کرائے کے قیدی روزگار کے نئے مواقع

یعنی میں اپنے باپ کا پنگھوڑا جھلا رہا تھا کہ اچانک ’’دادا‘‘ کے پیدا ہونے کی خبر آگئی۔


Saad Ulllah Jaan Baraq April 09, 2015
[email protected]

لیجیے اب تو سب کچھ سنا تھا صرف یہ سننا باقی تھا کہ کرائے کے سپاہیوں، کرائے کے ''سیاسیوں''، کرائے کے چمچوں دیگوں، حتیٰ کہ کرائے کے ماں باپ اور کرائے کی اولادوں کے بارے میں بھی سنا تھا لیکن کرائے کے قیدی؟کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے، سچ کہا ہے کہ بزرگوں نے آدمی زندہ ہو تو کیا کیا کیسا کیسا کچھ کچھ اور کہاں کہاں دیکھنا پڑتا ہے اور پھر اپنا پاکستان تو عجوبوں کا عجوبہ ہے بلکہ صرف عجوبہ ہی نہیں بلکہ عجوبوں کی پیداوار کا پورا کارخانہ ہے، ہر چڑھتے دن کے ساتھ کچھ نہ کچھ نیا سننے اور دیکھنے کو مل جاتا ہے، وہ ایک پشتو کا ٹپہ ہے نا کہ

د پلار زانگومے زنگولہ
ناسا پہ غگ شو چہ نیکہ دے پیدا شو نہ

یعنی میں اپنے باپ کا پنگھوڑا جھلا رہا تھا کہ اچانک ''دادا'' کے پیدا ہونے کی خبر آگئی۔ ایسے میں بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے یااللہ اس سے زیادہ ''برا'' نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ دو لڑکے جڑواں پیدا ہوئے تھے دونوں کی کمر آپس میں جڑی ہوئی تھی ان میں سے ایک اکثر دعا مانگتا تھا کہ یااللہ اس سے زیادہ برا نہ ہو، دوسرا کہتا اس سے زیادہ برا اور ہو بھی کیا سکتا ہے، لیکن ایک دن اچانک ان میں سے ایک مر گیا، اب بے چارے زندہ کو اس کی لاش لیے پھرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا کچھ روز بعد اس لاش سے بدبو اٹھنے لگی تو بولا ، بھائی تو ٹھیک کہتا تھا ہر ''برے'' سے زیادہ ''برا'' بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں آپ چاہیں تو کفن چور اور اس کے بیٹے کی کہانی بھی ساتھ جوڑ سکتے ہیں

خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بدخواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے

قیدیوں کے سلسلے میں اس قیدی کے بارے میں تو سنا تھا جو بیسواں تھا جسے کوتوال نے ایک قیدی کے بھاگ جانے پر یونہی بازار سے پکڑ لیا تھا لیکن باقی انیس قیدیوں سے کچھ زیادہ بدقسمت اس لیے تھا کہ دوسرے قیدیوں کی تو رہائی ہو گئی لیکن اس کا کہیں اندراج ہی نہ تھا تو رہائی کیسے ہوتی۔

اس قیدی کے بارے میں بھی سنا تھا جو ایک بادشاہ کے دورے کے موقع پر سامنے آیا تھا بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہ جیل کا سب سے پرانا قیدی ہے تو بادشاہ نے اپنے باپ دادا کی نشانی تصور کرتے ہوئے اسے جیل میں سنبھال کر رکھنے کی ہدایت جاری کی، لیکن اب کرائے کے قیدیوں کی جو نئی قسم بلکہ زراعت کی اصطلاح میں ''ترقی دادہ'' قسم دریافت ہوئی ہے اس نے تو تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کی ''انفرادیت'' پر دال ہے، مطلب یہ کہ اگر بین الاقوامی سطح پر ایسے کسی مقابلے کا اہتمام ہو جائے کہ کس ملک میں کس کس قسم کے قیدی پائے جاتے ہیں تو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ والے صرف پاکستان کا نام درج کریں گے، کرائے کے قیدی پرزنرز آف، اب تک صرف مکتب عشق کے بارے سنا تھا کہ وہاں کا دستور نرالا ہوتا ہے یعنی

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

لیکن نادرا کے ایک سابق ڈی جی نے یہ نیا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ''جیل'' کا دستور بھی کچھ کم نرالا نہیں ہے کہ ان کو قید میں رکھا گیا ہے جنہوں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے ظاہر ہے جیل والے حاتم طائی کے رشتہ دار تو ہیں نہیں کہ مفت کے دستر خوان پر ہر کسی کو پکڑ کر بٹھانے کا شوق رکھتے ہوں بلکہ مفت میں روٹی کپڑا مکان ... ارے ہاں یاد آیا وہ روٹی کپڑا مکان والا وعدہ کہیں جیل میں تو پورا نہیں کیا جا رہا ہے؟

کیوں کہ صرف جیل ہی وہ مقام ''مساوات'' ہے جہاں اس قسم کے وعدے پورے کیے جا سکتے ہیں باہر تو اس لیے ممکن نہیں کہ جب چند لوگ ساری روٹیاں لے اڑیں سارا کپڑا چند گھروں میں چلا جاتا ہو اور وہ ''گھر'' بھی گھرانوں کے ہوں تو کیسے ممکن ہے، بھٹو صاحب نے جب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تو بڑا خوب صورت لگا تھا کیوں کہ یہی تو انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں

مانگتا ہے ہر انسان
روٹی کپڑا اور مکان

بلکہ اب بھی یہ خاصا پرکشش نعرہ ہے کیوں کہ شہید بھٹو شہید بینظیر کے بعد غازی زرداری صاحب بھی اسے فالو کرتے رہے ہیں اب شاید بلاول بھی اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائے، لیکن جو لوگ انھی چیزوں کے ڈھیروں پر بیٹھے ہوئے تھے وہ آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور یہی نعرہ لگا رہے ہیں۔ مسجد میں وضو کرتے ہوئے ایک شخص کی گھڑی رہ گئی نماز کے بعد یاد آئی تو اس نے مسجد کے ایک شخص کو لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کے لیے کہا، اس نے جا کر لاؤڈ اسپیکر کھولا اور گھڑی کی گم شدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ گھڑی کسی کو ملی ہو تو فلاں صاحب کو پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں۔

بعد میں پتہ چلا کہ جب وہ اعلان کرنے والا اعلان کر رہا تھا تو گھڑی خود اسی کی جیب میں تھی اور یہ بات کافی عرصے بعد اس نے خود بتائی تھی، ہم بھی نا ... بات کرائے کے قیدیوں سے چلی تھی اور پہنچ کہاں گئی، دراصل یہ روٹی کپڑا اور مکان چیزیں ہی ایسی ہیں کہ بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر اور پھر جب ہم ایسے ترسے ترسائے ہوئے لوگ ہوں تو

کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
کسی سے جو بھی گلہ ہے ''تیرے'' سبب سے ہے

جیل میں کرائے کے قیدیوں کا سن کر نہ ہمیں کوئی غصہ آیا نہ غم ہوا بلکہ افسوس ہوا بلکہ رشک آیا کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت، کیا ہی اچھا ہوتا اگر کوئی مہربان ہو کر ہمیں بھی یہ سعادت بخشتا آخر اس بے روزگاری اور مہنگائی کے دور میں اس سے زیادہ اچھا جاب کیا ہو سکتا ہے کہ انسان کو خود بھی روٹی کپڑا اور مکان میسر ہو جائے اور لواحقین بھی نچنت ہو کر زندگی گزاریں، نجانے کیوں آج بات بات پر ہمیں ادھر ادھر کی کہانیاں یاد آرہی ہیں شاید ہم بھی آہستہ آہستہ مرزا داغ دہلوی بنتے جارہے ہیں

آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

اگر کرائے کے قیدیوں کے لواحقین کو تنخواہ مل جائے تو اس سے بہتر روزگار اور کیا ہو سکتا ہے یقین کریں ہم تو خوشی خوشی یہ جاب قبول کر لیں گے لیکن ہر مدعی کے واسطے دارورسن ... بلکہ روٹی کپڑا مکان کہاں؟ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

بر سماع راست ہر کس چیر نیست
طمعہ ہر مرغکے انجیر نیست