درخت کاٹنے والوں کا محاسبہ کیا جائے

کراچی میں شجر کاری یوں بھی سرکاری سطح پر مقبول نہیں رہی


Editorial April 22, 2015
کراچی میں شجر کاری یوں بھی سرکاری سطح پر مقبول نہیں رہی ۔ فوٹو : فائل

ایڈمنسٹریٹر کراچی ثاقب احمد سومرو نے شارع پاکستان پر اتوار کو اسٹریٹ لائٹس پولوں کو ہٹانے اور درختوں کو غیرقانونی طور پر کاٹنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی پارکس اور ورکس اینڈ سروسز کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر اس کی رپورٹ پیش کریں کہ اسٹریٹ لائٹس پولز کے ہٹانے اور درختوں کی کٹائی سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کتنا نقصان ہوا ہے ۔

کتنی الم ناک بات ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے جلسے کی خاطر بے دریغ درخت کاٹے اور گرین بیلٹ پر اسٹریٹ پول بھی اکھاڑلیے اور قیادت خاموش رہی ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرایع کے مطابق ہفتہ و اتوار کو دو سیاسی جلسوں کے دوران شارع پاکستان پر7 اسٹریٹ لائٹس کے پولز اور درجن بھر درخت کاٹے گئے۔

کراچی میں شجر کاری یوں بھی سرکاری سطح پر مقبول نہیں رہی ،اور نہ درخت اگانے، پودوں اور کیاریوں سے محبت اور سبزے کی ہر سو چادر کا کلچر عام کرنے میں متعلقہ محکمے پیش پیش رہے ، کئی شاہراہیں ایسی ہیں جہاں دو رویہ درخت کا کہیں نام ونشان نہیں اور جو درخت قدیم اور بے برگ و بار شہر کو رونق بخشتے ہیں انھیں بھی جلسے کے انعقاد میں رکاوٹ سمجھ کر کاٹ دیا جائے تو اس سے زیادہ اور کیا شجر دشمنی ہوسکتی ہے۔

جب کہ ادارہ تحفط ماحولیات نے ذمے داروں کے خلاف فاریسٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہدایت کی ہے، اس تشویش ناک صورتحال پر کارروائی کی صرف ہدایت کافی نہیں بلکہ جس قدر نقصان ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر وسطی کو متعلقہ سیاسی جماعت یا جماعتوں سے معاوضہ وصول کرنا چاہیے۔ محکمہ انجینئرنگ اور باغات نے اپنی رپورٹ ایڈمنسٹریٹر کو دے دی ہے۔

تاہم اب ایکشن لینے کا وقت ہے، اگر اس طرح درخت کاٹنے کی وبا چل پڑی تو سارے شہر کو ہی اشجار سے محروم کردیا جائے گا جس طرح جنگل مافیا نے سندھ کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مزید برآں بجلی کے کھمبے اکھاڑنے کا بھی نوٹس لیا جائے۔

یہ تمدن سے بیزاری اور ماحول دشمن رویہ ہے۔جس کی کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی فوری کارروائی کریں ، ویجیلنس ٹیمیں شہر میں گرین بیلٹ کے تحفظ کو یقینی بنائیں جب کہ غیر قانونی اقدام کرنے والوں سے جرمانہ یا معاوضہ لیا جائے تاکہ سرکاری املاک کے نقصان کا ازالہ ہوسکے۔ امید کی جانی چاہیے کہ تحفظ ماحولیات مانیٹرنگ ادارے کی حیثیت سے متعقلہ اداروں سے اس بارے میں ضرور رابطہ کرے گا اور ایسے عمل کی روک تھام کے لیے اقدامات کو یقینی بنائے گا۔