آئی ڈی پیزکی بحالی کا مثبت منصوبہ

سچ تو یہی ہے کہ یہ شدت پسند گروہ عالمی قوتوں اور ہماری ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔


Editorial April 09, 2015
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے آئی ڈی پیز کی بحالی کے عمل کو تیز رفتاری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے، فوٹو : فائل

شدت پسند عناصر نے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی لیکن پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسند عناصرکیخلاف بھرپور اور کامیاب آپریشن شروع کیا ۔تو یہ بے شمار دہشت گرد مارے گئے اور بہت سے فرار ہوئے، لیکن اس آپریشن کے نتیجے میں لگ بھگ بیس لاکھ افراد کو بے گھر ہونا پڑا اور وہ کیمپوں میں رہ کر موسم کی سختیاں وطن عزیزکی خاطر جھیلتے رہے۔ کرے کوئی بھرے کوئی والی بات ہے۔

ماضی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا ۔دنیا بھر سے افراد جہاد کے نام پر قبائلی علاقوں میں جمع کیے گئے ، اس میں عالمی قوتوں کا اپنا مفاد شامل تھا، ہمیں استعمال کیا گیا اور ہم استعمال ہوگئے ۔ اور پھر ان ہی عناصر نے پاکستان کی بنیادوں کو غیرمستحکم کرنا شروع کردیا اور پھر ساٹھ ہزار افراد کی قیمتی جانیں چلی گئیں ۔قبائلی علاقے اور ان میں رہنے والے افراد جو پاکستان کے دفاع میں پیش پیش تھے وہی اس کے خلاف ہوگئے اور تو اور بہت سے ملکوں سے آنے والے دہشتگردوں نے بھی یہاں رہائش اختیار کرلی ۔

اس طرح متاثرہ علاقوں کا پورا انفراا سٹرکچر تباہ ہوا، معیشت برباد ہوئی،اس ضمن میں حکومت کا کہنا ہے کہ آیندہ 2برس میں بحالی کے اس منصوبے کے لیے 20کروڑ ڈالرخرچ ہوں گے۔ وفاقی وزیر برائے شمالی علاقہ کے مطابق قبائلی علاقے محض پاکستان کا نہیں، تمام دنیا کا مسئلہ ہے۔ان علاقوں میں دھماکا خیز مواد اور اسلحہ تیارکرنے اور اغوا برائے تاوان کاکاروبار عروج پرتھا۔

انتہائی درست اور صائب بات کی ہے وفاقی وزیر نے۔ سچ تو یہی ہے کہ یہ شدت پسند گروہ عالمی قوتوں اور ہماری ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسوں کے نتیجے میں وجود میں آئے ۔ لہٰذا اگر دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے تو آئی ڈی پیز کو باعزت طور پر ان کے گھروں کے قریب روزگار کے مواقعے کو یقینی بنانا ہوگا، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ، پانی ،بجلی ،گیس کی فراہمی کے منصوبے حکومت نے بنائے ہیں جس کے لیے اقوام متحدہ نے اس منصوبے کے لیے مکمل تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

تقریب میں امریکا، برطانیہ، چائنا،جاپان سمیت کئی ملکوں کے سفیر اور ڈونر ایجنسیوں کے نمایندوں نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے آئی ڈی پیز کی بحالی کے عمل کو تیز رفتاری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے کیونکہ دہشت پسند عناصر ان کے اندر احساس محرومی کے عنصر کو ابھار کر دوبارہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ۔یہ پاکستان کی وفادار اقوام ہیں ان کا خیال رکھنا اور ان کی بحالی حکومت کا اولین فرض ہونا چاہیے ، جس سے پہلوتہی کی رتی برابر گنجائش نہیں ۔