بہتری کی طرف قدم

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی آئین سا ز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں یہ تقریر کی تھی۔


Dr Tauseef Ahmed Khan April 11, 2015
[email protected]

KABUL: آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں، مسجدوں اور مملکت پاکستان میں دیگر عبادت گاہوں میں جانے اور وہاں عبادت کرنے کی پوری آزادی رکھتے ہیں۔ آپ کی ذات، مذہب یا مسلک سے مملکت پاکستان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم اپنے تاریخ کی ابتداء اس بنیادی اصول سے کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست (پاکستان ) میں برابر کے شہری ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی آئین سا ز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں یہ تقریر کی تھی۔ قائد اعظم نے اس بنیادی تقریر میں نئی ریاست کے خدوخال واضح کیے تھے۔ قائد اعظم نے اپنی اس تقریر میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو بنیاد بنایا تھا، جمہوریت کی بنیاد اپنے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہے یوں ریاست مذہب، نسل، جنس ، طبقے اور دوسرے تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا۔

پاکستانی ریاست کے خود ساختہ رکھوالوں کے لیے قائد اعظم کے یہ نئے خیالات ان کے مفادات کے خلاف تھے یوں سو ل بیوروکریسی کے بابا چوہدری محمد علی کی ہدایت پر پہلے اس تقریر کو اخبارات میں شایع ہونے سے روکنے کے لیے نئی ریاست کی پہلی پریس ایڈوائس استعمال کی گئی، ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کی مداخلت پر یہ پریس ایڈوائس موثر ہتھیار ثابت نہیں ہوئی مگر اس تقریر کو تاریخ کی کتابوں سے دور کر دیا گیا ۔

1947ء سے آج تک شایع ہونے والی نصاب کی بیشتر کتابوں میں تقریر شامل نہ ہو سکی۔ محقق اور استاد عرفان عزیز کہا کہنا ہے کہ سرکاری نصاب کی تدریس کے لیے انگریزی کی کتب اور اے اور او لیول کی کتابوں میں شامل ہونے والا مواد اردو کی درسی کتب میں شامل ہونے والے مواد سے یکسر مختلف ہے۔

انگریزی زبان کی کتابوں میں رجعت پسندانہ خیالات، اقلیت اور خواتین کے لیے نفرت کا اظہار نہیں ملتا اسی طرح اعلیٰ ثانوی بورڈ کراچی کے گیارہویں جماعت کے لیے منظور کی جانے والی انگریزی کی کتاب میں قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر بھی پہلے سے شامل کی گئی تھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قائد اعظم کی اس تاریخی تقریر کو ملک بھر میں دیگر نصابی کتب کا بھی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ 1947ء سے اب تک پیدا ہونے والی نسلیں اس اہم تقریر اس کے پس منظر اور اس کے اثرات کے بارے میں نہیں جان سکیں، صرف بائیں بازو کے دانشوروں کی محفلوں میں اس تقریر کا ذکر ہوتا رہا ۔

حکومت سندھ نے گزشتہ دنوں فیصلہ کیا کہ اس تقریر کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ سندھ کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کی اس تقریر کو اسکولوں اور کالجوں میں نصاب کا حصہ بنایا جائے مگر یونیورسٹیوں کے نصاب میں اس تقریر کو شامل کرانے کا معاملہ ہنوز توجہ طلب ہے۔ نئی صدی دہشت گردی کی قیامت کے ساتھ طلوع ہوئی یوں تو گزشتہ صدی کی آخری دو دہائیوں میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے سوویت یونین کے لیے جو حکمت عملی تیار کی تھی۔

اس کی بنیاد مذہبی انتہا پسندی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تھا یوں پہلے مرحلے میں افغانستان میں قائم ہونے والی کامریڈ نور محمد تراکئی کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے لیے ایک مخصوص فرقے کے انتہا پسند مسلمانوں کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا یوں مسلم دنیا کے انتہا پسند وں کو پاکستان میں جمع کیا گیا اور پھر ان لوگوں کو جہاد کے نام پر افغانستان بھیج دیا گیا۔ معاملہ صرف چند انتہا پسندوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مدرسوں کا جال بچھایا گیا۔ جدید تعلیمی اداروں کے نصاب میں رجعت پسندانہ اور فرسودہ مواد شامل کیا گیا ور نوجوانوں کو جہاد کے نام پر استعمال کرنے کے لیے انتہاپسندانہ سوچ کو تقویت دی گئی۔

فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیر کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سائنس کے مضامین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور اس طرح کا مواد تیار کیا گیا کہ سائنس کے طالب علم کی سوچ کا محور رجعت پسندانہ سوچ بن جائے یوں ہزاروں، لاکھوں نوجوانوں کو افغان جنگ میں جھونک دیا گیا، معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، سی آئی اے نے چینی، ازبک اور دوسری زبانوں میںبعض مخصوص نوعیت کی مذہبی کتابوں کے ترجمے کرائے اور ان کتابوں کو چین اور وسطی ایشیائی ممالک میں اسمگل کر دیا گیا۔

سی آئی اے کی اس حکمت عملی کے خوفناک نتائج افغانستان پر مجاہدین کی حکومت کے قیام کے بعد سامنے آئے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کوئی حکومت پورے افغانستان پر اپنی عمل داری قائم نہ رکھ سکی، پھر دنیا بھر سے جمع ہونے والے انتہا پسندوں نے جہاد کو پوری دنیا میں برآمد کرنے کی پالیسی اپنا لی، کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ جنرل حمید گل، جنرل اسلم بیگ وغیرہ اس سوچ کی حمایت کر رہے تھے۔

مصر، شام، ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، یورپ اور امریکا میں پکڑے جانے والے مذہبی انتہا پسندوں کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے نکلا، نائن الیون کی دہشت گردی کا واقعہ ہوا، اتحادی فوجوں نے طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا، پہلے انتہا پسند کابل میں لڑ رہے تھے پھر یہ جنگ پشاور اور کوئٹہ سے ہوتے ہوئے کراچی تک پہنچ گئی۔ انتہاپسند عناصر نے نوجوانوں کو خودکش حملہ آور بنانا شروع کیا، اس انتہا پسندانہ سوچ نے بے نظیر بھٹو، بشیر بلور، راشد رحمن سمیت ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں۔ ان انتہا پسندوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کو نشانہ بنایا یہ لوگ تعلیم کے حق کے لیے آواز اٹھانے والی ملالہ یوسف زئی سمیت بہت سے نوجوانوں کو پہلے ہی نشانہ بنا چکے تھے۔

ان لوگوں نے قبائلی علاقوں اور کے پی کے میں خواتین کو جدید تعلیم سے روکنے کے لیے سیکڑوں اسکولوں کی عمارتوں کو تباہ کیا تھا۔ دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کی وجوہات میں غربت اور جہالت نمایاں ہیں مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی انتہا پسندانہ نظریات کا شکار ہیں اور انتہاپسندانہ نظریات انسان کے ذہن سے متعلق ہوتے ہیں۔

ذہن کے ارتقاء میں نصاب تعلیم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ لاہور میں تعلیم کے لیے سرگر م عمل ڈاکٹر انجم پال کا کہنا ہے کہ پنجاب کے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں اقلیتوں سے نفرت آمیز مواد کی بھرمار تھی یوں بعض اسکولوں میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اسلامیات پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر پال اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے پنجاب کی حکومت اس صورتحال کو تبدیل کرنے پر تیار ہوئی۔ ڈاکٹر انجم بال کا کہنا ہے کہ اب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شایع ہونے والی کتابوں میں سے انتہا پسندانہ مواد کو حذف کر دیا گیا ہے۔

پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی گزشتہ حکومت نے نصاب سے انتہا پسندانہ مواد نکالنے کے لیے قابل غور کام کیا تھا یوں نوجوانوں اور برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے جدوجہد آزادی کے رہنماؤں کے حالات کے علاوہ امن، دوستی، بھائی چارے، برداشت، تمام مذاہب سے محبت، پڑوسی ممالک سے دوستی کا سبق پڑھایا جانے لگا، مگر اب جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی مخلوط حکومت نے پھر جنونی مواد نصاب میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت سندھ نے اسکولوں کے نصاب کو سیاسی طرز فکر کے مطابق ڈھالنے کے لیے خاطر خواہ کام کیا ہے۔

اس طرح نوجوانوں کو جدید مواد سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب سندھ کے اسکولوں میں پڑھایا جانے والے نصاب میں بہتری کا عمل شروع ہو جائے گا۔ حکومت بلوچستان بھی ایسے ہی اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت سندھ نے قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر نصاب میں شامل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ وفاق اور باقی صوبائی حکومتوں کو قائد اعظم کی اس تقریر کی اہمیت کو محسوس کرنا ہو گا۔