پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی چھوٹ

سی آئی اے کو ملی اسی کھلی چھوٹ کے باعث پاک افغان سرحد پر جنوری میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے...


Editorial April 29, 2015
سی آئی اے کو ملی اسی کھلی چھوٹ کے باعث پاک افغان سرحد پر جنوری میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے، فوٹو:فائل

JAMRUD: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے سی آئی اے کے پاکستان میں جاری ڈرون پروگرام کے قوانین میں خاموشی سے کئی تبدیلیاں کردی ہیں، ان قوانین کا مقصد ڈرون حملوںمیں شہری ہلاکتوں کو کم ازکم رکھنا تھا ۔

امریکا کا ہمیشہ سے یہ مخمصہ رہا ہے کہ اسے امریکی مفادات عالمی امن اور دیگر ملکوں یا حلیفوں کی سلامتی اور ان کے بین الاقوامی حقوق کا کبھی لحاظ نہیں رہا، ڈرون حملے امریکی مائنڈ سیٹ کے اسی عسکری تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں ، اس لیے امریکی عوام کو درپیش داخلی خطرات کے خلاف سی آئی اے کے زیر تصرف قوانین کا خاموشی سے تبدیل کیا جانا ایک بڑے پیراڈائم شفٹ کا عندیہ دیتا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے ابو غریب ، گوانتا نامو ،سالٹ پٹ، اور رومانیہ کے خفیہ قید خانہ 'اورنس' سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی اڈوں سے منسلک جیلوں اور عقوبت خانوں کے تلخ تجربات اور عالمی ندامت سے کچھ نہیں سیکھا۔ اب اسی مذکورہ موقر امریکی اخبار کی اطلاع کے مطابق پاکستان پر ڈرون حملوں کے لیے سی آئی اے کو قانون سے بالاتر اور استثنائی حملوں کے لیے اجازت دی جارہی ہے جب کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت میں قربانیوں کی مثالیں پیش کرچکا ہے ، اسے جانی و مالی نقصانات کی مد میں اربوںروپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

اس کی معیشت زیر و زبر ہوئی اور فاٹا کا علاقہ ہلاکت کدہ بن گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن یا صومالیہ جیسے ممالک میں ڈرون حملے سے قبل سی آئی اے کو امریکی صدر کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ مجوزہ ہدف امریکا یا اس کے مفادات کے لیے خطرہ ہے مگر سی آئی اے کے لیے پاکستان میں ڈرون حملہ کرتے وقت ایساکرنا ضروری نہیں۔ قواعد کے تحت سی آئی اے کو خاص تاکید کی گئی ہے کہ دیگر ملکوں میں ڈرون حملے میں ایک بھی عام شہری زخمی یا ہلاک نہ ہو تاہم ایسا حکم افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء تک پاکستان میں ڈرون حملوں کے لیے نہیں۔ یہ بد نیتی پر مبنی ہدایات اور قوانین میں بلاجواز تبدیلی پاکستان کو کسی طور قبول نہیں ہونی چاہیے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مغوی امریکی شہری اور اطالوی امدادی کارکن سی آئی اے کو ملی اسی کھلی چھوٹ کے باعث پاک افغان سرحد پر جنوری میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے، سی آئی اے کو چھوٹ نہ ہوتی تو حملے سے پہلے مزید انٹیلی جنس معلومات جمع کی جاتیں۔ اس چھوٹ کا مطلب یہ ہے کہ سی آئی اے مصدقہ معلومات جمع کیے بغیر صرف شک کی بناء پاکستان میں کسی بھی ایسے مقام پر ڈرون حملہ کرسکتی ہے جہاں اسے کسی نامعلوم شدت پسند کے چھپے ہونے کا بھی شبہ ہو۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ صدر اوباما جنوری میں القاعدہ کے خلاف کریک ڈاؤن میں امریکی و اطالوی یرغمالیوں کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر تعزیت و ندامت کا اظہار کرچکے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو صدر اوباما کو ڈرون حملوں کے اس نئے باب میں بھی خفت و پسپائی کا منہ دیکھنا پڑے جب کہ پاکستان جیسے قریبی حلیف کو ڈرون ٹیکنالوجی دینے کے بجائے اس پر مزید حملوں کی اطلاع افسوس ناک ہی کہی جاسکتی ہے۔