ایک ہم ہیں۔ ایک وہ
ہ 1986ء میں ہمارا قتل عام ہمارے ہی مسلمان لبنانی شیعہ بھائیوں نے کیا
ہمارا حافظہ آج سے نہیں صدیوں سے کمزور ہے۔
بہت کمزور۔ ہم بڑے بڑے سانحے یوں بھلا دیتے ہیں جیسے وہ ہم پر گزرے ہی نہیں۔ ایسا ہی ایک سانحہ اب سے 30 برس پہلے ان فلسطینیوں پر گزرا تھا جن کی آزادی کے لیے ہر جمعے کی نماز کے بعد ہماری مساجد میں رقت آمیز دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ رہ گئیں ہماری مذہبی جماعتیں تو ان کی طرف سے ان سانحوں کو بھلا دینے یا اکثر یاد نہ کرنے کا ایک سبب یہ ہے کہ ان گزری ہوئی قیامتوں کی یاد دہانی کے لیے جلسے کرنے یا جلوس نکالنے سے آنے والے انتخابات میں انھیں ایک ووٹ ملنے کا بھی امکان نہیں۔
ایک طرف ہم ہیں دوسری طرف وہ برطانوی اور امریکی ہیں جو اکثر و بیشتر اس 'موج خون' کو یاد کرتے ہیں جو 17 ستمبر 1982 کو بیروت کے صابرہ اور شتیلا کیمپوں میں رہنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کے سر سے گزری تھی۔30 برس پہلے ہونے والے اس قتل عام کو برطانیہ کے روزنامہ ''انڈیپنڈنٹ'' اور ''انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون'' میں رابرٹ فسک اور سیت انزسکا نے چند دنوں پہلے یاد کیا۔ انزسکا نے چند مہینوں پہلے اسرائیل اسٹیٹ آرکائیوز میں تیس برس بعد ڈی کلاسیفائی ہونے والی تمام سرکاری دستاویزوں کے علاوہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حرف بہ حرف ٹرانسکرپٹ کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ ستمبر 1982 میں فلسطینیوں کے قتل عام میں امریکیوں کی کتنی ذمے داری تھی اور اسرائیلی وزیر دفاع اور وزیراعظم نے کیا جھوٹ بولا تھا۔ یہ اسرائیلی جھوٹ اور امریکی خارجہ پالیسی کی کمزوری کی ایک ناقابل تردید دستاویز ہے۔
فسک نے 80 کی دہائی سے شرق اوسط کی نہایت پیچیدہ سیاست اور اس کا نوالہ بننے والے فلسطینیوں، عراقیوں، کردوں، دروزیوں اور شامیوں کے بارے میں ایسی تحریریں لکھی ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔ 30 برس بعد صابرہ اور شتیلا کے قتل عام کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ: آج بھی ناانصافی کی سڑاند ان کیمپوں میں پھیلی ہوئی ہے جن میں 30 برس پہلے 1700 بے خطا، بے قصور فلسطینی عورتیں، بچے اور جوان ذبح کر دیے گئے تھے۔ آج تک ان کے قاتلوں میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا، عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اس قتل عام پر کسی سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی اور کسی کو سزا نہیں ملی۔
شرق اوسط کی حالیہ تاریخ میں نہتے پناہ گزین فلسطینی جس طرح ذبح کیے گئے اس کے بارے میں اسی زمانے میں ایک اسرائیلی ادیب نے لکھا تھا کہ یہ لوگ اس طرح ذبح کیے گئے جس طرح یوگو سلاویہ کے (یہودی) شہری نازی حمایتیوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے۔
ہمارے یہاں بعد نماز جمعہ میں جو دعائیں ہوتی ہیں ان میں جہاں 'یا اﷲ کشمیریوں کو آزاد فرما' وہیں فلسطینیوں کی آزادی کے لیے بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ لیکن ان دعائوں پر آمین کہنے والوں کو آج یاد بھی نہیں رہا کہ 16 ستمبر 1982 کو بیروت شہر میں فلسطینیوں کے دو پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والوں پر کیا گزری تھی۔ اس وقت بھی ان مقتولین پر گریہ کچھ عرب صحافیوں اور دانشوروں نے کیا تھا یا پھر چند برطانوی صحافی اور دانشور تھے جنہوں نے ان تنگ گلیوں کے بارے میں لکھا تھا جن میں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی لاشیں آڑی ترچھی پڑی تھیں اور جن پر آس پاس کی بستیوں کے مردار خور اتر آئے تھے، انھیں کفن دینے اور دفن کرنے والے بھی نہ تھے۔
ان کیمپوں میں رہنے والا ایک نو عمر لڑکا خالد ابو نور فرار ہوکر پہاڑوں پر چلا گیا تھا اس لیے اس کی جان بچ گئی۔ وہ آج بھی زندہ ہے لیکن اس کے دل سے اس بات کا ملال نہ جا سکا کہ وہ اور اس کے دوسرے ساتھی ہلاک ہونے والے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ خالد نے صابرہ، شتیلا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے دل بوجھل ہیں۔ ہم نے بے گناہ مقتولین کے لیے انصاف طلب کیا، ہم نے کہا کہ دی ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلنا چاہیے لیکن ہماری کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔
کوئی ایک شخص گرفتار نہیں ہوا، کسی ایک پر مقدمہ نہیں چلا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 1986ء میں ہمارا قتل عام ہمارے ہی مسلمان لبنانی شیعہ بھائیوں نے کیا اور پھر اسرائیلیوں نے 2008 اور 2009کے دوران غزہ کی لڑائی میں اس روایت کو قائم رکھا۔ اگر کسی ایک کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا، اگر کسی ایک کو سزا ملتی تو ہم فلسطینیوں پر سب ہی چھریاں تیز نہ کرتے۔''
وہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آج تک کوئی ایک عرب سیاستدان، رہنما، وزیر یا سفیر صابرہ اور شتیلا کے مقتولین کو یاد کرتے ہوئے ان ٹیکریوں تک کیوں نہ جا سکا جہاں وبائی امراض کے پھیل جانے کے خوف سے پھولی ہوئی اور مردار خوروں کی نوچی ہوئی لاشیں مٹی کے ڈھیر کے نیچے دبا دی گئی تھیں۔ کیا اس لیے کہ امریکا، اسرائیل اور اس کے حلیف ناراض ہو جائیں گے اور اگر وہ ناراض ہو گئے تو پھر اقتدار میں لانے کے لیے ان کی سرپرستی کون کرے گا۔ وہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ وہ عرب جو فلسطینیوں کے حال پر زار زار روتے ہیں، ان پر لکھ کر شہرت کماتے ہیں، انھوں نے بھی کبھی اس گورِ غریباں کا رخ کیوں نہیں کیا، شاید ان بے چاروں کے پاس اتنے روپے نہ ہوں کہ وہ بیروت جانے کے لیے ریل کا ٹکٹ ہی خرید سکیں۔
یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ صابرہ اور شتیلا میں ہونے والی بربریت کے بارے میں صرف اسرائیل تھا جس نے ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا، حالانکہ یہ اسرائیل ہی تھا جس کی فوجوں نے دائیں بازو کے انتہا پسند قاتل فلانجسٹوں کو ان کیمپوں میں داخل ہونے دیا اور پھر وہاں بے گناہوں کا قتل، عورتوں کی بے حرمتی اور بچوں کو سنگینوں میں پروئے جاتے دیکھتے رہے۔ یہ خبر جب تل ابیب پہنچی اور وہاں متعین امریکی سفیر اور دوسرے عہدیداروں نے اس قتل عام کو روکنے، اسرائیلی فوجیوں کو آگے بڑھ کر فلانجسٹ قاتلوں کو روکنے کی بات کی تو پہلے اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے یہ جھوٹ بولا کہ ان دونوں کیمپوں میں ہزاروں 'دہشت گرد' چھپے ہوئے ہیں اور ان کا ستھرائو کیا جا رہا ہے۔
اس قتل عام کے بارے میں اسرائیل نے کاہان کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ ناقص تھی، اس کے باوجود اس میں واضح طور پر اس ظلم و بربریت کا ذمے دار اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون کو ٹھہرایا گیا تھا۔ شیرون کو اس وقت وزارت سے ہٹا دیا گیا لیکن بعد میں وہ اسرائیل کے وزیر اعظم ہوئے اور اس وقت تک وزیر اعظم رہے جب تک کہ ان پر فالج کا حملہ نہ ہوا اور وہ قوت گویائی سے محروم نہ ہو گئے۔
رابرٹ فسک چند دوسرے مغربی صحافیوں کے ساتھ 18 ستمبر 1982کو ان کیمپوں میں داخل ہوا تھا جب فلسطینیوں کا ستھرائو ہو رہا تھا۔ وہ نقشہ جو فسک نے کھینچا ہے، اس قدر بھیانک ہے کہ ذہن سے کھرچا نہیں جا سکتا۔ 'وہاں جو گزری تھی اس کا قصہ ہم سے مکھیوں نے کہا۔ وہ بلا مبالغہ لاکھوں میں تھیں۔ جس طرح سڑاند ہم سے سب کچھ کہہ رہی تھی اسی طرح یہ مکھیاں بھی کچا چٹھا کھول رہی تھیں۔ وہ عام مکھیوں سے بہت بڑی تھیں اور ہم سب پر حملہ آور ہوئی تھیں۔ شاید انھیں ابھی تک زندہ اور مردہ کا فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔
ہم کھڑے ہوئے اپنی نوٹ بک پر لکھ رہے تھے کہ انھوں نے ہمارے ہاتھوں، بازوئوں، لباس اور نوٹ بک پر چھائونی چھا دی۔ لاشوں سے اٹھ کر وہ زندوں پر آ گئیں۔ ان کی سبز رنگت، فضا میں پھیلی ہوئی لاشوں کی عفونت، ہمیں ابکائیاں آنے لگیں۔ ہم نے اپنا منہ، ناک اور اپنی آنکھیں رومالوں سے ڈھک لیں، ہم بات نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ منہ میں گھسی چلی جا رہی تھیں۔ ابھی چند ساعتیں گزری تھیں کہ ہم میں سے لاشوں کی سٹراند اٹھنے لگی۔ قاتل فلانجسٹ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنا کام مکمل کر کے نکلے تھے۔ کچھ لاشیں ایک دن پرانی تھیں اور کچھ میں سے خون ابھی تک رس رہا تھا۔
وہ اور بعض دوسرے صحافی ہر دوسرے چوتھے برس اس گور غریباں کو جاتے ہیں۔ ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ تم ان چند سو فلسیطنیوں کو کیوں روتے ہو جب کہ پچھلے 19 مہینوں میں شام نے 25,000 اپنے ہم وطن اور ہم مذہب بمباری، گولہ باری اور گولیوں سے قتل کر دیے ہیں۔ شاید ایسے سوال کرنے والوں کو یاد نہیں رہتا کہ فسک اور اس جیسے دوسرے مغربی صحافی جو مذہباً عیسائی ہیں، ان کے بجائے یہ سوال انھیں بشار الاسد اور شرق اوسط کے دوسرے مسلمان حکمرانوں سے کرنا چاہیے جن کے ہاتھ اپنے ہی شہریوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔
ہمارا اجتماعی حافظہ کمزور ہے۔ بہت کمزور ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاریخ یہی لکھے گی کہ صابرہ اور شتیلا کے شہیدوں کو ان کے ہم مذہبوں نے فراموش کر دیا لیکن انھیں مغرب کے باضمیر اور روشن خیال عیسائی اور یہودی یاد کرتے ہیں۔
ایک ہم ہیں۔ ایک وہ ہیں۔