سیاسی رواداری کی مثال
ہم نے یہاں بوجوہ ان مسائل پر گفتگو کرنے سے احتراز کیا ہے جو پارٹیوں کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں
حلقہ نمبر این اے246کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے متحدہ اور تحریک انصاف کے درمیان جو تناؤ جاری تھا، اس میں تصادم کے امکانات اس وقت پیدا ہوئے جب عمران خان نے نائن زیرو سے متصل جناح گراؤنڈ جانے کا اعلان کیا۔ جناح گراؤنڈ عشروں سے متحدہ کے جلسوں کا مرکز رہا ہے اور اس گراؤنڈ کو نائن زیرو کا حصہ ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔
عمران خان کا فلسفہ یہ تھا کہ کراچی میں خوف کی فضا کو توڑنے کے لیے متحدہ کے علاقے میں جلسے جلوس کا اہتمام کرنا ضروری ہے اور عمران خان غالباً اسی پس منظر میں جناح گراؤنڈ کا دورہ کرنے پر بضد تھے جب معلوم ہوا کہ اس مہم میں ان کی بیگم بھی ان کے ساتھ ہوں گی تو سنجیدہ حلقوں میں بھی یہ خطرات محسوس کیے جانے لگے کہ اس موقعے پر ایک بڑا تصادم ہوسکتا ہے جو پہلے ہی سے کراچی کی سلگتی ہوئی زندگی کی تپش اور بڑھا دے گا لیکن متحدہ کی قیادت کی طرف سے جب اچانک یہ اعلان کیا گیا کہ جناح گراؤنڈ آنے پر عمران خان کا نہ صرف خیرمقدم کریا جائے گا بلکہ رابطہ کمیٹی بہ نفس نفیس عمران خان اور ان کی بیگم کا استقبال بھی کرے گی۔
اس مثبت اعلان کے جواب میں عمران خان نے یہ اعلان کیا کہ وہ جناح گراؤنڈ کے دورے کے دوران یادگار شہدا پر فاتحہ خوانی کریں گے۔ اس تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے کو دیکھ کر اہل کراچی نے سکون کا سانس لیا۔
متحدہ کے قائد کی طرف سے بیگم عمران خان کو جیولری کا سیٹ تحفے میں پیش کرنے اور تحریک انصاف کے قائدین کے لیے لنچ کا اہتمام کرنے کے اعلان سے سیاسی رواداری کی فضا اور مضبوط دکھائی دینے لگی۔ اس ماحول میں تحریک انصاف کی قیادت جب ایک بڑی ریلی کے ساتھ جناح گراؤنڈ کی طرف آنے لگی تو ماحول بڑی حد تک دوستانہ نظر آرہا تھا۔
ماضی میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان جو سخت کشیدگی موجود رہی اس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی اور تناؤ ایک فطری بات تھی اور دونوں جماعتوں کی قیادت کی طرف سے خیرسگالی کے جذبات کے اظہار کے باوجود یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ کہیں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم نہ ہوجائے ایک دو مقامات پر دونوں جماعتوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی بھی لیکن دونوں طرف کی قیادت کی طرف سے عقلمندی اور برداشت کے رویوں کی وجہ عمران خان اور ان کی بیگم کا یہ دورہ پرامن رہا اور 9 اپریل بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے پرامن طور پر گزر گیا اور اہل کراچی نے سکھ کا سانس لیا۔
اس حوالے سے فہمیدہ حلقوں کو اس بات پر بہرحال افسوس رہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اپنی ہیئت ترکیبی کے حوالے سے مڈل کلاس پر مشتمل ہیں اور دونوں ہی جماعتوں کے پاس ایک قابل ذکر اسٹریٹ پاور موجود ہے۔ پاکستان 68 سالوں سے جس سیاسی مافیا کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے، اس کی فطری طور پر یہی خواہش رہے گی کہ مڈل کلاس کی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب نہ آئیں اگرچہ خود مڈل کلاس اپنے جماعتی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان نظر آتی ہیں لیکن اگر ذرا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس سائیکی کے پیچھے اسی مافیا اور بعض نادیدہ قوتوں کا ہاتھ ہے جو اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے مخالف طاقتوں کو متحد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کی خاطر اس کلچر کو مضبوط بنانے کا کردار ادا کر رہی ہے، جس کے مظاہرے عوام قدم قدم پر دیکھتے آرہے ہیں۔ ایلیٹ کی سیاسی جماعتوں کی اس خودغرضانہ سیاست نے اس ملک میں کبھی حقیقی جمہوریت کو مضبوط ہونے نہیں دیا جس میں بالادست عوام ہوتے ہیں لیکن موجودہ 68 سالہ سیاست میں عوام کا کام صرف نعرے لگانا اور نام نہاد دشمنوں سے برسر پیکار رہنا ہی رہ گیا ہے۔
دکھ اس بات کا ہے کہ سیاسی کارکن خواہ اس کا تعلق کسی جماعت سے ہو غریب طبقات ہی سے تعلق رکھتا ہے اور اس 68 سالہ عوام دشمن سیٹ اپ کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن عمومی بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی کارکنوں کی طاقت بلکہ ناقابل تسخیر طاقت کو قومیت، زبان، نسل، مسلک وغیرہ کے حوالے سے بانٹ کر نہ صرف کمزور کردیا گیا ہے بلکہ ایک دوسرے کے خلاف اس طرح برسر پیکار کردیا گیا ہے کہ ان کی نظریں اپنے اصلی اور حقیقی طبقاتی دشمن کی طرف جاتی ہی نہیں۔ تحریک انصاف عشروں سے گمنامی کے اندھیروں میں پڑی ہوئی تھی لیکن جب 14 اگست 2014 کو وہ نئے پاکستان اور اسٹیٹس کو توڑنے کے نعرے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرنے لگی تو لاکھوں عوام اس کے ساتھ ہو لیے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک مقبول عوام جماعت بن گئی۔
اس کی اس مقبولیت کی وجہ نئے پاکستان اور اسٹیٹس کو توڑنے کے نعرے تھے لیکن اپنی ناقص منصوبہ بندی اور بے معنی حکمت عملی کی وجہ سے تحریک انصاف نے اس گلے سڑے نظام کو بدلنے کا موقع کھو دیا۔متحدہ اپنے قیام کے فوری بعد سے ہی ملک سے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کا اعلان تو کر رہی ہے اور اسٹیٹس کو کو توڑنے کے لیے پہلا قدم ہی جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا ہے اس حوالے سے یہ توقع کرنا غلط نہیں کہ یہ دونوں ہی جماعتیں موجودہ استحصالی نظام کو تبدیل کرنے کا ایک ہی مشترکہ ایجنڈا رکھتی ہیں۔
مگر عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر دونوں جماعتوں میں یہ نظریاتی یکجہتی موجود ہے تو پھر عداوت اور دشمنی کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیٹس کو کی حامی جماعتیں مضبوط بھی ہیں اور ریاستی طاقت بھی ان کے ہاتھوں میں موجود ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کی اجتماعی طاقت کے سامنے ریاستی طاقت تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ جاتی ہے۔ سوال صرف عوام کی اجتماعی طاقت کے درست اور ایماندارانہ استعمال کا ہے۔
ہم نے یہاں بوجوہ ان مسائل پر گفتگو کرنے سے احتراز کیا ہے جو پارٹیوں کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں کیونکہ اس ڈھول کو پیٹنے سے سماعت ہی متاثر ہوسکتی ہے کوئی اور فائدہ نہیں ہوسکتا۔ ماحول میں جو بات قابل ذکر ہے وہ ہے متحدہ کے قائد کا یہ بیان کہ ''اگر ہم دونوں جماعتیں مل کر جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو یہ ایک مثبت اقدام ہوگا۔'' تحریک انصاف کی قیادت جس نئے پاکستان کی عوام کو نوید دیتی آرہی ہے۔
اس نئے پاکستان کی طرف جانے کے لیے جاگیردارانہ نظام کی لاش پر سے گزرنا ہوگا۔ اگر دونوں جماعتیں اپنے دعوؤں میں مخلص ہیں تو پھر انھیں اس ایک نکاتی ایجنڈے Status Quo توڑنے پر اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے پر صدق دل سے آمادہ ہونا پڑے گا۔
Status Quo کو توڑنا آسان کام نہیں کیونکہ اقتدار مافیا بہت طاقتور ہے اس حوالے سے سولو فلائٹ کی کوششیں ایک احمقانہ اور غیر منطقی کوشش کے سوا کچھ نہیں، اس بڑے کام کے لیے ایک ایسے بڑے اتحاد کی ضرورت ہے جس میں ہر اس جماعت ہر اس تنظیم کو شامل ہونا چاہیے جو اس ایک نکاتی ایجنڈے یعنی اسٹیٹس کو کو توڑنے پر متفق ہو۔ دونوں جماعتیں اگر خلوص نیت سے اس سمت میں پیش قدمی کریں تو کامیابی ان کا مقدر ہوسکتی ہے۔
اقتدار آنے جانے والی چیز ہے آج کسی حکمران کو کوئی یاد نہیں کرتا البتہ جو رہنما اور جو جماعتیں عوام کو استحصالی نظام سے نجات دلاتی ہیں عوام ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اس تناظر میں حلقہ نمبر 246 کی سیٹ بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔