پیدا ہوئے ہیں پلے بڑھے ہیں اور اکثر یہی شغل کرتے رہتے ہیں، چف چف چف ۔۔۔ حالانکہ رحمان بابا نے کہا ہے کہ
تیر ساعت پہ مثال مڑے د لحد دے
مڑی چادی جوندی کڑی پہ جڑا؟
یعنی گیا وقت ایک قبر کا مردہ ہوتا ہے اور کسی مردے کو کبھی کوئی رو رو کر زندہ نہیں کر پایا ہے، دراصل سرمایہ داروں کے یہ ''بچے'' آخر کریں بھی تو کیا کریں، وقت گزارنے اور لہو گرم رکھنے کے لیے بھی تو کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا ہے بیچاروں کے ہاتھوں میں جو ''گیسی غبارے'' تھے ان کی ہوا یا تو نکل چکی ہے یا ٹھنڈی پڑ چکی ہے بیچاری اے این پی کے پاس ایک ہی تو غبارہ باقی رہ گیا تھا کیونکہ باقی کے غبارے وہ اونے پونے بیچ چکی تھی لیکن نادانی یا بے خبری یا ڈالروں کی مدہوشی میں وہ غبارہ بھی اب پھس ہو چکا ہے، سرحد کی جگہ ''خیبر پختون خوا'' نام رکھا جا چکا ہے اور بھی کچھ مقامات پر نام چپکائے جا چکے ہیں اور خود اے این پی ہی کا کہنا تھا کہ صرف نام بدلنا چاہیے ۔۔۔۔۔ سو نام تو بدل گیا اب جو کھیسے میں ہاتھ ڈالا تو ایک بھی ''سکہ'' باقی نہیں بچا تھا ۔گویا اب
پلٹ کے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا ہوا کے سوا
جو میرے ساتھ تھے جانے کدھر گئے چپ چاپ
ایک پرانا واقعہ یاد آیا ایک دن ہم چند شاعر و ادیب پشاور سے زیارت کاکا صاحب ایک فاتحہ کے لیے گئے اس زمانے میں اکا دکا سواریاں ہوتی تھیں اس لیے ٹرانسپورٹ کے نام پر کالی کلوٹی قسم کی سالخوردہ ویگن چلتی تھیں اور وہ ویگن تب تک کھڑی رہتی تھیں جب سواریاں پوری نہیں ہوتیں ۔۔۔ ہم تین لوگ جن میں ایک بزرگ شاعر و ادیب اور ناشر عبدالخالق خلیق بھی تھے جو نہایت مدہم لہجے میں نہایت کس کر پھبتی ۔۔۔۔ چھوڑتے تھے، دوسرے ایک اور ان کے دوست قاضی صاحب تھے۔
جن کا حلیہ نہایت ہی ڈروانا تھا یہ لمبی ناف تک اور اطراف میں پھیلی ہوئی داڑھی اور صفا چٹ کھوپڑی اوپر سے نہایت ہی لمبے چوڑے اور بڑی بڑی سرخ آنکھیں، بھنوئیں اتنی بڑی اور گھنی کے مونچھوں کی طرح تاؤ دینے کے لائق تھیں ہم اڈے پہنچے تو ایک ویگن میں چار پانچ برقع پوش خواتین بیٹھی ہوئی تھیں تین ہم ہوئے تو صرف دو چار سواریوں کی کمی تھی لکین جیسے ہی ہم چڑھ کر سیٹوں پر بیٹھے گئے وہ پانچوں خواتین اٹھ کر اتر گئیں، قاضی صاحب جو ڈراونا ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ اور بھولے بھی تھے پوچھنے لگے یہ سواریاں کیوں اتر گئیں۔
دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو خلیق صاحب مسکراتے ہوئے بولے سامنے یہ جو ڈرائیور کے سر کے اوپر آئینہ لگا ہے اس میں ذرا دیکھو قاضی صاحب نے آئینے میں دیکھا تو خلیق صاحب بولے ۔۔۔ سمجھ گئے نا کہ سواریاں کیوں اتر گئیں؟ لیکن اے این پی کو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس کی گاڑی سے سواریاں کیوں اتر گئیں ۔۔۔۔ آئینہ نہیں ہے نا اس کی گاڑی کے سر کے اوپر ۔۔۔ دوسری بھی کئی پارٹیاں اسی تہی دستی کا شکار ہیں، پیپلز پارٹی بھی جمہوریت نافذ کر چکی ۔۔۔۔ روٹی کپڑا مکان دے چکی ۔۔۔ اسلام کو دین، جمہوریت کو سیاست اور سوشلزم کو معیشت بنا چکی اب کرے بھی تو کیا کرے ۔۔۔ ''گوادر کاشغر روٹ'' کے پرندے پر ٹوپی رکھ کر کچھ ہو جائے تو ہو جائے ورنہ اس کے پاس
ہو چکی غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
دینی جماعتیں بھی اسلام کی گائے کو جی بھر کر ''دوھ'' چکیں ۔۔۔ بلکہ سب کی دکانوں میں جھانکا جائے تو کچھ بھی نہیں اُلو کے سوا ۔۔۔۔ چلیے لگے ہاتھوں الُو کا قصہ بھی ہو جائے ایک دکان دار کی گراں فروشی سے لوگ بہت تنگ آئے ہوئے تھے، گاؤں کے چند نوجوانوں نے ایک منصوبہ بنایا، باری باری اس کے پاس جاتے اور یہ مژدہ سناتے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ بہت جلد ایک معاہدہ کرنے والا ہے جس کے مطابق پاکستانی الُو امریکا درآمد کیے جائیں گے کیونکہ امریکا میں الوؤں کی شدید کمی ہو گئی ہے۔
''شاخ'' بہت ہیں لیکن ان پر بٹھانے کے لیے ''الُو'' کافی نہیں جب کہ پاکستان میں معاملہ قطعی برعکس ہے یہاں نہ یہ کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے بلکہ ایک ایک شاخ پر کئی کئی الُو بیٹھے ہوئے ہیں، یہ بات اتنی بہ تکرار دکان دار تک پہنچائی گئی اور چند ہی روز میں الوؤں کی قیمت بے انتہاء بڑھنے کی باتیں اتنی زیادہ ہونے لگیں کہ دکان دار لالچ میں آ گیا ۔
اس نے سوچا کیوں نہ ابھی سے الُو اکھٹے کیے جائیں کافی سستے مل جائیں گے اور جب امریکا سے معاہدہ ہو جائے گا تو من مانے نرخوں پر بیچ دوں گا، چنانچہ اس نے الُو خریدنے شروع کر دیے ادھر نوجوانوں نے لوگوں کو الوؤں کے پکڑنے پر لگا دیا، دھڑا دھڑ الُو آنے لگے اور دکان دار خرید کر جمع کرنے لگا جب کافی اسٹاک الوؤں کا جمع ہو گیا تو ان کے لیے الگ سے ایک مکان مختص کیا۔
(جاری ہے)