میکا سنگھ کی لاہور یاترا
میری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتراورمضبوط ہوں تاکہ دونوں ملکوں کے لوگ آپس میں مل سکیں,میکا سنگھ
بھارتی سنگر کی بابا بلھے شاہ، گردوارہ پر حاضری اور معروف فنکاروں اور قریبی دوستوں سے ملاقاتیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان کا شماردنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں بے پناہ مسائل کے باوجود لوگ اپنے گھرآئے مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ خاص طورپرجب کوئی دوسرے ممالک سے پاکستان آتا ہے توپھرایسی ڈھیروں یادیں اپنے ساتھ لے کرجاتا ہے جو اس کودوبارہ یہاں آنے پرمجبورکردیتی ہیں۔ خاص طورپراس طرح کی متعدد مثالیں بالی وڈ کی رنگارنگ فلم نگری سے تعلق رکھنے والے مقبول فنکار، ہدایتکار، فلم میکراورگلوکاروں کے یہاں آنے سے مل جاتی ہیں۔
بالی وڈ سے تعلق رکھنے والی بہت سی اہم شخصیات جب پہلی مرتبہ پاکستان آئیں توانہیں اس شاندارانداز سے خوش آمدید کہا گیا اوران کی مہمان نوازی کی گئی کہ وہ حیران رہ گئے ۔ پھرکیا تھا بڑی سکرین پردکھنے والے معروف فنکاراپنی فیملیزکے ہمراہ بلاخوف وخطریہاں آنے لگے۔ شتروگھن سنہا، مہیش بھٹ، نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی، راج ببر، ہنس راج اوردلیرمہدی کے بعد اب بھارتی پنجاب کے معروف گلوکارمیکا سنگھ بھی اسی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ چند ہفتوں کے دوران وہ دوبار لاہور آچکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں توایک گرینڈ میوزک کنسرٹ میں پرفارمنس کیلئے آئے تھے لیکن پھراگلی بارلاہوریوں کی مہمان نوازی، لذیز کھانوں اور پرستاروں کے پیارکی یادایسی ستائی کہ وہ دوبارہ لاہور پہنچ گئے۔

4 روزہ مختصردورے کے دوران جہاں میکا سنگھ نے حضرت بابا بلھے شاہ کے دربارپرحاضری دی اور چادر چڑھائی، وہیں لاہور کے علاقہ چونا منڈی میں واقعہ گردوارہ میں مذہبی رسومات بھی اداکیں۔ ایک طرف تواپنے قریبی دوست کی شادی میں شرکت کے دوران پرفارم کیا اورودوسری جانب گلوکارابرارالحق اورقریبی دوست ترنجیت سنگھ کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں اپنے من پسند کھانے کھا کرخوب پیٹ پوجا کی۔ ویسے تومیکا سنگھ قریبی دوست کی شادی میں آئے تھے لیکن انہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اوراپنا تمام شیڈول تبدیل کرتے ہوئے لاہورکی سیرکرنے کی ٹھان لی۔

اس سلسلہ میں لاہورکی سیرکروانے کی تمام ترذمہ داری ترنجیت سنگھ نے اٹھا رکھی تھی۔ اس دوران جہاں ان کی پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں اورابرارالحق سے ملاقات ہوئی، وہیں اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں معروف ہدایتکارسیدنور، قومی کرکٹ ٹیم ے فاسٹ باؤلروہاب ریاض ، سابق کپتان سلمان بٹ اور گلوکار امانت علی کے ساتھ بھی خوشگواروقت گزارا۔ وہ گزشتہ روزواہگہ بارڈرکے راستے واپس جاچکے ہیں لیکن لاہور میں بے پناہ مصروفیت کے باوجود میکا سنگھ نے ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیا، جوقارئین کی نذرہے۔

گلوکار میکا سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی قسم کا خوف نہیں۔ میں بنا سیکیورٹی لاہورمیں گھوم پھررہا ہوں اوربھارت میں بسنے والے لوگوںکوبھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستانی پیارکرنے والوں کا ملک ہے۔ لاہور کے لذیز کھانے بہت پسند ہیں۔ مٹن قورمہ ، بریانی سمیت جوکچھ بھی مل جائے بہت خوشی سے کھاتا ہوں۔ مجھے یہاں آکر کبھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں پاکستان میں ہوں، بلکہ یوں لگتا ہے کہ میں اپنے ہی ملک میں گھوم رہاہوں، یہاں کے لوگ، کلچر سب کچھ ایک سا ہے۔ لاہور کا ماحول امرتسراورکراچی ممبئی جیسا لگتا ہے۔

پاکستان سے واپس جاتے ہوئے اپنی فیملی اورقریبی دوستوں کے لئے یہاں کے خوبصورت ملبوسات لے کرجاتا ہوں۔ پاکستان میں بابا گرونانک کے گردوارہ پرحاضری دے چکا ہوں اور وہاں پر حکومت کی طرف سے انتظامات دیکھ کربہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معروف گلوکار راحت فتح علی خاں اورابرارالحق کے ساتھ مستقبل میں صوفی گیت ریکارڈ کرنے کی تیاریاں کررہا ہوں۔جہاں تک بات پاکستان میں کام کرنے کی ہے تو میں پاکستانی کمرشلزکے گیت ریکارڈ کرچکا ہوں اوراب اگرکوئی مجھے فلموں کے گیت گانے کی پیشکش کرے گا تومیں خوشی سے اس پراجیکٹ کوسائن کرونگا۔

انہوں نے بتایا کہ استاد نصرت فتح علی خاں مرحوم میرے پسندیدہ گلوکار تھے۔ ان کے علاوہ غزل گائیک غلام علی ، جاوید بشیر اور راحت فتح علی خاں بھی مجھے بہت پسند ہیں۔ پاکستان سے غلام علی ، سیدنوراورجاویدبشیرجب بھارت آتے ہیں تومیرے گھر ہی قیام کرتے ہیں۔ لاہورمیں پہلے راحت فتح علی خاں، ابرارالحق اور جاویدبشیر سے ملاقات ہوئی تھی اور اس مرتبہ کرکٹر وہاب ریاض، سلمان بٹ، سید نور، امانت علی اور ابرارالحق کے ساتھ ساتھ راحت بھائی سے بھی ملاقات کی اورمزے مزے کے چٹ پٹے کھانے کھائے۔ یہ لمحات بہت یادگار تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فلمسٹارشان اوراداکارہ ماہرہ خان مجھے بہت پسند ہیں جبکہ سٹیج ڈراموں کے معروف کامیڈین مستانہ مرحوم کے ڈرامے دیکھ کرلوٹ پوٹ ہوجاتا ہوں۔ ماضی کی مقبول فلم ''مولا جٹ'' سمیت دیگرپاکستانی فلمیں دیکھ چکا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلی مرتبہ واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ دونوں ملکوں کے سپاہی جس طرح سے جذبہ دکھاتے ہیں وہ قابل رشک ہے۔ میری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتراورمضبوط ہوں تاکہ دونوں ملکوں کے لوگ آپس میں مل سکیں اوران کے تعلقات میں بہتری آسکے۔