پاکستان کا سعودی عرب کو تعاون کی یقین دہانی کا اعادہ

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان اس کی خود مختاری اور سالمیت کو خصوصی اہمیت دیتا ہے


Editorial April 18, 2015
آنے والے حالات پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں اس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ابھی سے پیش بندی کر لینا چاہیے۔ فوٹو : پی آئی ڈی

MANCHESTER: وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قرار داد پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان' چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی' وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف' مشیر خارجہ سرتاج عزیز' طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی اور یمن کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

یمن کا بحران پاکستان کے لیے خاصی پیچیدہ صورت حال اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادیوں کی خواہش ہے کہ پاکستان یمن کے خلاف ان کا ساتھ دے اس سلسلے میں سعودی عرب پاکستان سے افواج بھی مانگ چکا ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان اس کی خود مختاری اور سالمیت کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اسی لیے سعودی عرب کے عسکری امداد مانگنے کے بعد پاکستانی حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کا حل تلاش کرنے کے لیے اسے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنا پڑا جس میں یمن کی جنگ سے دور رہنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں سعودی عرب کی سالمیت کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔

پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ یمن کا مسئلہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ جنگ سے مسائل کم نہیں بلکہ الٹا ان میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ بعض مبصرین ان خدشات کا بھی اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ اگر یمن کی جنگ کا فوری کوئی حل نہ نکالا گیا اور یہ یونہی جاری رہی تو پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

پاکستان کو بھی ان خدشات اور خطرات کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ اقوام متحدہ' آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) اور عرب لیگ اس مسئلے کا فوری مناسب حل تلاش کریں۔ پاکستان یمن کے حوالے سے اپنی پوزیشن کافی حد تک واضح کر چکا ہے اس کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کا کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے نہ تو عرب ممالک سے اس کے تعلقات میں کسی قسم کی کشیدگی آئے اور نہ ایران سے اس کے معاملات میں کوئی الجھاؤ پیدا ہو۔

پاکستان نے اب تک جو پالیسی اپنا رکھی ہے اس کے مطابق وہ یمن کی جنگ سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ بعض تجزیہ نگار بارہا ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان اگر اس جنگ میں شریک ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات اس پر بھی مرتب ہوں گے اور وہ بہت سے داخلی مسائل میں الجھ سکتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ پاکستان اس جنگ میں کسی بھی حوالے سے شریک نہ ہو۔

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے ذریعے یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور باغیوں سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کر کے صنعا و دیگر زیر قبضہ علاقوں سے نکل جائیں' سلامتی کونسل نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے کیے جانے والے ایسے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا جن کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ یمن میں ہونے والی خانہ جنگی سے وہاں کے حالات روز بروز بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور صورت حال میں فوری بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب کی بری فوج نے پہلی زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور یمن کے ساتھ سرحدی علاقے میں حوثی جنگجوؤں پر حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئر پورٹ اور تیل کے ٹرمینل پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس طرح یمن مختلف مسلح گروہوں میں تقسیم ہو گیا ہے یہ صورت حال اس خطے کے لیے بہتر نہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتیں بھی اس مسئلے پر کوئی موثر کردار ادا نہیں کر رہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یمن میں جنم لینے والا بحران کسی عالمی سازش کا حصہ معلوم ہوتا جس کا مقصد مسلم ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور مسلمانوں کے مختلف گروہوں کو آپس میں لڑا کر مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

افغانستان' عراق' شام اور لیبیا کی صورت حال سب کے سامنے ہے اب یمن کو بھی خانہ جنگی کا شکار کر دیا گیا ہے اگر مسلم ممالک نے متحد ہو کر اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہ کیا تو خدشہ ہے کہ آہستہ آہستہ دیگر مسلم ممالک بھی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آتے چلے جائیں گے۔ مسلم ممالک کے رہنماؤں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کے بجائے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے میدان عمل میں اتریں۔ عرب ممالک اور ایران کو بھی اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھنا چاہیے کیونکہ ان کے درمیان شدید ہوتے ہوئے اختلافات کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے یمن کی جنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کر کے دانشمندانہ قدم اٹھایا ہے۔ آنے والے حالات پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں اس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ابھی سے پیش بندی کر لینا چاہیے۔