تغافُل

وہ جذباتیت، محبت اور روحانیت پر گھنٹوں گفتگو کرسکتے تھے اور اس دوران مجال ہے جو کوئی اُٹھ کر چلا جائے۔


محمد شیر April 28, 2015
کون اللہ کے در پر بے بسی کی تصویر بن کر جھولی پھیلاتا ہے اور کون تفاخر اور تغافُل میں اُسے یاد کرتا ہے۔۔۔۔۔ فوٹو:فائل

پروفیسر صاحب پُر اسرار بندے تھے۔ اُن کے مزاج کی شناسائی مشکل تھی۔ میں نے لفظوں کو جوڑنا اور اس جوڑ کو پُر معنی بنانا اُن ہی سے سیکھا تھا۔ لوگوں سے ملنا جُلنا اور میل میلاپ کی حدیں طے کرنا بھی اُنہی نے سکھایا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر مُسکراہٹ بکھیرنا اور اُن مسکراہٹوں کی طوالت کا اندازہ کرنا بھی اُن سے ہی سیکھا تھا۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے رشتےتعلق اور واسطے کا فرق سمجھایا تھا۔



وہ جذباتیت، محبت اور روحانیت پر گھنٹوں گفتگو کرسکتے تھے اور اس دوران مجال ہے جو کوئی اُٹھ کر چلا جائے۔ وہ اپنے اندازِ گفتگو سے لوگوں کو باندھ کر رکھنے میں ماہرتھے۔ کوئی ایک بار اُن سے مل لے تو دوسری دفعہ خود ہی کھینچے چلے آئے گا۔ واقعی اُنہیں گفتگو میں کمال تھا۔ کیوں نہ ہو، وہ صرف زبان سے ہی نہیں آنکھوں سے اور اشاروں کناروں میں بھی اُتنا ہی مشاق تھے۔ وہ جاندار مسکراہٹ کے مالک تھے آپ جتنی بھی تنقید کرلو اُن کی مسکراہٹ میں تازگی اور آنکھوں میں شفافیت پہلے سے اور زیادہ واضع ہوجاتی تھی۔



میری روحانیت کا درس روز چلتا تھا، ہر دن کسی نئے اسرار سے روشناس کراتے، میں لوگوں کو سمجھنا اور اُن کے تاثرات کو پڑھنا سیکھ رہاتھا۔ ایک دن باتوں ہی باتوں میں اُنہوں نے اپنی ڈائری نکالی اور مجھے پاس رکھنے کا کہا۔ میں نے پڑھنے کی اجازت چاہی تو اُنہوں نے مسکرا کر ہاں کردی۔

میں اپارٹمنٹ پہنچا اور ڈائری کے ورق اُلٹنے لگا کہاچانک ایک صفحے نے میری توجہ حاصل کی۔ اُس صفحے پر کچھ یہ لکھا تھا کہ
''مجھے سب سے زیادہ تسکین تب ہوتی ہے جب لوگ باربار مجھ سے رابطہ کریں، اُن کی کالز اور پیغامات سے میرا میسج باکس بھر جائے اور میں تواتر سے ان سُنی کرتا رہوں۔ لوگوں کی برداشت اور صبر کو آزمانا میرا محبوب مشغلہ ہے، اُن کو وقعت نہ دے کر مجھے عجیب سا سکون ملتا ہے، کوئی کتنا بھی ارفع کیوں نہ ہو میں جب اُس کے پیغام کا جواب نہ دوں تو کچھ لمحے بعد جو اُس کا عاجزانہ اور یاسیت بھرا لہجہ ہوتا ہے وہ میری سب سے بڑی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ لوگوں کے جذبات اور احساسات کو بے توجہی سے روندنا، اُن کی پرواہ نہ کرنا ہی میری شادمانی کا سب سے بڑا سامان ہے۔ مجھے جب بھی کسی کو سزا یا سبق سکھانا ہو تو میں اُس کے ساتھ اس درجے تک واسطہ رکھتا ہوں کہ میرا ساتھ اُس کی ضرورت سے عادت میں بدل جائے، جب وہ لاشعوری طور پر اس میں مبتلا ہوجائے تو میں ایکدم سے 'تغافل' اور بے خبری کا چہرہ دکھاتا ہوں، مجھے وہ بے بس اورلاچارانسان میری سب سے بڑی کامرانی لگتا ہے''۔



مجھ میں آگے پڑھنے کی ہمت نہ تھی، میں نے ڈائری بند کی اور دوسرے روز ہی اُن کے پتے پر پُہنچادی۔

'بابے کھوجنے' کی اس مہم کا وہ میرا آخری دن تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ ہر وہ انسان 'بابا' ہے جس کے نزدیک خُدا کی بنائی مخلوق اور اُن کے احساسات کی حثیت اُس سے کہیں بڑھ کے ہے جو وہ کرتے ہیں.

https://twitter.com/seharsyedd/status/589471296053972993

لوگوں کے اعمال کا احتساب کا حق صرف اُن کے رب کی جانب ہے، جب کہ ہم کسی کو 'اگنور' کرکے 'غفلت برت کر' اور 'بے خبری' میں خدا کے مسکن، اُن کے دلوں کو زچ کر دیتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں اللہ ہماری عبادتوں سے کہیں زیادہ ہمارے احساسات کو دیکھتا ہے کہ کون اُس کے در پر بے بسی کی تصویر بن کر جھولی پھیلاتا ہے اور کون تفاخر اور تغافُل میں اُسے یاد کرتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جاسکتے ہیں۔