فاٹا میں نئی صنعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا خوش کن فیصلہ

ملک میں طویل عرصےسےجاری دہشت گردی کی لہرنےجہاں امن و امان کےمسائل پیدا کیےوہیں معیشت کےشعبےپربھی منفی اثرات مرتب ہوئے


Editorial May 04, 2015
ملک میں سرمایہ کاری کا عمل جتنا تیزی سے فروغ پائے گا پسماندگی اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائے گی۔ فوٹو : فائل

ملک میں طویل عرصے سے جاری دہشت گردی کی لہر نے جہاں امن و امان کے مسائل پیدا کیے وہیں معیشت کے شعبے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ بڑے سرمایہ کاروں نے مایوس ہو کر مزید سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا اور محفوظ مقام کی تلاش میں اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے لگے۔ اس صورت حال سے عام صنعتکاروں اور تاجروں میں بھی ناامیدی نے جنم لیا اور وہ بھی بیرون ملک اڑان بھرنے کی سوچنے لگے۔

دوسری جانب توانائی کے بحران نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور فیکٹریوں میں پیداواری رفتار سست پڑنے سے بیروز گاری کا عفریت مزید بڑھنے لگا۔ اب جب آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد نہ صرف شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں شہریوں نے سکون کا سانس لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خوش کن خبر نے سرمایہ کاروں میں امید کی نئی کرن کو جنم دیا ہے، جس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آیندہ مالی سال 2015-16 کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے فاٹا میں نئی صنعتوں کے قیام پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ہفتہ کو فاٹا سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں کے وفد نے چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات میں صنعتوں کے حوالے سے درپیش مسائل اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے باعث ہونیوالے نقصانات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ فاٹا میں جو سرمایہ کار نئی صنعت لگائیں گے انھیں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے گی اس کے علاوہ وہاں صنعتوں کے فروغ کے لیے انڈسٹری میں استعمال ہونیوالے خام مال پر بھی رعایت دی جائے گی۔ ذرایع کے مطابق اس کو بجٹ کا باقاعدہ حصہ بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے تاہم حتمی فیصلہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک اجلاس میں کریں گے۔

سیاسی ماہرین ایک عرصے سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ملک میں جنم لینے والی دہشت گردی کے پس منظر میں ایک عنصر غربت اور جہالت بھی ہے، پسماندہ علاقوں میں دہشت گردی کے فروغ پانے کے امکانات خوش حال علاقوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں۔ اگر ان علاقوں میں صنعتیں لگائی جائیں روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں' تعلیم اور صحت سمیت عوام کے بنیادی وسائل پر توجہ دی جائے تو یہاں سے جنم لینے والی دہشت گردی پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے کیونکہ دہشت گردی کو فروغ دینے والا مافیا انھیں علاقوں کا رخ کرتا اور یہاں کے غریب اور بیروز گار نوجوانوں کو معمولی رقم کے عوض دہشت گردی پر باآسانی آمادہ کر لیتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے قبائلی اور فاٹا کے علاقے باالخصوص دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکے ہیں۔

فاٹا میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئی صنعتوں کے قیام میں ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا فیصلہ قابل تحسین ہے اس سے اس علاقے میں روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہونے سے خوشحالی آئے گی۔ یہاں پر رائج ایف سی آر کے قانون کا بھی خاتمہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔جب مقامی سطح پر عام آدمی بھی سیاسی عمل میں شریک ہوگا تو اس سے اس کے نہ صرف سیاسی شعور میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ ملکی ترقی کی دوڑ میں بھی دل و جان سے شریک ہو گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ عوامی سطح پر شہریوں کا زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کیا جائے، عام شہری جس قدر زیادہ متحرک اور فعال ہوں گے ملکی ترقی میں وہ اتنا ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ اگر حکومت ملک بھر کے تمام پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کے قیام کے لیے انھیں ٹیکس فری زون قرار دے دے اور وہاں زیادہ سے زیادہ بنیادی سہولتیں فراہم کرے تو اس سے ان علاقوں میں نہ صرف خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے بلکہ وہ دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر بھی کمزور پڑ جائیں گے۔

دریں اثناء بلوچستان میں دو روزہ سرمایہ کاری کانفرنس جمعہ کو اختتام پذیر ہو گئی جس میں 26 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار گروپوں اور بینکوں کے نمایندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بلوچستان کے وسائل کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا اور سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔ بلوچستان کے سیاسی حلقوں کو یہ شکایت رہی کہ ان کے علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ راغب کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دینی چاہئیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کا عمل جتنا تیزی سے فروغ پائے گا پسماندگی اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائے گی اور یہاں کے علاقوں کے شہریوں کی مرکز سے انھیں نظر انداز کیے جانے کی شکایات بھی دم توڑ دیں گی۔اب چین کے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے معاہدے کرنے کے بعد حکومت کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا یہ بہترین موقع ہے جسے روایتی پالیسی اور تساہل پسندی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔