تحریک انصاف کا خوش آیند فیصلہ

پی ٹی آئی کی واپسی پارلیمنٹ کی بالادستی کا اعلان ہے اوراس میں کسی کی ہار یا جیت کا کوئی سوال نہیں


Editorial April 07, 2015
اس میں کوئی انہونی بات نہیں تاہم زمینی حقائق سے پیوستہ رہنے ، عوام کے دکھ درد کو سمجھنے ،انھیں ریلیف مہیا کرنے کا نام ہی جمہوریت ہے۔ فوٹو : فائل

KARACHI: پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں آمد ایک خوش گوار حیرت کے ساتھ ہی جمہوریت کے استحکام کی طرف بلاشبہ ایک اہم اور با معنی قدم اور اچھا فیصلہ ہے جس کا تمام جمہوریت پسند اراکین پارلیمنٹ اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود نہ صرف خیر مقدم کریں گے بلکہ انھیں ملکی مفاد اور جمہوری عمل کو عصری صورتحال کے حوالہ سے فروغ دینے اور غیر جمہوری قوتوں کی مکمل حوصلہ شکنی کے لیے اسی جوش و جذبہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے جس کی طرف عہد ساز مصلح و دانشور سینٹ پیٹرز نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اپنے خیالات و محسوسات میں متحد ہوجاؤ۔''

پاکستان کے آئینی و قانونی سیاسی ڈھانچہ کو ہر قسم کے داخلی و خارجی طوفانوں ، دہشت گردی کے عفریت اور جارحانہ عزائم سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں میں بے مثال رواداری، سیاسی اتفاق رائے ، اور کشادہ نظری پر مبنی جمہوری رویے غالب رہیں تاکہ بے یقینی ، محاذ آرائی اور عدم اتفاق کی جگہ استدلال کو سننے کی کشادہ دلی ، خیر سگالی اور قومی امور پر مشترکہ سوچ اور اخلاص نیت لے لے۔

اس تناطر میں عمران خان اور ان کی جماعت کے اراکین کی پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلا میں شرکت ایک بریک تھرو ہے جسے حکومت کے تدبر اور سیاسی جماعتوں کی وسیع النظری، پارلیمانی بلوغت کے باعث فروعی یا ٹھوس اختلافات کو آئینی و جمہوری دائرہ کار کے اندر سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی نئی روایت جنم لے رہی ہے۔ اور اگر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی ، جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کے سینیٹر زاہد خان کو پی ٹی آئی کی واپسی پر اعتراض ہے یا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ عمران کی آمد پر اظہار مسرت کرتے ہیں تو اس انداز نظر اور سیاسی اپروچ کو بھی جمہوری اسپرٹ کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی واپسی پارلیمنٹ کی بالادستی کا اعلان ہے اور اس میں کسی کی ہار یا جیت کا کوئی سوال نہیں، یہ سیاسی ارتقا کی نشانی ہے جس میں جمہوری سوچ اور پارلیمان کے تقدس کے نقش ابھرتے جارہے ہیں۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی قیادت حلقہ این اے 246 کراچی میں جمہوری رویوں کا اظہار کرے ۔

اس ضمنی الیکشن میں کراچی کے مکینوں کو امن وخیرسگالی کا پیغام دینا الیکشن کی شفافیت کی طرف پہلا قدم ہوگا، جوش سے زیادہ ہوش اور مفاہمانہ ، روارانہ اور جمہوری طریقے سے انتخابی مہم اختتام پذیر ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی و حکومتی اداروں پر سیاسی جماعتوں کا اعتماد وقت کا تقاضہ ہے۔ تحریک انصاف کی ایوان میں موجودگی سے کسی ٹارزن کی واپسی کا تاثر نہیں ابھرنا چاہیے اس کا حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ خوش آیند ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں واپس جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے اور ایسا ہوا بھی ۔ اتوار کوتحریک انصاف نے کراچی کے این اے 246 کی انتخابی مہم میں ریلی نکالی۔ پارٹی چیئرمین عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوتے کہا کہ ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک انتخابات 2013ء میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے حکومت جوڈیشل کمیشن کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک اسمبلیوں میں نہیں جانا،اس کے لیے پارٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے 126دن تک دھرنا بھی دیا، اب حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا ہے اس لیے تحریک انصاف نے پارٹی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ پیر سے ہم اسمبلیوں میں جا رہے ہیں۔

عمران کا کہنا ہے کہ یمن کی صورتحال میں پاکستان کو فریق بنانے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، ہم اب تک دوسروں کی جنگ میں شریک ہوکر نقصان اٹھا رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں امریکا کی جنگ میں ہم 100 ارب ڈالر خرچ اور 60 ہزار پاکستانیوں کی جان قربان کر چکے ہیں، یمن فوج بھیجنے سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے۔ کراچی میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ کراچی میں ضمنی انتخاب لڑنا ہمارا جمہوری حق ہے ۔ تحریک انصاف نے 8 ماہ سے جاری اسمبلیوں کا بائیکاٹ ختم کر کے اسمبلیوں کے اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس پر تعمیری ڈیبیٹ ہوسکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ جمہوری عمل ساتھ ساتھ چلتا رہے۔ جمہوریت کے اعصاب شل نہ ہوں۔ بلاشبہ پی ٹی آئی کے دھرنے ،احتجاجی تحریک اور حکومت مخالف مہم جوئی سے کاروبار سیاست میں کافی گہما گہمی رہی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی اپنی تحریک ان کے ساتھ جاری رکھی مگر ایسا کچھ دنیا کے تقریباً تمام جمہوری ممالک میں ہوتاہے ، اپوزیشن کا مسلمہ جمہوری کردار کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس میں کوئی انہونی بات نہیں تاہم زمینی حقائق سے پیوستہ رہنے ، عوام کے دکھ درد کو سمجھنے ،انھیں ریلیف مہیا کرنے کا نام ہی جمہوریت ہے۔