برقی آلات کی سرکاری خریداری پر مسابقتی کمیشن نے رائے دیدی

تجاویز پروکیورمٹ ایجنسیز کے لیے گائیڈ لائنزکے مقصد سے تیارکی گئی ہیں


Business Reporter April 17, 2015
تجاویز پروکیورمٹ ایجنسیز کے لیے گائیڈ لائنزکے مقصد سے تیارکی گئی ہیں ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: مسابقتی کمیشن پاکستان نے پبلک سیکٹرپرو کیورمٹ ایجنسیز (این ٹی ڈی سی، ڈسکوز وغیرہ) کی طرف سے الیکٹریکل آلات کی پروکیورمنٹ میں غیرمسابقتی خدشات (ٹینڈر میں محدودیت،استثنیٰ اور غیرامتیازی شرائط) پر رائے جاری کر دی ہے جس میں تجاویز بھی دی گئی ہیں۔

یہ شرائط بادی النظر میں ٹینڈر میں ممکنہ بولی دینے والوں کوبرابری کے مواقع دینے میںحائل ہوتی ہیں اور مسابقت پر اثر انداز ہوتی ہیں، یہ رائے 17فروری 2015 کو اس معاملے پر کی گئی عوامی سماعت کے بعد جاری کی گئی، یہ رائے مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن29 کے تحت جاری کی گئی اور اس میں دی گئی تجاویز اس انداز میں مرتب کی گئی ہیں کہ وہ پرو کیورمٹ ایجنسیز کے لیے گائیڈ لا ئینز کا کام دے سکیںتا کہ ٹینڈر کے کاغذات تیار کرتے وقت یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس میں کوئی ایسی شق شامل نہ ہو جو مسابقت پر اثر انداز ہو۔

مسابقتی کمیشن نے یہ رائے تمام متعلقہ اداروں جن میں پانی اور بجلی کی وزارت، واپڈا، این ٹی ڈی سی، ڈسکوز، وزارت خزانہ، پیپرز، کاروباری اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو معلومات اور ضروری کارروائی کے لیے بھجوا دی ہے۔سی سی پی نے کہا ہے کہ بولی دینے والے مرحلے پر صرف عالمی سطح پر تسلیم شدہ کوالٹی کنٹرول چیکس کو ہی اختیارکیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شراکت داری کو یقینی بنایا جا سکے۔

لمپنگ کے معاملے پر سی سی پی نے تجویز دی کہ آلات کی لاٹوں میں درآمد کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، کسی خاص برانڈ یا ملک کو ترجیح نہ دی جائے بلکہ آلات کی درآمد میں معیار اور کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے، ٹینڈر کے اعلان اور ٹینڈر کے ڈاکیومنٹس کی موجودگی میں کوئی گیپ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ موجودہ سپلائرز کو فائدہ اور نئے آنے والوں کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے، ڈومیسٹک پرائس پرفارمنس کوبالآئے طاق رکھنا چاہیے کیونکہ یہ غیرفعالعیت کو جنم دیتی ہے۔

اگر موجودہ تخصیصات میں تبدیلی مطلوب ہو تو یہ تکنیکی ماہرین کے ذریعے کی جائے اور اس میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، نئے بڈرزکی سالانہ پروکیورمنٹ کے ایجوکیشنل آرڈر کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جائے۔

سی سی پی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو عوامی پیسے کا ضیاع، مقامی صنعت کی ترقی میں رکاوٹ، بین لاقومی انویسٹمنٹ میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا اثر مجموعی طور پر ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔