عمران فی امان اﷲ

یہ لوگ عمران کی سیاسی مدد نہیں کر رہے بلکہ عمران سے وہ سب کچھ لینا چاہتے ہیں جو ابھی اس کے پاس ہے ہی نہیں


Abdul Qadir Hassan October 10, 2012
[email protected]

پاکستانی تاریخ کا ایک نیا بلکہ پنجابی میں نواں نکور لیڈر عمران خان نیازی کے نام سے ہمارے سامنے سرگرم سیاست ہے۔

ہم اسے ایک مدت سے اس کی جوانی کے زمانے سے ہی جانتے ہیں۔ کرکٹ سے ایک شاندار رفاہی منصوبے کی تعمیر اور اس سے قوم کو ممنون کرنے کے بعد وہ سیاست کی طرف آیا اور آتا ہی چلا گیا۔ سیاست کے شروع سالوں میں وہ دبا دبا سا رہا لیکن ہماری بدقماش اشرافیہ کے اعمال نے اسے ایک لیڈر بنا دیا۔ وہ بدترین حالات کا ردعمل اور ہمارے اوپر برسوں سے مسلط اشرافیہ کی سزا بھی ہے جسے پوری قوم نے خوشی اور تالیوں کے ساتھ قبول کیا ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافیاں کرنے والوں سے چھٹکارے کی کوئی صورت تو نکلی ہے۔

مثالی پبلک جلسوں کے بعد عمران نے ایک زبردست ایڈونچر کیا اور ایک بڑا قافلہ لے کر پاکستان کے مضطرب اور بے امن قبائلی علاقوں کی طرف نکل گیا۔ پوری دنیا کے میڈیا نے اس کو رپورٹ کیا اور دو دن تک خود پاکستانی بھی دم بخود ہو کر اسے دیکھتے رہے۔ یہ طویل مظاہرہ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ان کے پاکستانی نشانوں کے علاقے تک جا رہا تھا، یہی اس کی منزل تھی، اس کے اثرات دیکھیں کب تک برآمد ہوتے ہیں لیکن عمران کی یہ جرات ضایع نہیں جا سکتی۔ قدرت نے بھی اسے اس خطر ناک سفر سے بچایا ہے ورنہ کچھ دلوں میں اس کی سلامتی کے خطرات بھی تھے جو موجودہ حالات میں بے بنیاد نہیں تھے۔ اﷲ نے اسے بچا لیا۔

میں نے ان چند مختصر سے الفاظ میں عمران کے اس جلوس کا ذکر کیا ہے، میری معلومات براہ راست نہیں میڈیا تک محدود ہیں۔ زندگی بھر ایسے سیاسی ہنگاموں کا حال قلمبند کیا لیکن ان میں شامل ہو کر براہ راست دیکھ کر ان جلوسوں میں دھکے کھائے، جوتیاں تڑوائیں، سب کچھ ہوا، یہاں تک کہ آنسو گیس کے شکار ایک جلوس میں مجھے آنکھوں کا مرض بھی لگ گیا، گولہ میرے اوپر پھٹا تھا۔ ان جلوسوں کی قیادت سید مودودی، دولتانہ ،نوابزادہ نصراﷲخان، ولی خان اور شائستہ مزاج مفتی محمود اور جناب بھٹو صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی کر رہے تھے۔

مشرقی پاکستان کے لیڈر بے حد قابل احترام تھے لیکن ان کی سیاسی سرگرمیاں بہت دور تھیں جن تک رسائی آسان نہیں تھی لیکن ہمارے یہ رہنما اس خطے کے مسلمانوں کے جاں نثار قائد تھے اور اب جب یہ یاد آتا ہے کہ انھوں نے جان دے دی مگر بنگلہ دیش زندہ باد اور پاکستان مردہ باد نہ کہا تو سمجھ میں نہیں آتا، ان کا احترام کس طرح کریں۔ یہ الاٹ منٹ کرا کے جائیدادیں بنانے والے پاکستانی نہیں تھے جان دینے والے پاکستانی تھے۔ انھوں نے قائداعظم کے پاکستان کو اس کی تعمیر کے لیے زندگیوں کا چندہ دیا۔ بہر کیف عرض یہ کر رہا تھا کہ جس نے اتنے بڑے اور شاید پھر نہ آنے والے لوگوں کی رپورٹنگ کی ہو، وہ کسی سنی سنائی اور کسی جذباتی سیاسی کارکن کی ہر بات کیسے مان سکتا ہے۔

میں یہی عرض کرتا کہ میں نے شروع میں جو کچھ کہا ہے وہ جذباتی تھا اور واقعاتی نہیں تھا لیکن ماضی کے تجربے مجھے بتاتے ہیں کہ عوام کبھی کسی ایسی کیفیت سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں کہ وہ سب کچھ دائو پر لگا دینے کے موڈ میں ہوں۔ عمران نے جوانوں کے دلوں میں ہلچل برپا کر دی ہے۔ یہ سب ہماری گزشتہ برسوں کی کرپش ،بدمعاش اور بدقماش اشرافیہ کی نا انصافیوں اور خود غرضیوں کا ردعمل ہے بلکہ سزا ہے جو حالات نے ایک سخت اور توانا ردعمل کی صورت میں عمران کے رابطے سے پاکستانی قوم کو پیش کیا ہے۔ میں آپ سے کیا عرض کروں کہ میں نے زندگی میں کتنے بت ٹوٹتے، پجاری روتے بلکتے دیکھے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں کہ تحریک نظام مصطفی جو اصل میں تحریک جمہوریت تھی جن لوگوں نے پاکستان کے گلی کوچوں میں برپا کی وہ بھٹو کو تو لے گئی لیکن اور بھی بہت برباد کر گئی۔

ہمارے علمائے کرام کو ضیاء الحق نے وزارتیں پیش کیں اور نوابزادہ صاحب تو لڑتے رہے کہ دو کیوں تین وزارتیں کیوں نہیں۔ ان سب نے وزارتوں کے یہ تحفے شکریے کے ساتھ وصول کیے اور راولپنڈی میں اسلام اور جمہوریت کے یہ صنم کدے لیڈروں کے لالچ میں گم ہو گئے۔ لاہور میں مغل پورے کے ایک باپ نے اس تحریک میں کام آ جانے والے بیٹے کا اس سیاسی سانحے کے مہینوں بعد ماتم برپا کیا اور کہا کہ میرا بیٹا اب مرا ہے، پہلے وہ شہید تھا اور زندہ تھا۔ عرض یہ ہے کہ میرا تو اب سیاستدانوں، لیڈروں اور قائدین پر سے اعتماد اگر اٹھ نہیں گیا تو متزلزل ضرور ہو گیا ہے۔ میں تحریک پاکستان کے لیڈروں اور کارکنوں کی قیام پاکستان کے فوراً بعد لوٹ کھسوٹ کا ذکر نہیں کرتا کہ جس کے ثبوت آج بھی زندہ سلامت موجود ہیں۔

مختصراً عرض ہے کہ میں اس ضمن میں بہت ہی محتاط ہوں لیکن میں عمران خان سے اس بنا پر توقعات وابستہ کیے بیٹھا ہوں کہ وہ جو ہے وہی ہے، اچھا ہے برا ہے نیک ہے یا نہیں ہے، اس نے اب تک سیاست میں آنے کے بعد کوئی ڈرامہ نہیں لگایا، سستی شہرت کے لیے بیرون ملک رابطوں کو ختم نہیں کیا اور ملک کے اندر اپنی جائیداد کو وقف نہیں کیا۔ سرطان جیسے مہلک اور ظالم مرض کے علاج اور اس کے مقابلے کے لیے بلاشبہ ایک بڑا اسپتال بنایا، عالمی معیار کا۔ اس کی یہ ایک نیکی ہی کافی ہے۔ اس پر اس کے تمام گناہ معاف و صاف۔

عمران پاکستانی مزاج اور عوامی توقعات کے مطابق ایک پاکستانی لیڈر نہیں ہے، وہ ایک ناپختہ کمزور سیاستدان ہے اور اس کے سیاستدان ساتھی ابھی اپنی اپنی فکر میں ہیں، میرا اندازہ ہے ابھی یہ تحریک انصاف میں جم کر نہیں بیٹھے۔ لگتا ہے یہ جماعت ان کے لیے قدرے اجنبی ہے کیونکہ یہ معروف معنوں میں ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ اس لیے یہ لوگ عمران کی سیاسی مدد نہیں کر رہے بلکہ عمران سے وہ سب کچھ لینا چاہتے ہیں جو ابھی اس کے پاس ہے ہی نہیں، اس کے پاس فی الحال سیاسی مقبولیت وہ بھی نوجوانوں میں بہت ہے اور ایسی عوامی مقبولیت مدتوں بعد کسی لیڈر کے حصے میں آئی ہے۔

میں عرض کردوں کہ عمران کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے معذور ہوں کہ وہ کیسا لیڈر ثابت ہو گا جب کہ میں اس کے والد مرحوم کا قریبی شناسا تھا اور ان کے چچا خان امان اﷲ خاں ایڈووکیٹ کا معترف جو میانوالی میں مسلم لیگ کے واحد مضبوط نمایندے تھے۔ عمران کے والد محترم کے ذریعے میں اس وقت کے نوجوان کھلنڈرے عمران سے غائبانہ متعارف تھا۔ میں نے ان کے گھر پر ان کے اہل خانہ والدہ مرحومہ اور بہنوں سے عمران کے بارے میں انٹرویو بھی کیا تھا جس کے موقعے پر اتفاقاً امان اﷲ خان محترم بھی موجود تھے۔ مشرقی پاکستان کا حادثہ ابھی اتنا پرانا نہیں تھا اور انٹرویو کا عنوان تھا ''اک یہ بھی نیازی ہے'' عمران نے بھارت کو کرکٹ کے میدان میں ہرایا تھا اور یہ یاد تازہ تھی۔ بہر حال اب دنیا بدل گئی ہے۔ کرکٹ والا عمران اب گم ہو گیا ہے۔ آئیے شمالی پاکستان کے کوہساروں میں اسے تلاش کریں، وہ جیسا بھی ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں