دنیا ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتی
یہ قرارداد منصفانہ بھی ہے اور جمہوری بھی لیکن بھارت ان قراردادوں پر عملدرآمد سے اس لیے انکار کر رہا ہے
ISLAMABAD:
اقوام متحدہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ''پوری دنیا کہیں بھی ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کے حق میں نہیں ہے۔'' جان کیری نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ امریکا کے وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جو ایٹم بم گرائے تھے اس کے بعد دنیا کے اکابرین کو یہ احساس ہوا کہ ایٹمی ہتھیار انسانی زندگی کے لیے کس قدر تباہ کن ہوتے ہیں اس تجربے کے بعد ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر مکمل پابندی عائد کر دی جاتی لیکن ہوا یہ کہ ایٹمی ہتھیاروں کو زیادہ تباہ کن بنانے پر کام ہونے لگا اور اس نیک کام میں خود امریکا پیش پیش رہا۔
اس نفسیات نے ہندوستان اور پاکستان جیسے انتہائی پسماندہ ملکوں کو بھی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی ترغیب فراہم کی ، جہاں 40 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری جنگ کے تجربے کے بعد دنیا کے اکابرین نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کیا جس کے ارکان میں ہندوستان اور پاکستان دونوں شامل ہیں اور اس کے چارٹر سے متفق بھی ہیں اقوام متحدہ نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے قراردادیں بھی پاس کی ہیں، جس کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے کشمیر میں رائے شماری کرائی جانی چاہیے۔
یہ قرارداد منصفانہ بھی ہے اور جمہوری بھی لیکن بھارت ان قراردادوں پر عملدرآمد سے اس لیے انکار کر رہا ہے کہ یہ قراردادیں اب پرانی ہو چکی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ قراردادیں ہندوستان کے مفادات سے متصادم ہیں۔ اقوام متحدہ دنیا کے ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرانے کا ایک وسیلہ ہے اگر دنیا کا کوئی ملک محض اپنے مفادات کی خاطر اقوام متحدہ کے فیصلوں سے روگردانی کا مرتکب ہوتا ہے تو پھر دنیا کے تنازعات حل کرنے کا ذریعہ جنگ ہی رہ جاتا ہے اور جب متحارب ملک ایٹمی ہتھیار بھی رکھتے ہوں تو پھر ایٹمی جنگوں کے خطرے سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی ہر قیمت پر ایران کو ایٹمی ملک بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک نیک خواہش ہے لیکن ایران کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل کے پاس انتہائی طاقتور ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ کیا امریکا اور اس کے محترم اتحادیوں نے کبھی اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کر دے۔ اسرائیل نے یہ ایٹمی ہتھیار دوسری عالمی جنگ کے بعد ہی تیار کیے ہیں۔ کیا امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ احساس نہیں تھا کہ عرب ملکوں کے درمیان بیٹھے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیار اس خطے کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اگر مغربی ملکوں کو یہ اندازہ اور احساس تھا تو پھر انھوں نے اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے اسی طرح کیوں نہیں روکا جس طرح وہ ایران کو روک رہے ہیں؟
ایٹمی ہتھیار بلاشبہ ساری دنیا کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک ایسی تلوار ہیں جو کسی بھی وقت کسی بھی وجہ سے دنیا کے سر پر گر کر دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں کہا جاتا ہے کہ آج دنیا کے مختلف ممالک کے پاس جتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ان کے استعمال سے دنیا کو سیکڑوں بار تباہ کیا جا سکتا ہے۔ کرہ ارض پر انسانی زندگی کے لیے لاحق اس سب سے بڑے خطرے کا ازالہ کیا صرف ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک کر کیا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں بلکہ دنیا کو ایٹمی خطرے سے نجات دلانے کے لیے دنیا سے ایٹمی ہتھیار کے نام و نشان کو مٹانا پڑے گا کیا اس نیک کام کی ابتدا اسرائیل سے کی جانی چاہیے جو ایٹمی جنگ کے امکانات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بجا طور پر کہا ہے کہ ''پوری دنیا کہیں بھی ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کے حق میں نہیں ہے۔'' اس حق گوئی کے بعد فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار کہاں کہاں اور کس کس کے پاس کتنی تعداد میں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ روس اور امریکا ہی دو ایسے ملک ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ روس اور امریکا میں ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کا معاہدہ ہوا ہے لیکن یہ تخفیف اس قدر سست رفتار ہے کہ اس پر مکمل عملدرآمد تک صدیاں بھی لگ سکتی ہیں اور بڑے ملکوں کے اقتصادی مفادات کو اس قدر اولیت حاصل ہے کہ جب بھی ان کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو گا تخفیف اسلحہ کا یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔
اگر دنیا کسی بھی جگہ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کے خلاف ہے تو جمہوریت کا تقاضا ہے کہ دنیا کی رائے کا احترام کرتے ہوئے بلاتاخیر ایٹمی ہتھیاروں کو مکمل طور پر تلف کرنے کا بندوبست کیا جائے اور یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کے بجائے انھیں مکمل طور پر تلف کرنے کا بڑے ملکوں بلکہ تمام ایٹمی ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ کیا جائے جس میں ٹائم فریم لازمی ہو اس قسم کے معاہدوں کے لیے بڑے ملکوں کو اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات سے باہر آنا ہو گا۔
بھارت نے جب پوکھران میں ایٹمی تجربہ کیا تو مجھے اس کی سنگینی کا احساس ہوا میں نے فوری اپنے دوستوں جن میں کرامت علی، یوسف مستی خان خاص طور پر قابل ذکر ہیں سے کہا کہ کوئی ایسی تنظیم بنائی جائے جو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات اور تیاری کے خلاف تحریک چلائے چنانچہ جلد ہی ایک اینٹی ایٹمی ہتھیار تنظیم بنائی گئی اور وہ کچھ عرصے تک متحرک بھی رہی لیکن پاکستان کی طرف سے چاغی میں ایٹمی تجربات نے اس تنظیم کے وجود اور کارکردگی پر سوال کھڑا کر دیا۔ معروف این جی اوز جو اپنے وسائل اپنی توانائیاں نان ایشوز پر لگا دیتی ہیں وہ دنیا کے اس سب سے خطرناک مسئلے پر لگائیں اور بڑے ملکوں کی مفاد پرستیوں کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تلفی کے لیے ایک منظم اور موثر تحریک چلائیں۔