سعید اجمل کو ’’باہر نکالو‘‘

ویسے بھی وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے ہیروز کی قدر نہ کریں


سلیم خالق May 01, 2015
اسپنرکونیٹ پرساڑھے3ہزاربالزکرنے کے بعدمنتخب کیا،نام پرنہیں کھلائینگے، بورڈ فوٹو: فائل

''سعید اجمل ختم ہو گیا، اسے ٹیم میں واپس لایا ہی کیوں گیا؟''

''ارے اس سے اچھی بولنگ تو کوئی کلب بولر ہی کر لے''

یہ اور اس سے ملتی جلتی باتیں آج کل آپ کئی لوگوں سے سن رہے ہوں گے، افسوس یوں نہیں کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں بعض والدین تک کو بھی بوڑھا ہونے پر اپنے اولاد کی جھڑکیاں سننا پڑتی ہیں، جہاں اب یورپ کی طرح اولڈ ہاؤس کا تصور فروغ پا رہا ہے، ایسے میں اگر سعید اجمل کے کارناموں کو بھلا کر منفی باتیں کی جائیں تو کچھ عجب نہیں لگتا، مگر ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ کرکٹ ہے کوئی گھڑدوڑ نہیں جہاں گھوڑا جب کام کا نہیں رہتا تو پیچھا چھڑا لیا جاتا ہے۔

ویسے بھی وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے ہیروز کی قدر نہ کریں،سیاست میرا کام نہیں مگر ایک عام پاکستانی بھی اگر سوچے تو اس کی نظروں میں بعض ایسے چہرے سامنے آجائیں گے جنھوں نے ملک کے لیے بڑی خدمات انجام دیں مگر اب بے بسی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں، کرکٹ میں تو ہم نے اپنے اسٹارز کے ساتھ ہمیشہ ہی ناروا سلوک اپنایا، یہ جو محمد یوسف ٹی وی پر بیٹھ کر ہر وقت منفی باتیں کرتے رہتے ہیں ان کے لہجے میں یہ تلخی کیریئر کے ناخوشگوار انجام نے ہی بھری، اب سعید اجمل کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے،خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خود مستقبل کے فیصلے کا اختیار دیں، لعن طعن کر کے ان کا دل خراب نہ کریں،میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں جب ان کا بولنگ ایکشن مشکوک رپورٹ ہوا تب ہی بورڈ کے ایک اعلیٰ آفیشل نے مجھ سے کہہ دیا تھاکہ ''اب یہ جو بھی کر لے دوبارہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

مگر عوام کے سامنے اس تاثر سے بچنے کیلیے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا بعض کوششیں تو کرنا ہی ہوں گی''، ویسے میرا ذاتی خیال بھی یہی تھا، ورلڈکپ سے قبل آئی سی سی کے اچانک ''آپریشن کلین اپ'' کے بعد سعید کا بچ نکلنا دشوار تھا، وہ بولنگ کرتے وقت 45 ڈگری تک چلے جاتے تھے مگر اجازت 15کی ہے، ایسے میں ان کا ایکشن درست کر لینا ہی بہت بڑی بات ہے،البتہ اگر کسی پرندے کے پر کٹ جائیں تو وہ کیسے اڑ سکتا ہے؟ بولنگ میں جان باقی نہ رہنے سے وہ ایک عام بولر بن گئے،البتہ اس سے ثقلین مشتاق کو ایکشن کی درستگی میں مددکے نام پر انگلینڈ سے پاکستان آ کر مفت میں چھٹیاں گذارنے اور25،30 لاکھ روپے حاصل کرنے کا موقع ضرور مل گیا، محمد اکرم وغیرہ نے بھی بڑی بڑی باتیں کیں مگر 8ماہ بعد جب سعید اجمل بنگلہ دیش کیخلاف ون ڈے میچ کھیلے تو اندازہ ہو گیا کہ اب وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کامیاب نہیں رہ سکیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ تیسرے ون ڈے سے باہر ہوئے، اور تو اور ان کے دیرینہ دوست مصباح الحق جنھیں بطور کپتان اسپنر نے کئی میچز جتوائے وہ بھی انھیں کھلنا ٹیسٹ میں نہ کھلا سکے،اس میں ان کا بھی قصور نہیں، سب کو ہی پتا تھا کہ ایسا ہو گا لیکن ایک مبہم سی امید سعید اجمل کو انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس لے کر آئی، ان کا انگلش کاؤنٹی سے معاہدہ بھی تھا لہذا پاکستان کی نمائندگی ضروری تھی، اب لگتا ہے کہ وہ دوسرا ٹیسٹ بھی شاید نہیں کھیل سکیں گے۔ ایک عظیم کھلاڑی جس نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں مجموعی طورپر پاکستان کیلیے 444 وکٹیں لیں اس کے کیریئر کا ایسا انجام نہیں ہونا چاہیے،یقیناً سعید اجمل کو بھی اب حقائق کا علم ہو گیا ہو گا، اس سے پہلے کہ انھیں ٹیم سے مستقل ڈراپ کیا جائے خود ہی مستقبل کاکوئی فیصلہ کر لینا چاہیے، جب انضمام الحق کو ریٹائرمنٹ کیلیے کروڑوں روپے دیے جا سکتے ہیں تو سعید اجمل کی بھی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔

ٹیم کی واپسی کے بعد چیئرمین بورڈ شہریارخان اگر انھیں بلا کر ملاقات کریں تو اچھا رہے گا، زمبابوے سے ہوم سیریز بہترین موقع ہے، ملک میں طویل عرصے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہو گی، ایسے میں ایک ون ڈے میچ کو سعید اجمل سے منسوب کر دیا جائے،وہ آخری بار اپنے شائقین کے سامنے کھیلیں، بعد میں ایک تقریب میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے، بورڈ جہاں کچھ نہ کرنے والے اپنے ملازمین پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے وہیں کچھ رقم اس عظیم سپوت کو بھی دی جائے، بات یہیں ختم نہ کریں اکیڈمی میں برسوں سے جو سفید ہاتھی پال رکھے ہیں۔

وہاں ایک باصلاحیت پلیئر کو اسپن بولنگ کوچ کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے،اس سے ایک نئی مثال قائم ہو گی اور دنیا پر بھی یہ پیغام جائے گا کہ ہمیں عقل آ چکی اور اب اپنے ہیروز سے ناروا سلوک اختیار نہیں کرتے، لیکن اگر حالیہ سیریز کے بعد سعید اجمل کو خاموشی سے دودھ میں سے مکھی کی طرح ٹیم سے باہر کر دیا گیا تو شہریارخان اینڈ کمپنی کو پاکستان کرکٹ کی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔