مستحکم بینکاری بجلی بحران میں معاون ہوسکتی ہے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک

مستحکم بینکاری بجلی کی موجودہ قلت پر قابو پانے اور اقتصادی پیداوار بڑھانے کی حکومتی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔


Business Reporter May 09, 2015
ماحول دوست اور مستحکم بینکاری بجلی کی موجودہ قلت پر قابو پانے اور اقتصادی پیداوار بڑھانے کی حکومتی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک۔ فوٹو : فائل

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سعید احمد نے پاکستان میں ماحولیاتی اور سماجی خطرے کے انتظام سے متعلق بیس لائن سروے کا آغاز کرنے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔

یہ سروے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی اور سماجی پیمانے قرضے، واجبات اور ساکھ کے خطرات کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور اگر ان کا بروقت اور مناسب انتظام نہ کیا جائے تو یہ اقتصادی کارکردگی اور کسی مالی ادارے کے طویل مدتی استحکام پر خاصا سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست اور مستحکم بینکاری بجلی کی موجودہ قلت پر قابو پانے اور اقتصادی پیداوار بڑھانے کی حکومتی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

ای ایس آر ایم سروے 17 ممالک میں کیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک پاکستان میں سروے کی تکمیل کے لیے آئی ایف سی کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ سروے کے نتائج اسٹیٹ بینک کے لیے بینکاری معمولات اور خدمات کی ترویج کی خاطر قواعد بنانے اور دوسرے ترقیاتی اقدامات کرنے میںمعاون ثابت ہوں گے جس سے بینکاری طور طریقوں اور مصنوعات میں ماحولیاتی اور معاشرتی ترجیحات شامل کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ڈپٹی گورنر نے شرکا کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکاری روایات میں ماحولیاتی اور سماجی ترجیحات کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات کررہا ہے جو کہ عالمی سطح پر دیگر مرکزی کے اقدامات سے ہم آہنگ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں آئی ایف سی کے قائم کردہ نیٹ ورک بینکنگ سسٹین ایبل میں شمولیت اختیار کی ہے جو کہ بینکوں کی معمولات کے تبادلے کے لیے ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک، بینکوںمیں ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ڈپٹی گورنر نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے 2010 میں تیار کردہ ماحولیاتی اور سماجی خطرات سے نمٹنے کے لیے رہنما خطوط کو سراہا اور زور دیا کہ بینک ان ہدایات کی روشنی میں اپنے معمولات اور خدمات کو درست کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں کی انفرااسٹرکچر فنانسنگ کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ماحول دوست بینکاری کے فروغ کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کیلیے اسٹیٹ بینک کا عزم بھی دہرایا۔ آئی ایف سی کی ڈاکٹر عفیفہ ریحانہ نے کہا کہ 'ای ایس آر ایم سروے ' دنیا کے کئی ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔

اس سروے کا مقصد بینکوں کی صلاحیت اور رجحان کا جائزہ لینا، اس کی راہ میں رکاوٹوں کو سمجھنا اور مارکیٹ کی طلب کا اندازہ لگانا ہے۔حبیب بینک لمیٹڈ میں کارپوریٹ اور انوسٹمنٹ بینکاری کے سربراہ عامر ارشاد نے شرکا کو بتایا کہ حبیب بینک نے اپنی کارپوریٹ بینکاری میں ماحولیاتی اور سماجی اقدامات کا آغاز دو سال قبل کیا اور بینک اب اپنا 'ای ایس آر ایم سیٹ اپ ' قائم کررہا ہے۔ بینک الفلاح کے چیف رسک آفیسر سہیل یعقوب خان نے پاکستان میں اور دنیا بھر میں ایسے کاروباری اداروں کی متعدد حالیہ مثالیں بھی دیں۔