مجھے تو بجلی کے درد سے نجات مل گئی
رات کا سماں تھا‘ مچھروں کے نغمے چاروں طرف سنائی دے رہے تھے ہوا میں جگنو ’’بھونک‘‘ رہے تھے
QUETTA:
رات کا سماں تھا' مچھروں کے نغمے چاروں طرف سنائی دے رہے تھے ہوا میں جگنو ''بھونک'' رہے تھے اور گاؤں کے کتے ''چمک'' رہے تھے، نیا ملائم ریشمی اندھیرا پسینے پسینے ہو رہا تھا اور جسم پر قطرے پھوٹ رہے تھے اور ہم نہایت سر میں مچھروں کے دھن پر گا رہے تھے
سارے بدن کا خون پسینے میں ڈھل گیا
اتنا چلے کہ جسم ہمارا پگھل گیا
کہ اتنے میں اچانک سر پر لٹکا ہوا بلب چمک اٹھا اور سامنے پڑا ہوا پنکھا گھومنے لگا، آنکھوں میں بے پناہ چبھن اور گرم ہوا کے تھپیڑے لیکن خدا کا شکر ہے کہ بلب صرف ایک بار چمکا اور پنکھا ایک ہی چکر گھوما اور پھر نجات دہندہ آ گیا اور ہمیں بجلی کے درد سے نجات مل گئی، سلام لوڈ شیڈنگ، ویلکم اندھیرے، فٹے منہ بجلی، ہم پہ احسان جو نہ کرتی تو یہ احسان ہوتا، بی بجلی ہم لنڈھورے ہی بھلے، رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت، اگر آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ ہم واہی تباہی بک رہے ہیں تو ٹھیک ہی لگ رہا ہے کیوں کہ اس وقت ہم اپنے خیالوں کی ٹائم مشین میں بیٹھ کر آنے والے سالوں میں پہنچے ہوئے ہیں اور اس لیے پہنچے ہوئے ہیں کہ اب کے ''بی بجلی'' نے جو چاند سا ''کلوٹا'' عرف لوڈ شیڈنگ جنم دیا ہے اس کے پاؤں پالنے میں صرف نظر نہیں آ رہے ہیں بلکہ پالنے سے باہر لٹکنے لگے ہیں اور اگر مائی نے اچھی طرح پالن پوسن کی تو پھر جدھر دیکھئے ادھر یہ ہی یہ ہو گا مطلب یہ کہ ابھی گرمی ''دلی'' جتنی دور است اور
اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے
جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے
ہم نے اپنی طرف سے کافی غور کیا بلکہ اپنے ذاتی غور کے ٹب میں خوب ''غورائے'' اور ''حوضائے'' بھی، لیکن اس سوال کا جواب نہیں ملا جو ہم ابھی آپ کے متھے مارنے والے ہیں لیکن اس سے پہلے تھوڑا سا اپنے پرسنل ''غور کے ٹب'' کے بارے میں بھی بتائے دیتے ہیں ویسے تو پرانے زمانے میں غور کے ایسے ٹب ہر گھر میں ہوتے تھے لیکن وزیروں باتدبیروں کے گھروں میں غور کا یہ ٹب لازمی ہوتا تھا یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب پورے ملک اور بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور باتدبیر بھی ہوتا تھا ایسے وزیر لوگ اپنے گھروں میں غور کا ٹب ضرور رکھتے تھے جو ٹوٹی ہوئی ادوائن اور ڈھیلی بان کی ایک گہری چارپائی کی شکل میں ہوتا تھا، اس غور کے ٹب کے بارے میں تفصیل بتانے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ آج کل اس کے بجائے غور کے حوضوں اور سوئمنگ پولوں کا رواج ہے کیونکہ ایک بالشت مربع ملک کے بھی سو ڈیڑھ سو وزیر ہوتے ہیں جیسے اگر پاکستان کے وفاقی صوبائی وزیروں، مشیروں اور ان کے شہیروں کو جمع کیا جائے اور پھر اس میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے وزیر بھی شامل کیے جائیں تو صرف ان کو گننے کے لیے ایک نئی وزارت کی ضرورت پڑ جائے گی۔
نشہ تو نشہ ہوتا ہے ہم نے ایک مرتبہ آپ کو یہ تو بتایا تھا نا کہ پشاور کے ایک بالا خانے کی ایک چھوٹی سی بالکنی میں ہم ایک بوڑھے آدمی کو دیکھتے تھے جو اپنے سامنے ایک سبز گھاس پر مشتمل گملہ لٹکائے خود کو چمن میں محسوس کرتا تھا، چنانچہ ہمیں بھی وزیروں کا کچھ ''اور'' تو میسر نہیں ہے نہ ہی ہماری پشتوں میں کوئی وزیر گزرا ہے اور نہ آیندہ چودہ پشتوں تک گزرنے کا امکان ہے اس لیے سوچا کچھ اور نہ سہی ایک غور کا ٹب ہی سہی اپنے بے پناہ نشے کے لیے دو پیسے کی افیون بھی بہت ہے ہمارے غور کا یہ ٹب ایک دیوار کے سائے میں ہے کیوں کہ اس کے دو پایوں کی جگہ ہم نے اینٹیں رکھی ہوئی ہیں، جب سے نئے سیزن کا نیا لوڈ شیڈنگ سلمہ اپنے نئے سلے ہوئے کالے چمک دار سوٹ میں وقت سے پہلے جلوہ گر ہوئی ہے تب سے ہم غور کے اس ٹب میں غوطے لگا رہے ہیں کہ یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے اگر ٹریلر یہ ہے تو فلم کیا ہو گی
سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا
لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے
یعنی ابتدائے عشق میں ساری رت جاگے، اللہ جانے کیا ہو گا آگے مولا جانے کیا ہو گا آگے، شاید وہی ہو جس کا نقشہ ہم نے ابتداء ہی میں کھینچنے کی کوشش کی ہے یعنی ممکن ہے کہ چند سال گزرنے پر لوگ لوڈ شیڈنگ کے اتنے عادی بلکہ رسیا ہو جائیں گے کہ بجلی کے آنے پر تکلیف محسوس کرنے لگیں، اور اس میں کوئی تعجب کی بات بھی نہیں انسان کسی بھی چیز کا عادی ہو جائے پر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ ایک بہت پرانا انڈین قوالی نما گانا تھا اب یاد نہیں کہ کس کی آواز میں تھا لیکن اس میں پروانہ کہتا ہے کہ میں روشنی کا عاشق نہیں بلکہ میں تو عاشق ہوں رات کی سیاہی کا، اور چونکہ روشنی میرے محبوب اندھیرے کو مجروح کرتی رہتی ہے اس لیے میں اس روشنی کو بجھانے کے لیے اس پر حملہ بلکہ خودکش حملہ کرتا ہوں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کا پہلا خودکش پروانہ یا پتنگا ہوتا ہے اب اگر خدانخواستہ ''حکومت خواستہ'' لوگ لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے کے عادی ہوگئے تو ظاہر ہے کہ بجلی دشمن کے زمرے میں چلی جائے گی۔
جہاں تک عادی ہونے کا تعلق ہے تو پانی اور ہوا دونوں ہی بے ضرر چیزیں ہیں لیکن کچھ مخلوقات پانی کے اندر رہ کر مر جاتی ہیں اور کچھ پانی سے نکل کر ہوا میں مر جاتی ہیں، کسی پرانی تاریخ میں پڑھا تھا کہ ہمالیہ کے جنگلات میں کچھ ایسے انسان پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کو جنگلات سے باہر لایا جائے تو وہ مر جاتے ہیں اور اگر عام لوگ ان جنگلات میں چلے جائیں تو وہاں کی زہریلی ہوا انھیں مارے دے گی حالانکہ وہاں کے باسی اس میں آرام سے رہتے ہیں، یقیناً ہماری حکومتوں میں شامل غور کے سوئمنگ پولوں اور غور کے حوضوں والوں کا بھی یہی منصوبہ ہے کہ اگر انسان بھی رات کی سیاہی کا عاشق ہو جائے تو کتنا اچھا ہو گا یہ ڈیم یہ بجلی گھر یہ توانائی کے لیے تگ ودو، یہ بجلی کے بیش قیمت آلات وغیرہ ان سب سے انسان کو نجات مل جائے گی اور وہ فوراً پکار اٹھے گا شکریہ لوڈ شیڈنگ مجھے تو بجلی کے درد سے نجات مل گئی ہے۔
اگر یہ بات نہیں ہے تو آخر وہ کیا چیز ہے جو پاکستان میں توانائی کے حصول کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے پہلے ہمارا بھی خیال تھا کہ شاید غربت اور پیسے کی کمی آڑے آ رہی ہے اور نئے ڈیم یا بجلی گھر بنانے میں ''پیسے کی کمی'' کو دخل ہو لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا پاکستان کے پاس تو اتنی دولت ہے اتنا پیسہ ہے اور اتنا مال ہے کہ ستر سال سے لگاتار دونوں ہاتھوں سے ادھر ادھر پھینکا جا رہا ہے بلکہ انکم سپورٹ اسکیموں، وزیر اعظموں اور وزیر اعلوں اور مردوں کے ''روزگار'' اسکیموں پر بے تحاشا خرچ کیا جا رہا ہے 'صرف ایک بے نظیر انکم سپورٹ میں آج تک کم از کم کئی ڈیموں کی رقم کھپائی جاچکی ہوگی ہر حکومت اپنے صوابدیدی اور ثواب لیلی فنڈز کے ذریعے اتنا لٹاتی ہے جیسے کوئی نواب کسی منظور نظر طوائف کے کوٹھے پر بیٹھا ہو۔
ہر وزیر ہر منتخب نمایندہ ہر افسر تقریباً ہر محکمے میں اپنی ''سواریاں'' بلا ضرورت بٹھائے جا رہا ہے اور ''ترقیاتی کاموں'' کا تو کہنا ہی کیا منتخب نمایندوں وزیروں کونسلروں سینیٹروں کو یہ جھولیاں بھر بھر کر دیا جا رہا ہے کہ اگر گلی کوچوں میں جگہ نہ ہو تو اپنے ''پیٹ'' کے اندر سڑکیں بناؤ، گلیاں اور نالیاں پختہ کراو، حتیٰ کہ ترقیاتی فنڈز کو کھپانے کی کوئی جگہ ہی باقی نہیں بچی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے اور بجلی پیدا کرنے میں کم از کم پیسہ تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے سوائے اس کے اور کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ حکومت کا پروگرام ہی بجلی کے درد سے نجات پانا ہو۔