سیاسی قیادت تک رسائی کا منطقی راستہ

ہماری سیاست میں جو اندھیر مچی ہوئی ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari May 07, 2015
[email protected]

KARACHI: ہماری سیاست میں جو اندھیر مچی ہوئی ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ سیاسی قیادت تک رسائی کے لیے ٹارزن کلچر ہے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں سیاسی قیادت نچلی سطح سے ابھاری جاتی ہے یعنی کوئی بندہ اس وقت تک ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا جب تک وہ بلدیاتی نظام کے ذریعے طویل عرصے تک عوام کی خدمت کا ریکارڈ نہ رکھتا ہو۔

ان ملکوں میں کسی صدر یا وزیر اعظم کا بیٹا، بیٹی، بھائی، بھتیجا، رشتوں اور دولت کی ٹہنیوں سے لٹک کر ٹارزن کی طرح عوام کے سروں پر مسلط نہیں ہوتا بلکہ سیاسی قیادت تک پہنچنے کے لیے عوامی خدمات اور سیاسی تربیت کے اصلی سرٹیفکیٹ ساتھ لاتا ہے۔ ہمارے ملک کی انتہائی افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ سیاسی قیادت تک رسائی کے لیے نہ کسی بلدیاتی خدمات کی ضرورت ہے نہ سیاسی تجربات کی بلکہ اعلیٰ ترین سیاسی قیادت تک جمپ لگانے کے لیے کسی ''معروف سیاستدان'' کا بیٹا، بیٹی ہونا کافی ہے۔

قانون ساز ادارے جمہوریت میں عوام کے نمایندے ہوتے ہیں ان اداروں میں سیاسی جماعتوں کی نمایندگی ایم این اے اور ایم پی اے حضرات کرتے ہیں اگر آپ ہمارے قانون ساز اداروں پر نظر ڈالیں تو آپ کو حکمران طبقات کی اولاد بھائی بندوں کی بھیڑ نظر آئے گی۔ انتخابات کے موقعے پر ہر سیاسی اور مذہبی جماعت اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دیتی ہے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دیتے وقت دیکھتی ہیں کہ جس کو انتخابی ٹکٹ دیا جا رہا ہے اس کی عوامی خدمات کیا ہیں اس کا سیاسی تجربہ کیا ہے اس میں قانون ساز اداروں میں بیٹھنے کی اہلیت ہے بھی یا نہیں۔ جب کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملکوں میں انتخابی ٹکٹ دینے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکمران طبقات سے اس کا رشتہ کیا ہے۔

وہ اپنی سیاسی قیادت کا کس حد تک وفادار ہے اس میں بدعنوانیوں کی صلاحیت کتنی ہے وہ دھونس دھاندلی اور ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے انتخابات جیتنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے وہ پارٹی کے لیے کتنا فنڈ دے سکتا اور دلا سکتا ہے وہ میڈیا میں لیڈر شپ کی بدعنوانیوں اور کرپشن کا دفاع کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈیا میں عوام سے جھوٹے وعدے کرنے کی اس میں کتنی صلاحیت ہے اور جھوٹ بولنے کی اس میں کتنی صلاحیت ہے؟

اگر آپ ملکی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ اکثر پارلیمانی پارٹیوں کی سیاسی قیادت ایک ہی خاندان کے ہاتھوں میں ہے۔ ہر پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے بال پارٹی خدمات میں سفید ہوگئے ہیں جن کی کمر ''پارٹی کے کام'' کرتے کرتے جھک گئی ہے لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک ان کی رسائی اس لیے ممکن نہیں کہ ان کا خونی رشتہ کسی حکمران سے نہیں۔

اس سیاست کا ایک قابل اعتراض قابل مذمت پہلو یہ ہے کہ حکمران ایلیٹ محض خونی رشتوں کے حوالے سے اپنی اولاد کو قانون ساز اداروں کے ممبر منتخب کرا لیتی ہے اور ان نااہلوں کو عوام میں مقبول بنانے کے لیے مختلف شعبوں کی سربراہی انھیں دے کر اربوں کے فنڈ ان نااہلوں کے حوالے کردیتی ہے جو اس فنڈ کو یا تو اپنی مقبولیت کے لیے استعمال کرتے ہیں یا پھر یہ بھاری رقوم کرپشن کی نذر ہوجاتی ہے کوئی حکمران اپنی اولاد کو عوام میں کروڑوں کے لیپ ٹاپ بانٹنے کی ڈیوٹی دے کر عوام میں یہ تاثر دے رہا ہے کہ لیپ ٹاپ کی رقم عوام کی نہیں بلکہ ان کی کمائی ہوئی ہے۔

کوئی عوام کے پیسے سے عوام کے نام پر اپنے بندوں میں آٹو رکشہ مفت تقسیم کرکے سخاوت کے دریا بہا رہا ہے تو کوئی حکمران عوام کے نام پر خواص کو ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی مفت بانٹ کر قومی خدمت کے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ تو کوئی 5-5 لاکھ میں معمولی نوکریاں بیچ کر بے روزگاری دور کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

یہ وہ کلچر ہے جس نے ہماری سیاست ہماری جمہوریت کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی پارٹی، کوئی مذہبی جماعت، کوئی سیاسی رہنما، کوئی مذہبی رہنما ایسا نظر نہیں آتا جو اس گند کے خلاف، اس سیاسی بددیانتی، اس سیاسی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرے۔

پسماندہ ممالک میں ہر مرکزی اور صوبائی حکومت میں ایک انفارمیشن ڈپارٹمنٹ ہوتا ہے جس کا اصلی کام حکومتوں کی کارکردگی سے عوام کو باخبر رکھنا ہوتا ہے لیکن یہ محکمے اپنے اربوں کے فنڈز کو حکمرانوں اور ان کی اولاد کی پبلسٹی پر اڑا دیتے ہیں اخبارات ٹی وی پر کروڑوں روپے حکمرانوں کی بے معنی پبلسٹی پر خرچ کردیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کے اس بے جا مصرف پر کوئی سیاسی جماعت کوئی سیاسی رہنما آواز اٹھاتا ہے؟

یہ سیاسی عیاشی یہ قومی دولت کا زیاں ان ملکوں میں ہو رہا ہے جن ملکوں میں 50-40 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جہاں بھوک سے تنگ آئے ہوئے عوام انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں جہاں مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ مڈل کلاس چائے روٹی سے ناشتہ کرتی ہے۔ جہاں بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے صنعتکار، سرمایہ کار سستی لیبر کی دستیابی کی وجہ یہاں اپنی صنعتیں قائم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

جہاں علاج معالجے کی حالت یہ ہے کہ لاکھوں بچے بڑے عورتیں مرد علاج کی سہولتوں سے محرومی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، جہاں تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ کروڑوں بچے تعلیمی اخراجات سے محرومی کی وجہ سے چائلڈ لیبر بننے پر مجبور ہیں اور جرائم کی دنیا میں پناہ لے رہے ہیں۔ جہاں معاوضے کے عوض ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے۔

یہ وہ بیماریاں ہیں جو قومی جسم سے لپٹی اور چمٹی ہوئی ہیں ہر حکمران کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ وہ ملک کو ترقی کی طرف لے جا رہا ہے۔ اگر ترقی اس کا نام ہے تو پھر تنزلی کس کو کہتے ہیں؟

اس بددیانتانہ کرپٹ سسٹم کو بدلنے کی پہلی کوشش یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی قیادت کو چند خاندانوں کی میراث سے نکال کر ترقی یافتہ جمہوری ملکوں کا طریقہ اختیار کیا جائے کسی سیاسی کارکن سیاسی رہنما کسی حکمران خاندان کے نور نظر کو قانون ساز اداروں تک پہنچنے سیاسی قیادت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے شرط اول قانونی طور پر یہ لگائی جائے کہ جب تک کوئی شخص خواہ اس کا تعلق کسی پارٹی کسی حکمران خاندان سے کیوں نہ ہو بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کامیاب ہوکر عوام کی خدمت اور سیاسی تجربہ حاصل نہ کرے نہ اسے ایم این اے بننے دیا جائے گا نہ ایم پی اے نہ سینیٹر۔

مقبول خبریں