اب بھی وقت ہے بلوچستان کو تھام لیجیے

ایک گہری سازش کے تحت بلوچ نوجوان کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے اب واحد راستہ بندوق ہی ہے۔


محمد عاصم April 15, 2015
امن کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے مقامی نوجوانوں کو اعتماد میں لیکر اپنے ساتھ خوشحالی و ترقی میں شامل کرنا ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ فوٹو: فائل

قیام پاکستان کی مہم جوئی میں ایک جانب مشرقی پاکستان 'موجودہ بنگلہ دیش' کے پُرجوش عوام کا کردار مثالی تھا تو دوسری جانب دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی عوام نے ہر لحاظ سے بانی پاکستان کا ساتھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ محب وطن اور پرامن بلوچی آخر کیوں کربدامنی کا شکار ہیں؟



قبائلی نظام: سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی طرح بلوچستان میں بھی مضبوط قبائلی نظام پر مبنی معاشرہ آباد ہے۔ باقی صوبوں کے برعکس یہ نظام یہاں زیادہ متحرک اور موثر انداز میں موجود ہے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں آج بھی قبیلےکے سردار ہی حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ اصل حکمرانی انہیں کے پاس ہے۔

جیوپولیٹیکل ویو: ایک طرف تو بلوچستان پاکستان کا، رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے تو آبادی کےتناسب سے سب سے چھوٹا بھی۔ زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ بلوچستان بیک وقت ہمسائے ممالک افغانستان اور ایران سے مشترک سرحدیں رکھتا ہے، دوسری جانب ان ممالک میں بلوچ علاقے بھی ہیں۔ یہ علاقے پاکستانی بلوچستان سے جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری ساحل بھی بلوچستان کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچ قبائل کی بڑی تعداد پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی آباد ہے۔

تعلیمی صورتحال: تعلیمی پسماندگی یہاں کے بنیادی مسائل میں سے ایک برننگ ایشو ہے۔ سرکاری اسکول بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہاں تک کہ بعض علاقوں میں استاد تک موجود نہیں اور اسکول کی عمارت کسی سردار کے ذاتی استعمال میں ہے۔ کوئٹہ شہر جو صوبائی دارالحکومت کا درجہ رکھتا ہے، وہاں نسبتاً تعلیمی صورتحال بہتر ہے لیکن صوبے کی مجموعی تعلیمی حالت تشویک ناک حد تک خراب ہے۔ وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں نے بلوچ طلبہ کو خصوصی سکالرشپس کی سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود ابھی کافی محنت درکار ہوگی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے۔

https://twitter.com/Zarina_Baloch/status/578992645600649216

https://twitter.com/_HidayatKakar/status/570970379310669824

عالمی طاقتیں: پاکستان کے لیے بلوچستان کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ لیکن دوسری جانب عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفاد لیے، بلوچستان میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ایران کو اپنے تیل کے ختم ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ بھٹو دورِ حکومت میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان اپنے علاقوں میں تیل کے کنووں پر کام نہیں کر یگا۔ کیوں کہ تقریباً سارے تیل کے ذخائر کا بہاو بلوچستان کی طرف ہے۔ دوسری جانب سارا سال آمدورفت کے لیے قابل استعمال گوادر بندرگاہ اپنی خاص لوکیشن اور فنکشن کی بنا پرچین کے علاوہ کئی عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گوادر بندرگاہ کی دوسری خوبی اس میں تیرتے جہازوں کے لیے ساحل کے قریب ترین لنگرانداز ہونے کی صلاحیت ہے، دنیا میں اس خوبی کی حامل کم ہی بندرگاہیں ہیں۔ گوادر بندرگاہ کے فنکشنل ہونے کی صورت میں مصنوعی بنیادوں پرکھڑا عرب امارات کا معاشی ڈھانچہ 80 فیصد نکارہ ہوجائے گا اور چین کو اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں لے جانے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ صرف چند سو کلو میٹر میں طے کرنا پڑے گا جس سے ایک خطیر لاگت کی بچت ہوگی۔

https://twitter.com/SaamZad/status/579561932576944128







ملکی ادارے: پاکستانی حکومتی اداروں کی کارکردگی افسوس ناک حد تک خراب ہے۔ لیویز کی فورس نااہل افراد پر مشتمل ہے۔ خود حکومتی اہلکار جرائم میں ملوث ہیں۔ 18 ہزار لاپتہ افراد کے خاندان دن رات ازیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کئی بار بیرونی مداخلت کے شواہد ملنے کے باوجود پارلیمنٹ نے اپنا مثبت رول ادا نہیں کیا۔ سالانہ بجٹ میں قابل زکر حصہ بلوچستان کو نہیں دیا گیا۔ سیاسی وعدے ہوئے لیکن عمل نا کیا جا سکا۔ گذشتہ حکومتوں کے اعلان کردہ بلوچستان پیکج دفتری ردی کا حصہ بن گے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی ابھی تک کوئی قابل زکر فیصلہ نہیں دے سکی۔

مسئلے کی اصل وجہ اور ممکنہ حل: چند دن پہلے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دہاڈی دار مزدور دہشت گردوں کی سفاکیت کی بھینٹ چھڑ گئے۔ ان مزدوروں سے بلوچستان کے مسائل کا کیا تعلق ہوسکتا تھا؟ آخر کیوں یہ ظلم کیا گیا؟ اس سے پہلے بھی مزدوروں کو قتل کیا جاچکا ہے اور اُنہیں وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا۔



ایک گہری سازش کے تحت بلوچ نوجوان کو حکومتوں کی خراب کارکردگی کی آڑ میں یہ سبق سکھایا جا رہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے اب واحد راستہ بندوق ہی ہے۔ بھارت اور دیگر ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے اس سازش میں بڑے سرمایہ دار کے موجود ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سارے پاکستان میں ایک مخصوص ٹولے کے علاوہ باقی سبھی پاکستانی محرومیوں کا شکار ہیں۔

اب اس بھیانک سازش سے نکلنے کے لیے انصاف کو فوراً حرکت میں آنا ہوگا۔ سچے دل سے سیاسی جماعتوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کو تیز اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت اور امن کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے بلوچستان کے مقامی نوجوانوں کو اعتماد میں لیکر اپنے ساتھ خوشحالی و ترقی میں شامل کرنا ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔

[poll id="356"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں