عظمتِ شہر رسول ﷺ

اس پاکیزہ سرزمین پر نبیﷺ کی آمد سے پہلے بیماریوں، مشکلات، مصائب و آلام نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔


Sumair Arani October 12, 2012
اس پاکیزہ سرزمین پر نبیﷺ کی آمد سے پہلے بیماریوں، مشکلات، مصائب و آلام نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ فوٹو فائل

مدینۂ منورہ شہر النبیؐ ہے، یعنی حضور نبی کریمﷺ کا شہر۔ اس مقدس شہر کو دنیا کے دیگر شہروں اور علاقوں پر بہت سی خوبیوں کی وجہ سے برتری و فضیلت حاصل ہے مگر اس کی عظمت و عزت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ مدینۃ الرسول ہے اور اسے نسبت رسول حاصل ہے۔

اس مقدس اور پاکیزہ شہر میں رحمت للعالمینﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ سارا سال لاکھوں زائرین پیارے آقاﷺ کے روضے کی زیارت کے لیے اس مقدس سرزمین پر نہایت ادب و احترام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔
مدینۂ پاک مسلمانان عالم کی توقیر و عقیدت کا مرکز ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں بسنے والوں کے دلوں میں اس شہر کو دیکھنے اور اس کی زیارت کرنے کی تڑپ ہے اور یہ تڑپ حاضری روضۂ رسولؐ کے لیے ضروری ہے۔ یہ اسی شہر رسولؐ اور عشق رسولؐ کی کشش اور محبت کا نتیجہ ہے کہ عاشقانِ رسول ﷺ دن رات اس دیار پاک میں حاضری کی اور اسی شہر میں مدفون ہونے کی تمنا کرتے اور دعائیں مانگتے نظر آتے ہیں۔ اس پاکیزہ سرزمین پر نبیﷺ کی آمد سے پہلے بیماریوں، مشکلات، مصائب و آلام نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اس زمانے میں یہ شہر یثرب کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اس دور میں یہاں آنے والے اکثر لوگ بیماریوں اور آلام میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ مگر جب اس شہر میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو آپؐ کے قدموں کی برکات سے سرزمین یثرب، مدینہ طیبہ میں بدل گئی اور پھر یہی مدینہ پاک ، گل و گلزار اور رشک بہشت بن گیا۔ بلاشبہہ یہ آپؐ کی دعاؤں کی تاثیر تھی کہ وبائی امراض کی آماج گاہ یہ شہر دارالشفا میں بدل گیا اور اس کی مٹی تک خاک شفا بن گئی۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی عازمین حج کے قافلے بیت اﷲ اور روضۂ رسولﷺ کے مہمان بننے کے لیے جوق در جوق دنیا کے کونے کونے سے محو سفر ہیں۔

یہ لوگ مناسک حج کی ادائیگی کی تڑپ اور پیارے آقاﷺ کے روضے کے دیدار کی تڑپ لیے رواں دواں ہیں۔ روضۂ اقدسﷺ پر پہنچ کر ندامت سے بھرے اشک، سسکیاں اور آہیں چاروں طرف سنائی دیتی ہیں۔ اپنے گناہوں کی معافی اپنے امتی ہونے کے واسطے اور رسول کے صدقے سے مانگی جاتی ہیں۔ عاشقان رسول روضۂ مبارک کی جالیوں کا کھلی آنکھوں سے نظارہ کرتے ہیں اور اپنے عشق کی پیاس کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
نبیﷺ کے شہر کی فضیلت احادیث میں بھی ملتی ہے۔

رسول مکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے:''میں روز قیامت بارگاہ خداوندی میں ایسے لوگوں کی گواہی دوں گا اور ان کی شفاعت کروں گا جو میرے روضے کی زیارت کرنے والے اور مدینے میں نازل ہونے والی بلاؤں پر صبر کرنے والے تھے۔ اور جنت میں یہ لوگ میری قربت میں ہوں گے۔''

سبحان اﷲ! اس ارشاد پاک کے بعد کس کا دل اس عظیم شہر کی زیارت کرنے کو نہیں چاہے گا، اور کون ایسا ہوگا جو وہاں جا کر واپسی کی تمنا کرے گا؟ ایسا کون ہوگا جو وہاں جاکر مرنے اور پھر وہیں مدفون ہونے کی آرزو نہ کرے گا۔ یہی وہ مقدس سرزمین ہے جس نے مہاجر و انصار کا فرق مٹا ڈالا۔ جس نے رنگ و نسل کی تمیز کو بالائے طاق رکھ دیا۔ جس نے گورے و کالے، آقا و غلام سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے ایثار اور بھائی چارے کی وہ بنیاد ڈالی جس نے ایک مہذب دنیا کی بنیاد رکھ دی۔ اس نور کی کرنوں سے نہ صرف عرب و عجم بلکہ دنیا کے سبھی گوشے منور ہوئے۔ آپؐ کے قدم بوسی کے بعد یہ زمین اور اس کی مٹی بیمار انسانیت کے اکسیر بن گئی۔ رب کریم سے دعا ہے کہ ہمارے قلب و نظر کو بھی تڑپ مدینہ عطا فرمائے اور اس شہر مقدس کی عقیدت و محبت کو ہمارے سینوں میں موجزن فرماکر اس دیار پاک کی حاضری ہم سب کے مقدر میں لکھ دے۔ آمین