مثالی مسائل کا مثالی حل

جس کا نام ’’چونچ بہ چونچ‘‘ ہے اور آج اس میں ہم نے ایک بہت بڑی چونچ کو ناپرساں سے خصوصی طور پر بلوایا ہے،


Saad Ulllah Jaan Baraq April 14, 2015
[email protected]

خدا کا ۔۔۔۔ بلکہ اس سے کچھ زیادہ امریکا کا لاکھ لاکھ تھینکس ۔۔۔ کہ آخر کار مملکت ناپرساں میں وہ ہو گیا جس کا ڈر نہیں بلکہ ضرورت تھی، مملکت اللہ داد ناپرساں کے تمام مسائل حل ہو گئے اور مملکت اللہ داد ناپرساں کے سارے باشندے مل کر کورس بلکہ قوالی کر رہے ہیں کہ

اب کوئی آروز نہیں باقی
جستجو میری آخری تم ہو

اس سے پہلے کہ مملکت اللہ داد ناپرساں اپنی اس پیداوار یا چائنا مچھلی نما جمہوریت یا مسائل کی کثرت سے خودکشی کرتی، ایک بڑا زبردست حل مل گیا لیکن اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ یہ حل آسانی سے ملا ہے، یہ اس کی بھول ہے اور اس بھول کی کم از کم سزا یہ ہے کہ اسے ناپرسانی عوام بنا کر عمر قید بامشقت دی جائے۔

اس عظیم الشان حل میں اس مملکت کے سارے لیڈر جو اب تک پیدا ہو چکے ہیں یا مر چکے ہیں یا وہ جو زندہ ہیں اور شرمندہ بھی نہیں یا وہ جو ابھی پیدا ہوں گے سب کے سب شامل ہیں جنہوں نے امریکا کی ہدایات اور آئی ایم ایف کی مدد سے یہ مقام (اللہ اللہ) حاصل کیا ہے، آج ہم بڑی خوشی جس میں فخر کی بھی ملاوٹ ہے کے ساتھ اپنے چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کا ایک خصوصی پروگرام آپ کے متھے مار رہے ہیں ۔

جس کا نام ''چونچ بہ چونچ'' ہے اور آج اس میں ہم نے ایک بہت بڑی چونچ کو ناپرساں سے خصوصی طور پر بلوایا ہے، اس بڑی چونچ کا نام ویسے تو ممتاز رہنما ہے لیکن زیادہ مشہور چمچ الملک، چمچ الملت ، چمچ الزمان چمچ العالم اور چمچ المسائل کے نام سے مشہور ہے، باقی دو چونچوں کا تعارف کرتے کرتے تو ہمیں الٹیاں آنے لگتی ہیں، اس لیے آپ خود ہی الٹیے یعنی پہچانئے، ہاں تو پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے میں حضرت ''ممتاز راہ نماء'' کو دعوت کلام دیتا ہوں

اینکر : ہاں تو جناب راہ نماء صاحب، یہ ناپرساں میں کیا ادھم مچا ہوا ہے
ممتاز : ادھم نہیں بلکہ جشن منایا جارہا ہے کیونکہ ناپرساں کے وہ تمام مسائل ایک دم حل ہو گئے ہیں جو بین الاقوامی چڑیل آئی ایم ایف، بابائے مسائل امریکا اور مقامی لیڈران کرام اور راہ نمایان عظام نے پیدا کیے تھے۔
چشم : یہ تو بڑی عجیب سی بات ہے
ممتاز : عجیب ہی نہیں غریب سی بات ہے کیوں کہ مملکت اللہ داد ناپرساں نے آج ثابت کر دیا ہے کہ تمام مسائل کا حل صرف اور صرف غریبی ہے
علامہ : یہ کیسے ہو سکتا ہے غریبی تو ام الامراض ہے
ممتاز : لیکن ام العلاج بھی ہے
چشم : یہ تو علامہ بالکل آپ جیسی ہے۔ آپ بھی پہلے مسائل پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کے لیے تعویز دیتے ہیں۔
اینکر : آپ خاموش رہیے اور مجھے ممتاز صاحب سے بات کرنے دیجیے ہاں تو ممتاز صاحب۔
ممتاز : مملکت اللہ داد ناپرساں نے اپنے تمام مسائل سے چھٹکارا ۔۔۔ ہو میو پیتھک طریقے سے پا لیا
اینکر : مثلاً
ممتاز : میں مثال دیتا ہوں بلکہ میرے پاس اتنی مثالیں ہیں کہ آپ سن سن کر مثل بت ہو جائیں گے۔
اینکر : ٹھیک ہے بتایئے۔
ممتاز : مثال کے طور پر سب سے پہلے مملکت ناپرساں میں بجلی کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
اینکر : مثالی مسئلہ کہیے۔
ممتاز : بجلی کا مثالی مسئلہ بلکہ بے مثل و بے مثال مسئلہ
اینکر :اس مسئلے کا مثالی حل آپ نے کیسے ڈھونڈا؟
ممتاز : سب سے پہلے تو آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مملکت اللہ داد ناپرساں میں ہر چیز مثالی ہوتی ہے۔ حکومت مثالی لیڈر مثالی، پارٹیاں مثالی، جلسے مثالی، جلوس مثالی، دھرنے مثالی، شادیاں مثالی یوں کہیے کہ ناپرساں ایک مثالی المسائل ملک ہے
اینکر : ٹھیک ہے مان لیا
ممتاز : تو جب بجلی کا مثالی مسئلہ پیدا ہوا تو پہلے تو اسے مثالی یعنی روایتی طریقوں سے ہینڈل کیا جانے لگا مثلاً بجلی کی پیداوار بڑھانے کی باتیں کرنا، باتیں بنانا اور باتیں بیچنا وغیرہ وغیرہ
اینکر : اچھا پھر
ممتاز : پھر حکومت نے زرکثیر صرف کر کے اس کا مثالی حل ڈھونڈ لیا
اینکر : وہ حل ہمیں بھی بتایئے نا؟
ممتاز : وہ مثالی حل اس مسئلے کا یہ تھا کہ بجلی استعمال ہی نہ کی جائے
اینکر : اچھا
ممتاز : یہ بڑا مثالی حل تھا اس کے بعد سارے مسئلے مثالی طور پر حل ہو گئے
اینکر : سارے مسئلے ۔۔۔ وہ کیسے؟
ممتاز : جو بھی چیز نہ ملتی یا مہنگی ملتی اسے ترک کر دیتے چنانچہ آج خدا کے فضل، امریکا کی دعا، آئی ایم ایف کی آشیرواد اور لیڈروں کی محنت سے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا ہے، لوگ بڑے آرام سے غاروں میں رہتے ہیں ،کرولے کی جگہ خرولے کی سواری کرتے ہیں، بجلی کی جگہ دل جلاتے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء کے بجائے غم کھاتے ہیں اور آرام سے جیتے ہیں اور پھر آرام سے مر جاتے ہیں بل کہ اکثر تو جینے سے پہلے ہی آرام سے مر جاتے ہیں۔