کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے باعث 212پوائنٹس گرگئے

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 14.41 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ28 لاکھ83 ہزار50 حصص کے سودے ہوئے


Business Reporter May 09, 2015
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 14.41 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ28 لاکھ83 ہزار50 حصص کے سودے ہوئے فوٹو: آن لائن/فائل

KARACHI: وفاقی بجٹ2015-16 میں نئے ٹیکسز عائد ہونے کی اطلاعات، نئی مانیٹری پالیسی سے متعلق پھیلنے والی منفی افواہوں اور خام تیل کی عالمی قیمت کم ہونے جیسے عوامل کراچی اسٹاک ایکس چینج کی نفسیات پر چھائے رہے اورجمعہ کو بھی مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی33700 اور33600 پوائنٹس کی دوحدیں بیک وقت گرگئیں۔

مندی کے سبب53 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 51 ارب 5 کروڑ93 لاکھ24 ہزار864 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 37 لاکھ79 ہزار290 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں اگرچہ کاروبار میں تیزی رونما نہ ہوسکی لیکن مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے بچ گئی جبکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے11 لاکھ20 ہزار601 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے12 لاکھ74 ہزار345 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے13 لاکھ84 ہزار345 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس212.58 پوائنٹس کی کمی سے 33530.30 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 156.26 پوائنٹس کی کمی سے21579.85 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 384.78 پوائنٹس کی کمی سے 55123.86 ہوگیا۔ کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 14.41 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ28 لاکھ83 ہزار50 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار337 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔ جن میں141 کے بھائو میں اضافہ، 178 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں سیمنس پاکستان کے بھائو 39.71 روپے بڑھ کر 1155.71 روپے اور ہینو پاک موٹرز کے بھائو 37.23 روپے بڑھ کر 1040.05 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھائو200 روپے کم ہوکر 10000 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو170 روپے کم ہوکر 3230 روپے ہوگئے۔